سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب ما جاء في الوضوء مرتين مرتين
باب: اعضائے وضو کے دو دو بار دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 43
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ هُوَ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، وَهُوَ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى هَمَّامٌ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو دو دو بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- ہم یہ جانتے ہیں کہ اسے صرف ابن ثوبان نے عبداللہ بن فضل سے روایت کیا ہے اور یہ سند حسن صحیح ہے،
۴- ھمام نے بسند «عامر الا ٔ حول عن عطاء عن ابی ہریرہ» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 43]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- ہم یہ جانتے ہیں کہ اسے صرف ابن ثوبان نے عبداللہ بن فضل سے روایت کیا ہے اور یہ سند حسن صحیح ہے،
۴- ھمام نے بسند «عامر الا ٔ حول عن عطاء عن ابی ہریرہ» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 43]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطہارة 52 (136) (تحفة الأشراف: 13940) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہمام بن یحییٰ اور عامر الاحول دونوں سے وہم ہو جایا کرتا تھا، تو ایسا نہ ہو کہ اس روایت میں ان دونوں میں سے کسی سے وہم ہو گیا ہو اور بجائے دو دو کے تین تین روایت کر دی ہو، ویسے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ایک دوسری (ضعیف) سند سے ابن ماجہ (رقم: ۴۱۵) میں ایسی ہی روایت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، صحيح أبي داود (125)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
43
| توضأ مرتين مرتين |
سنن أبي داود |
136
| توضأ مرتين مرتين |
سنن أبي داود |
140
| إذا توضأ أحدكم فليجعل في أنفه ماء ثم لينثر |
صحيح مسلم |
561
| إذا توضأ أحدكم فليستنشق بمنخريه من الماء ثم لينتثر |
سنن ابن ماجه |
445
| الأذنان من الرأس |
سنن النسائى الصغرى |
86
| إذا توضأ أحدكم فليجعل في أنفه ماء ثم ليستنثر |
صحيفة همام بن منبه |
82
| إذا توضأ أحدكم فليستنشق بمنخريه من ماء ثم لينتثر |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 43 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 43
اردو حاشہ:
1؎:
ہمام بن یحییٰ اورعامر الأحول دونوں سے وہم ہو جایا کرتا تھا،
تو ایسا نہ ہو کہ اس روایت میں ان دونوں میں سے کسی سے وہم ہو گیا ہو اور بجائے دو دو کے تین تین روایت کردی ہو،
ویسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری (ضعیف) سند سے ابن ماجہ (رقم: 415) میں ایسی ہی روایت ہے۔
1؎:
ہمام بن یحییٰ اورعامر الأحول دونوں سے وہم ہو جایا کرتا تھا،
تو ایسا نہ ہو کہ اس روایت میں ان دونوں میں سے کسی سے وہم ہو گیا ہو اور بجائے دو دو کے تین تین روایت کردی ہو،
ویسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری (ضعیف) سند سے ابن ماجہ (رقم: 415) میں ایسی ہی روایت ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 43]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 140
ناک میں پانی ڈالنا اور اسے صاف کرنا
«. . . أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْثُرْ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر جھاڑے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 140]
«. . . أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْثُرْ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر جھاڑے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 140]
فوائد و مسائل:
ناک میں پانی ڈالنا اور اسے صاف کرنا وضو کے واجبات سے ہے۔
ناک میں پانی ڈالنا اور اسے صاف کرنا وضو کے واجبات سے ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 140]
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي