سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب ما جاء لا وتران في ليلة
باب: ایک رات میں دو بار وتر نہیں۔
حدیث نمبر: 471
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مُوسَى الْمَرَئِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَعَائِشَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
ابوامامہ، عائشہ رضی الله عنہما اور دیگر کئی لوگوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 471]
ابوامامہ، عائشہ رضی الله عنہما اور دیگر کئی لوگوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 125 (1195)، (تحفة الأشراف: 18255) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نووی کے بقول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا بیان جواز کے لیے تھا، آپ ہمیشہ ایسا نہیں کرتے تھے، نہ کر سکتے تھے کہ آپ نے خود فرمایا تھا: ”وتر کو رات کی نماز (تہجد) میں سب سے اخیر میں کر دو“ تو آپ خود اس کی خلاف ورزی کیسے کر سکتے تھے، یا پھر یہ مانیے کہ یہ آپ کے ساتھ خاص تھا، اور شاید یہی وجہ ہے کہ امت کے علماء میں اس پر تعامل نہیں پایا گیا۔ واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1195)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥خيرة مولاة أم سلمة، أم الحسن خيرة مولاة أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← خيرة مولاة أم سلمة | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥ميمون بن موسى المرئي، أبو موسى ميمون بن موسى المرئي ← الحسن البصري | صدوق مدلس | |
👤←👥حماد بن مسعدة التميمي، أبو سعيد حماد بن مسعدة التميمي ← ميمون بن موسى المرئي | ثقة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← حماد بن مسعدة التميمي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
471
| يصلي بعد الوتر ركعتين |
سنن ابن ماجه |
1195
| يصلي بعد الوتر ركعتين خفيفتين وهو جالس |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 471 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 471
اردو حاشہ:
1؎:
نووی کے بقول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا بیان جواز کے لیے تھا،
آپ ہمیشہ ایسا نہیں کرتے تھے،
نہ کر سکتے تھے کہ آپ نے خود فرمایا تھا:
”وتر کو رات کی نماز (تہجد) میں سب سے اخیر میں کردو“ تو آپ خود اس کی خلاف ورزی کیسے کرسکتے تھے،
یا پھر یہ مانیے کہ یہ آپ کے ساتھ خاص تھا،
اور شاید یہی وجہ ہے کہ امت کے علماء میں اس پر تعامل نہیں پایا گیا۔
واللہ اعلم۔
1؎:
نووی کے بقول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا بیان جواز کے لیے تھا،
آپ ہمیشہ ایسا نہیں کرتے تھے،
نہ کر سکتے تھے کہ آپ نے خود فرمایا تھا:
”وتر کو رات کی نماز (تہجد) میں سب سے اخیر میں کردو“ تو آپ خود اس کی خلاف ورزی کیسے کرسکتے تھے،
یا پھر یہ مانیے کہ یہ آپ کے ساتھ خاص تھا،
اور شاید یہی وجہ ہے کہ امت کے علماء میں اس پر تعامل نہیں پایا گیا۔
واللہ اعلم۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 471]
خيرة مولاة أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي