سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب ما جاء في فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 487
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " لَا يَبِعْ فِي سُوقِنَا إِلَّا مَنْ قَدْ تَفَقَّهَ فِي الدِّينِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، عَبَّاسٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: يعقوب وهو مولى الحرقة، والعلاء هو من التابعين، سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْقُوبَ وَالِدُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ أَيْضًا مِنَ التَّابِعِينَ، سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وَابْنِ عُمَرَ، وَيَعْقُوبَ جَدُّ الْعَلَاءِ هُوَ مِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ أَيْضًا، قَدْ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَرَوَى عَنْهُ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہمارے بازار میں کوئی خرید و فروخت نہ کرے جب تک کہ وہ دین میں خوب سمجھ نہ پیدا کر لے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب یہ باپ بیٹے اور دادا تینوں تابعی ہیں، علاء کے دادا اور یعقوب کبار تابعین میں سے ہیں، انہوں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو پایا ہے اور ان سے روایت بھی کی ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 487]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب یہ باپ بیٹے اور دادا تینوں تابعی ہیں، علاء کے دادا اور یعقوب کبار تابعین میں سے ہیں، انہوں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو پایا ہے اور ان سے روایت بھی کی ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10658) (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی معاملات کے مسائل نہ سمجھ لے۔ ۲؎: اور اسی بات کو ثابت کرنے کے لیے مولف اس اثر کو اس باب میں لائے ہیں، ورنہ اس اثر کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اوپر حدیث نمبر (۴۸۵) میں علاء بن عبدالرحمٰن کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے ابوہریرہ سے روایت کی ہے یہاں انہیں سب کا تعارف مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥يعقوب مولى الحرقة يعقوب مولى الحرقة ← عمر بن الخطاب العدوي | مجهول الحال | |
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← يعقوب مولى الحرقة | ثقة | |
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل العلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل العباس بن عبد العظيم العنبري ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 487 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 487
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی معاملات کے مسائل نہ سمجھ لے۔
2؎:
اور اسی بات کو ثابت کرنے کے لیے مؤلف اس اثر کو اس باب میں لائے ہیں،
ورنہ اس اثر کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اوپر حدیث نمبر (485) میں علاء بن عبدالرحمن کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے یہاں انہیں سب کا تعارف مقصود ہے۔
1؎:
یعنی معاملات کے مسائل نہ سمجھ لے۔
2؎:
اور اسی بات کو ثابت کرنے کے لیے مؤلف اس اثر کو اس باب میں لائے ہیں،
ورنہ اس اثر کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اوپر حدیث نمبر (485) میں علاء بن عبدالرحمن کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے یہاں انہیں سب کا تعارف مقصود ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 487]
يعقوب مولى الحرقة ← عمر بن الخطاب العدوي