سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب ما جاء في صلاة الاستسقاء
باب: نماز استسقاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 557
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، عَنْ آبِي اللَّحْمِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ يَسْتَسْقِي وَهُوَ مُقْنِعٌ بِكَفَّيْهِ يَدْعُو ". قَالَ أَبُو عِيسَى: كَذَا قَالَ قُتَيْبَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ آبِي اللَّحْمِ وَلَا نَعْرِفُ لَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ، وَعُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَلَهُ صُحْبَةٌ.
آبی اللحم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجارزیت ۱؎ کے پاس اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں اٹھائے دعا فرما رہے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- قتیبہ نے اس حدیث کی سند میں اسی طرح «عن آبی اللحم» کہا ہے اور ہم اس حدیث کے علاوہ ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو
۲- عمیر، آبی اللحم رضی الله عنہ کے مولیٰ ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اور انہیں خود بھی شرف صحابیت حاصل ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 557]
۱- قتیبہ نے اس حدیث کی سند میں اسی طرح «عن آبی اللحم» کہا ہے اور ہم اس حدیث کے علاوہ ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو
۲- عمیر، آبی اللحم رضی الله عنہ کے مولیٰ ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اور انہیں خود بھی شرف صحابیت حاصل ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الاستسقاء 9 (1515)، (وہو عند أبي داود في الصلاة 260 (1168)، واحمد (5/223) من حدیث عمیر نفسہ/التحفة: 10900) (تحفة الأشراف: 5) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدینے میں ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1063)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
557
| يستسقي وهو مقنع بكفيه يدعو |
سنن النسائى الصغرى |
1515
| يستسقي وهو مقنع بكفيه يدعو |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 557 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 557
اردو حاشہ:
1؎:
مدینے میں ایک جگہ کا نام ہے۔
1؎:
مدینے میں ایک جگہ کا نام ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 557]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1515
استسقاء میں ہاتھ کیسے اٹھائے؟
آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1515]
آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1515]
1515۔ اردو حاشیہ:
➊ آبی اللحم نام نہیں لقب ہے کیونکہ یہ جاہلیت میں بتوں کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ ان کے نام کی بابت اختلاف ہے۔ بعض نے عبداللہ بن عبدالملک، بعض نے خلف اور حویرث بتایا ہے۔ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ عنہ۔
➋ احجار الزیت مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے کیونکہ وہاں پتھر سیاہ چمکدار تھے جیسے انہیں تیل ملاگیا ہو۔
➊ آبی اللحم نام نہیں لقب ہے کیونکہ یہ جاہلیت میں بتوں کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ ان کے نام کی بابت اختلاف ہے۔ بعض نے عبداللہ بن عبدالملک، بعض نے خلف اور حویرث بتایا ہے۔ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ عنہ۔
➋ احجار الزیت مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے کیونکہ وہاں پتھر سیاہ چمکدار تھے جیسے انہیں تیل ملاگیا ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1515]
عمير مولى آبي اللحم ← آبي اللحم الغفاري