سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. باب في كراهية الصلاة في لحف النساء
باب: عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنے کی کراہت۔
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَشْعَثَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي لُحُفِ نِسَائِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةٌ فِي ذَلِكَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی چادروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت بھی مروی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 600]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت بھی مروی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطہارة 134 (267)، والصلاة 88 (645)، سنن النسائی/الزینة 115 (5368)، (تحفة الأشراف: 16221) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسے کپڑوں میں نماز نہ پڑھنا صرف احتیاط کی وجہ سے تھا، عدم جواز کی وجہ سے نہیں، یہی وجہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس کپڑے کے متعلق پختہ یقین ہوتا کہ وہ نجس نہیں ہے، اس میں نماز پڑھتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں مروی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (391)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
600
| لا يصلي في لحف نسائه |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 600 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 600
اردو حاشہ:
1؎:
ایسے کپڑوں میں نماز نہ پڑھنا صرف احتیاط کی وجہ سے تھا،
عدمِ جواز کی وجہ سے نہیں،
یہی وجہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس کپڑے کے متعلق پختہ یقین ہوتا کہ وہ نجس نہیں ہے،
اس میں نماز پڑھتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں مروی ہے۔
1؎:
ایسے کپڑوں میں نماز نہ پڑھنا صرف احتیاط کی وجہ سے تھا،
عدمِ جواز کی وجہ سے نہیں،
یہی وجہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس کپڑے کے متعلق پختہ یقین ہوتا کہ وہ نجس نہیں ہے،
اس میں نماز پڑھتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں مروی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 600]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 600 in Urdu
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق