سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب كيف كان تطوع النبي صلى الله عليه وسلم بالنهار
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دن میں نفل نماز کیسی ہوتی تھی؟
حدیث نمبر: 599
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهَارِ هَذَا. وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ كَانَ يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ. وَإِنَّمَا ضَعَّفَهُ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ، لِأَنَّهُ لَا يُرْوَى مِثْلُ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ هُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ: قَالَ سُفْيَانُ: كُنَّا نَعْرِفُ فَضْلَ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَلَى حَدِيثِ الْحَارِثِ.
اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کی نفل نماز کے سلسلے میں مروی چیزوں میں سب سے بہتر یہی روایت ہے،
۳- عبداللہ بن مبارک اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے۔ اور ہمارے خیال میں انہوں نے اسے صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس جیسی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند سے۔ (یعنی: عاصم بن ضمرہ کے واسطے سے علی رضی الله عنہ سے) مروی ہے،
۴- سفیان ثوری کہتے ہیں: ہم عاصم بن ضمرہ کی حدیث کو حارث (اعور) کی حدیث سے افضل جانتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 599]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کی نفل نماز کے سلسلے میں مروی چیزوں میں سب سے بہتر یہی روایت ہے،
۳- عبداللہ بن مبارک اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے۔ اور ہمارے خیال میں انہوں نے اسے صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس جیسی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند سے۔ (یعنی: عاصم بن ضمرہ کے واسطے سے علی رضی الله عنہ سے) مروی ہے،
۴- سفیان ثوری کہتے ہیں: ہم عاصم بن ضمرہ کی حدیث کو حارث (اعور) کی حدیث سے افضل جانتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن)»
الرواة الحديث:
Sunan at-Tirmidhi Hadith 599 in Urdu
عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي