سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب ما جاء في السعى بين الصفا والمروة
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 864
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي السَّعْيِ، فَقُلْتُ لَهُ: " أَتَمْشِي فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، قَالَ: لَئِنْ سَعَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَلَئِنْ مَشَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوُهُ.
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو سعی میں عام چال چلتے دیکھا تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ صفا و مروہ کی سعی میں عام چال چلتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے بھی دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے بھی دیکھا ہے، اور میں کافی بوڑھا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عمر سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 864]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عمر سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الحج 56 (1904)، سنن النسائی/الحج 174 (2979)، سنن ابن ماجہ/المناسک 43 (2988)، (تحفة الأشراف: 7379)، مسند احمد (2/53) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2988)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
864
| لئن سعيت لقد رأيت رسول الله يسعى لئن مشيت لقد رأيت رسول الله يمشي وأنا شيخ كبير |
كثير بن جمهان السلمي ← عبد الله بن عمر العدوي