سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. باب ما جاء أن القارن يطوف طوافا واحدا
باب: قارن کے ایک ہی طواف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 948
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَجْزَأَهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَسَعْيٌ وَاحِدٌ عَنْهُمَا حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، تَفَرَّدَ بِهِ: الدَّرَاوَرْدِيُّ عَلَى ذَلِكَ اللَّفْظِ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَلَمْ يَرْفَعُوهُ، وَهُوَ أَصَحُّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اس کے لیے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے یہاں تک کہ وہ ان دونوں کا احرام کھول دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں عبدالعزیز دراوردی منفرد ہیں، اسے دوسرے کئی اور لوگوں نے بھی عبیداللہ بن عمر (العمری) سے روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 948]
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں عبدالعزیز دراوردی منفرد ہیں، اسے دوسرے کئی اور لوگوں نے بھی عبیداللہ بن عمر (العمری) سے روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المناسک 39 (2975)، (تحفة الأشراف: 8029) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2975)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
948
| من أحرم بالحج والعمرة أجزأه طواف واحد وسعي واحد عنهما حتى يحل منهما جميعا |
سنن ابن ماجه |
2975
| من أحرم بالحج والعمرة كفى طواف واحد ولم يحل حتى يقضي حجه ويحل منهما جميعا |
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي