Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية ابن القاسم میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (657)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
کھجور اور انگور کی بنی ہوئی نبیذ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 408
526- مالك عن الثقة عنده عن بكير بن الأشج عن عبد الرحمن بن الحباب السلمي عن أبى قتادة الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يشرب التمر والزبيب جميعا، والزهو والرطب جميعا.
سیدنا ابوقتادہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور انگور ملا کر نبیذ پینے سے منع فرمایا ہے اور گدر اور تازہ کھجور (رطب) ملا کر نبیذ پینے سے منع فرمایا ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: «526- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 844/2 ح 1639، ك 42 ب 3 ح 8) التمهيد 205/24، الاستذكار: 1567، و أخرجه النسائي فى الكبريٰ (تحفة الاشراف: 12119) من حديث مالك به وللحديث شواهد منها حديث البخاري (5601) ومسلم (1986) وبه صح الحديث.»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم کی حدیث نمبر 408 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 408
تخریج الحدیث:
[وأخرجه النسائي فى الكبريٰ تحفة الاشراف: 12119، من حديث مالك به وللحديث شواهد منها حديث البخاري 5601، ومسلم 1986، وبه صح الحديث]

تفقه:
➊ چونکہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے اور بعض اوقات کھجور اور انگور کی بنی ہوئی نبیذ میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے لہٰذا سدِ ذرائع اور شبہ سے بچنے کے لئے ایسی نبیذ (شربت) بنانے اور پینے سے منع کردیا گیا ہے۔
➋ اسلام پوری انسانیت کی خیرخواہی کا دین ہے۔
➌ روایت مذکورہ میں ثقہ سے کیا مراد ہے؟ واضح نہیں ہے لیکن السنن الکبریٰ للنسائی بحوالہ تحفۃ الاشراف 9 / 261 ح 12119 اور التمہید 24 / 206 میں اسی حدیث کو عمرو بن الحارث (ثقہ) نے بکیر بن عبداللہ بن الاشبح سے بیان کر رکھا ہے اور اس کے صحیح شواہد بھی ہیں لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے۔ «والحمدلله»
➍ نیز دیکھئے: [الموطأ 136، 248، مسلم 1997/48]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 526]