🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية ابن القاسم میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (657)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
دعا کرتے وقت ”اگر تو چاہے“ کہنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 449
336- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يقولن أحدكم: اللهم اغفر لي إن شئت، اللهم ارحمني إن شئت؛ ليعزم المسألة، فإنه لا مكره له.“
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی بھی (دعا کے وقت) یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر۔ تاکید کے ساتھ (اللہ سے) سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اسے مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: «336- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 213/1 ح 497، ك 15 ب 8 ح 28 نحوالمعنيٰ) التمهيد 49/19، الاستذكار: 466، و أخرجه البخاري (6339) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6339
لا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت اللهم ارحمني إن شئت ليعزم المسألة فإنه لا مكره له
صحيح البخاري
7477
لا يقل أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت ارحمني إن شئت ارزقني إن شئت وليعزم مسألته إنه يفعل ما يشاء لا مكره له
صحيح مسلم
6813
لا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت اللهم ارحمني إن شئت ليعزم في الدعاء فإن الله صانع ما شاء لا مكره له
صحيح مسلم
6812
إذا دعا أحدكم فلا يقل اللهم اغفر لي إن شئت ولكن ليعزم المسألة وليعظم الرغبة فإن الله لا يتعاظمه شيء أعطاه
جامع الترمذي
3497
لا يقول أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت اللهم ارحمني
سنن أبي داود
1483
لا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت اللهم ارحمني إن شئت ليعزم المسألة فإنه لا مكره له
سنن ابن ماجه
3854
لا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت وليعزم في المسألة فإن الله لا مكره له
المعجم الصغير للطبراني
1065
لا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت ولكن ليعزم في المسألة فإنه لا مكره له
صحيفة همام بن منبه
123
لا يقل أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت أو ارحمني إن شئت أو ارزقني إن شئت ليعزم المسألة إنه يفعل ما يشاء لا مكره له
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
449
ا يقولن احدكم: اللهم اغفر لي إن شئت، اللهم ارحمني إن شئت؛ ليعزم المسالة، فإنه لا مكره له
موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم کی حدیث نمبر 449 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 449
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 6339، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دعا صرف اللہ سے مانگنی چاہئے۔
➋ اللہ تعالیٰ سے اس جذبے کے ساتھ بطور جزم دعا مانگنی چاہئے کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ضرور دعا قبول فرمائے گا۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 336]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1483
دعا کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1483]
1483. اردو حاشیہ: اس انداز سے دعا میں گویا داعی خوب راغب نہیں ہوتا۔اور اسے ضرورت نہیں ہے۔ہونا یہ چاہیے کہ پختگی اور عزیمت سے مانگا جائے۔ اے اللہ! مجھے یہ چیز عنایت فرما کیونکہ جب اللہ دیناچاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1483]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3854
آدمی کو اس طرح نہیں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ کو بخش دے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3854]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی امید رکھتے ہوئے اپنی حاجت طلب کرنی چاہیے۔

(2)
  یہ کہنا کہ اگر تو چاہے اللہ کے شایان شان نہیں، اس لیے ناپسندیدہ ہے کیونکہ سب کچھ دینے والا تو وہی ایک ہے اس سے تو اس عزم کے ساتھ مانگنا چاہیے کہ اگر تو میری دعا قبول نہیں کرے گا تو میرا تو تیر ے سوا اور کوئی در ہی نہیں ہے، میں تیرا در چھوڑ کر کہاں جاؤں؟ بہرحال ایسے الفاظ نا پسندیدہ ہیں جن میں یقین کی بجائے مایوسی کا اظہار ہو۔

(3)
یہ دعا کرنا درست ہے کہ اگر فلاں چیز میرے لیے بہتر ہے تو مجھے عطا فرما دے ورنہ وہ چیز عطا فرما دے جو میرے لیے بہتر ہو۔
دعائے استخارہ میں یہی دعا کی جاتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3854]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3497
باب:۔۔۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کوئی شخص دعا مانگے تو) اس طرح نہ کہے: اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما ۱؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں (کہ کہا جائے: اگر تو چاہے)، [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3497]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی شبہہ اور تذبذب والی اور ڈھیلے پن کی بات نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے عزم،
پختہ ارادے،
اور اپنی پوری کوشش کے ساتھ دعا مانگے جیسے مجھے یہ چاہیے،
مجھے یہ دے،
مجھے تو بس تجھی سے مانگنا ہے اور تجھ ہی سے پانا ہے وغیرہ وغیرہ۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3497]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6339
6339. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص یوں نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما بلکہ اسے یقین اسے یقین کے ساتھ دعا کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالٰی پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6339]
حدیث حاشیہ:
1)
دعا کرتے وقت مسکینی اور عاجزی کا اظہار ہونا چاہیے، نیز اللہ تعالیٰ سے مکمل یقین کے ساتھ سوال کیا جائے۔
دعا کرتے وقت یہ نہ کہا جائے کہ اللہ اگر تو چاہے تو دے دے بلکہ یہ کہے کہ یا اللہ! تجھی سے لینا ہے کیونکہ انسان تو اللہ تعالیٰ کے حضور فقیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مالک دو جہاں ہے، اس کے خزانوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے، اس لیے یقین کے ساتھ سوال کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ پر زبردستی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
(2)
بہرحال دعا مانگنے کا یہ ادب ہے کہ پوری دل جمعی، نہایت خشوع و خضوع اور قبولیت کے یقین کامل کے ساتھ دعا کی جائے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6339]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7477
7477. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: تم میں سے کوئی ان الفاظ میں دعا نہ کرے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، اگر تو چاہے تو مجھے رزق عطا فرما، بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ عزم اور پختگی کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے، اسے کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7477]
حدیث حاشیہ:
دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف رکھنے سے منع کیا گیا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں:
۔
مشیت پر موقوف رکھنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسے چاہت کے بغیر مجبور کیا جا سکتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ تصور درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اسے کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔
۔
اس انداز سے دعا کرنا گویا مطلوب اور مطلوب منہ سے بے پروائی ظاہر ہوتی ہے، لہذا دعا کرتے وقت مشیت الٰہی پر موقوف رکھنے کی بجائے پورے عزم کے ساتھ دعا کرنی چاہیے۔
سوال میں پختگی کا مطلب یہ ہے کہ طلب میں شدت ہو، اس میں کسی قسم کی لچک کا اظہار نہ ہو اور نہ اپنے سوال کو مشیت پر موقوف رکھا جائے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 291/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7477]

Moata Imam Malik (Qasim) Hadith 449 in Urdu