صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: انصار کے مناقب
The Merits of Al-Ansar
50. بَابُ كَيْفَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ:
50. باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان کس طرح بھائی چارہ قائم کرایا تھا۔
(50) Chapter. How the Prophet established the bond of brotherhood between his Companions.
حدیث نمبر: Q3937
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
وقال عبد الرحمن بن عوف: آخى النبي صلى الله عليه وسلم بيني وبين سعد بن الربيع لما قدمنا المدينة. وقال ابو جحيفة: آخى النبي صلى الله عليه وسلم بين سلمان وابي الدرداء.وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ. وَقَالَ أَبُو جُحَيْفَةَ: آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ.
اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم مدینہ ہجرت کر کے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا تھا۔ ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ (وہب بن عبداللہ) نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی اور ابو الدرداء کے درمیان بھائی چارہ کرایا تھا۔

حدیث نمبر: 3937
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن حميد، عن انس رضي الله عنه، قال:" قدم عبد الرحمن بن عوف فآخى النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الانصاري , فعرض عليه ان يناصفه اهله وماله، فقال عبد الرحمن: بارك الله لك في اهلك ومالك دلني على السوق , فربح شيئا من اقط وسمن , فرآه النبي صلى الله عليه وسلم بعد ايام وعليه وضر من صفرة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" مهيم يا عبد الرحمن"، قال: يا رسول الله تزوجت امراة من الانصار، قال:" فما سقت فيها؟" فقال: وزن نواة من ذهب، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" اولم ولو بشاة".(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ , فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلَّنِي عَلَى السُّوقِ , فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ , فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ:" فَمَا سُقْتَ فِيهَا؟" فَقَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرایا تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ان کے اہل و مال میں سے آدھا وہ قبول کر لیں لیکن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و مال میں برکت دے۔ آپ تو مجھے بازار کا راستہ بتا دیں۔ چنانچہ انہوں نے تجارت شروع کر دی اور پہلے دن انہیں کچھ پنیر اور گھی میں نفع ملا۔ چند دنوں کے بعد انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان کے کپڑوں پر (خوشبو کی) زردی کا نشان ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمٰن یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں مہر میں تم نے کیا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ ایک گھٹلی برابر سونا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ولیمہ کرو خواہ ایک ہی بکری کا ہو۔

Narrated Anas: When `Abdur-Rahman bin `Auf came to Medina and the Prophet established the bond of brotherhood between him and Sa`d bin Ar-Rabi-al-Ansari, Saud suggested that `Abdur-Rahman should accept half of his property and family. `Abdur Rahman said, "May Allah bless you in your family and property; guide me to the market." So `Abdur-Rahman (while doing business in the market) made some profit of some condensed dry yoghurt and butter. After a few days the Prophet saw him wearing clothes stained with yellow perfume. The Prophet asked, "What is this, O `Abdur-Rahman?" He said, "O Allah's Apostle! I have married an Ansar' woman." The Prophet asked, "What have you given her as Mahr?" He (i.e. `Abdur-Rahman) said, "A piece of gold, about the weight of a date stone." Then the Prophet said, Give a banquet, even though of a sheep."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 5, Book 58, Number 274


   صحيح البخاري5148أنس بن مالكتزوج امرأة على وزن نواة فرأى النبي بشاشة العرس فسأله فقال إني تزوجت امرأة على وزن نواة
   صحيح البخاري5155أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري5072أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري3937أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري6082أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري5168أنس بن مالكأولم على زينب أولم بشاة
   صحيح البخاري5153أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري5171أنس بن مالكأولم عليها أولم بشاة
   صحيح البخاري6386أنس بن مالكبارك الله لك أولم ولو بشاة
   صحيح البخاري5167أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري2049أنس بن مالكأقاسمك مالي نصفين وأزوجك قال بارك الله لك في أهلك ومالك دلوني على السوق فما رجع حتى استفضل أقطا وسمنا فأتى به أهل منزله فمكثنا يسيرا أو ما شاء الله فجاء وعليه وضر من صفرة فقال له النبي مهيم قال يا رسول الله تزوجت امرأة من الأنصار قال
   صحيح مسلم3491أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح مسلم3490أنس بن مالكبارك الله لك أولم ولو بشاة
   صحيح مسلم3492أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح مسلم3494أنس بن مالككم أصدقتها فقلت نواة
   جامع الترمذي1933أنس بن مالكمهيم قال تزوجت امرأة من الأنصار قال فما أصدقتها قال وزن نواة من ذهب فقال أولم ولو بشاة
   جامع الترمذي1094أنس بن مالكبارك الله لك أولم ولو بشاة
   سنن أبي داود2109أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   سنن أبي داود3743أنس بن مالكأولم على أحد من نسائه ما أولم عليها أولم بشاة
   سنن النسائى الصغرى3390أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   سنن النسائى الصغرى3376أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   سنن النسائى الصغرى3354أنس بن مالككم أصدقتها قال زنة نواة من ذهب
   سنن النسائى الصغرى3375أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   سنن النسائى الصغرى3374أنس بن مالكبارك الله لك أولم ولو بشاة
   سنن النسائى الصغرى3353أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   سنن ابن ماجه1907أنس بن مالكبارك الله لك أولم ولو بشاة
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم362أنس بن مالكاولم ولو بشاة
   بلوغ المرام892أنس بن مالك‏‏‏‏فبارك الله لك،‏‏‏‏ اولم ولو بشاة
   مسندالحميدي1252أنس بن مالكعلى كم تزوجتها؟

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 362  
´شادی پر حسب استطاعت ولیمہ کرنا مسنون ہے`
«. . . فقال: زنة نواة من ذهب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اولم ولو بشاة . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 362]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 5153، من حديث مالك به، ورواه مسلم 81/1427، من حديث حميد الطّويل به وصرّح حميد بالسماع عند البخاري 5072]

تفقه:
➊ شادی پر حسب استطاعت ولیمہ کرنا مسنون ہے۔
➋ افضل یہی ہے کہ نکاح یا شادی کے وقت ہی حق مہر ادا کر دیا جائے۔
➌ اپنی قوم سے باہر دوسری قوم میں شادی کرنا جائز ہے۔ دیکھئے: [تفقه نمبر: 5]
➍ حق مہر زیادہ بھی ہو سکتا ہے اور کم بھی، اس میں کوئی خاص مقدار ثابت نہیں ہے۔ تاہم اس میں بہت زیادہ اسراف اور غلو نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا۔ دیکھئے: [سنن ابي داؤد 2106، ومسند امام أحمد 1/48 ح340 وهو حسن]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خير النكاح أيسره» بہترین نکاح وہ ہے جو آسان ہو۔ [صحيح ابن حبان، الاحسان: 4060 دوسرا نسخه 4072 وسنده صحيح، سنن ابي داؤد: 2117، وصححه الحاكم 2/181، 182، عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي]
➎ اپنے قبیلے میں اور قبیلے سے باہر دونوں طرح شادی کرنا بالکل صحیح اور جائز ہے۔
➏ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
➐ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں مروجہ بارات کا کوئی تصور نہیں ہے، وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ صحابہ اپنی محبوب ترین شخصیت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بارات کے ساتھ لے کر نہ جاتے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 150   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1907  
´ولیمہ کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے جسم) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بارك الله لك أولم ولو بشاة» اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1907]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
ارشاد نبوی ہے:
مردوں کی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ غیر واضح ہو۔
اور عورتٔ کی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک غیر واضح ہو۔ (جامع الترمذي، الأدب، باب ماجاء فی طیب الرجال والنساء، حدیث: 2787)

(2)
رسول اللہ ﷺ نے صحابی کے لباس میں عورتوں کی خوشبو کا نشان دیکھا اس لیے دریافت کیا کہ تم نے عورتوں کی خوشبو کیوں لگا رکھی ہے؟ اس میں ایک لطیف انداز سے تنبیہ بھی ہے کہ اس کا استعمال تمہارے لیے مناسب نہیں۔
اور یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر کوئی معقول عذر ہے تو بیان کرو۔

(3)
کسی میں غلطی دیکھ کر فوراً سختی کرنا درست نہیں بلکہ غلطی کرنے والے سے اس کی وجہ دریافت کرنی چاہیے تاکہ اسے اتنی ہی تنبیہ کی جائے جتنی ضروری ہے۔

(4)
گٹھلی سے مراد کجھور کی گٹھلی ہے۔
یہ اس دور کا ایک معروف وزن تھا۔
جس کی مقدار پانچ درہم (تقریبا ڈیڑھ تولہ)
ذکر کی گئی ہے۔ (مرقاۃ شرح مشکاۃ، النکاح، باب الولیمة، حدیث: 3210)

(5)
ارشاد نبوی اگرچہ ایک بکری ہو۔
میں اشارہ ہے کہ ان میں زیادہ کی استطاعت تھی اس سے معلوم ہوا کہ ولیمے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی گنجائش کے مطابق جس قدر اہتمام آسانی سے اور زیر بار ہوئے بغیر ہو سکے وہ کافی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1907   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1094  
´ولیمہ کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے جسم پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے ایک عورت سے کھجور کی ایک گٹھلی سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت عطا کرے، ولیمہ ۱؎ کرو خواہ ایک ہی بکری کا ہو ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1094]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎: (أولم ولو بشأة) میں لو تقلیل کے لیے آیا ہے یعنی کم ازکم ایک بکری ذبح کرو،
لیکن نبی اکرمﷺ نے صفیہ کے ولیمہ میں صرف ستواورکجھورپر اکتفاکیا،
اس لیے مستحب یہ ہے کہ ولیمہ شوہر کی مالی حیثیت کے حسب حال ہو،
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حالت کے پیش نظرایک بکری کا ولیمہ کم تھا اسی لیے آپﷺ نے اُن سے أَولِم وَلَو بِشَأة فرمایا۔

2؎:
شادی بیاہ کے موقع پر جو کھانا کھلایا جاتا ہے اسے ولیمہ کہتے ہیں،
یہ ولم (واؤکے فتحہ اورلام کے سکون کے ساتھ) سے مشتق ہے جس کے معنی اکٹھا اور جمع ہونے کے ہیں،
چونکہ میاں بیوی اکٹھا ہوتے ہیں اس لیے اس کو ولیمہ کہتے ہیں،
ولیمہ کا صحیح وقت خلوت صحیحہ کے بعد ہے جمہور کے نزدیک ولیمہ سنت ہے اوربعض نے اسے واجب کہا ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1094   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2109  
´مہر کم رکھنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، پوچھا: اسے کتنا مہر دیا ہے؟ جواب دیا: گٹھلی (نواۃ ۱؎) کے برابر سونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۲؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2109]
فوائد ومسائل:
1: انسان کو اپنی اسطاعت کے مطابق حق مہر باندھنا چاہیے جو لینا دینا آسان ہو۔

2: زعفران اور دیگر رنگدار چیزیں (پاوڈر) مردوں کو استعمال کر نا جائز نہیں۔

3: شادی یا غمی کے موقع پر بھی قریب وبعید کے عزیزواقارب کو بلا کسی اہم مقصد کے جمع کرنا کوئی سنت نہیں ہے ایک چھوٹی سی بستی میں رہتے ہوئے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی شادی ہوئی اور رسول ﷺکو خبر نہیں دی گئی۔

4: اصل سنت ولیمہ ہے حسب استطاعت جو میسر آئے بکری ہو یا کم و پیش کچھ اور جیسے کہ رسول ﷺنے سیدہ صفیہ رضی اللہ کے ولیمہ میں ستو ہی پیش فرمائے تھے۔

5: اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ہماری شادیاں، سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
مثلا لمبی چوڑی براتیں اور پھر ان کی پر تکلف ضیافت۔
اسی طرح ولیمے میں انواع واقسام کے کھانوں کی بھر مار اور دیگر رسومات اس اسراف وتبذیر اور فضولیات کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
(تفصیل کے لیےدیکھیں مسنون نکاح اور شادی بیاں کی رسومات، مطبوعہ دار السلام تالیف.. حافظ صلاح الدین یوسف صاحب)
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2109   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3937  
3937. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف ؓ تشریف لائے تو نبی ﷺ نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاری ؓ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ حضرت سعد ؓ نے ان (حضرت عبدالرحمٰن ؓ) کو پیش کش کی کہ وہ اپنی بیویاں اور اپنا مال انہیں آدھا آدھا تقسیم کر دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے فرمایا: اللہ تعالٰی آپ کے اہل و عیال اور مال و اسباب میں برکت فرمائے! مجھے بازار کا راستہ بتائیں، چنانچہ انہیں (بازار جانے سے) کچھ پنیر اور گھی کا نفع ہوا۔ نبی ﷺ نے کچھ دنوں بعد حضرت عبدالرحمٰن پر زردی (خوشبو) کے اثرات دیکھے تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: کتنا مہر دیا ہے؟ انہوں نے کہا: گھٹلی بھر سونا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ولیمہ ضرور کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3937]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے انصار کا ایثار اور مہاجرین کی خود داری روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ وہ کیسے پختہ کار مسلمان تھے۔
اس حدیث سے تجارت کی بھی ترغیب ظاہر ہے۔
اللہ پاک علماء کو خصوصاً توفیق دے کہ وہ اس پر غور کر کے اپنے مستقبل کی فکر کریں۔
اللهم آمین
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 3937   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3937  
3937. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف ؓ تشریف لائے تو نبی ﷺ نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاری ؓ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ حضرت سعد ؓ نے ان (حضرت عبدالرحمٰن ؓ) کو پیش کش کی کہ وہ اپنی بیویاں اور اپنا مال انہیں آدھا آدھا تقسیم کر دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے فرمایا: اللہ تعالٰی آپ کے اہل و عیال اور مال و اسباب میں برکت فرمائے! مجھے بازار کا راستہ بتائیں، چنانچہ انہیں (بازار جانے سے) کچھ پنیر اور گھی کا نفع ہوا۔ نبی ﷺ نے کچھ دنوں بعد حضرت عبدالرحمٰن پر زردی (خوشبو) کے اثرات دیکھے تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: کتنا مہر دیا ہے؟ انہوں نے کہا: گھٹلی بھر سونا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ولیمہ ضرور کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3937]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے انصار کا ایثار اور مہاجرین کی خودداری روز روشن کی طرح واضح ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت سعد ؓنے کہا:
میری دوبیویاں ہیں۔
آپ دیکھ لیں جو زیادہ پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں اور عدت گزارنے کے بعد آپ اس سے شادی کرلیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انصار نے بہت بڑھ چڑھ کر اپنے مہاجر بھائیوں کا اعزاز واکرام کیا تھا اور بے انتہا ایثار وقربانی سے کام لیا تھا لیکن مہاجرین نے ان کی نوازشات سے کوئی غلط فائدہ نہیں اُٹھایا بلکہ ان سے صرف اتنا حاصل کیا جس سے وہ اپنی کمزور معیشت کی کمر سیدھی کرسکتے تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ انصار نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ آپ ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان ہمارے کھجور کےباغات تقسیم کردیں۔
آپ نےفرمایا:
نہیں۔
انصار نے اپنے بھائیوں سے کہا:
آپ باغات میں محنت کیا کریں،ہم پیداوار میں آپ کو شریک رکھیں گے۔
انھوں نے کہا یہ ٹھیک ہے۔
ہم اس پیش کش کوقبول کرتے ہیں۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3782۔
)


بہرحال ر سول اللہ ﷺ نے اس مؤاخات کو محض کھوکھلے الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا بلکہ اسے ایک ایسا نافذ العمل عہد وپیمان قراردیا جوخون اورمال سے مربوط تھا۔
اس بھائی چارے میں ایثار وہمدردی کے ملے جلے جذبات تھے، اس لیے سلسلہ مؤاخات نے اس نئے معاشرے کو بڑے نادر اور تابناک کارناموں سے پُر کردیا تھا۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 3937   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.