صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
The Book of Commentary
12. بَابُ قَوْلِهِ: {لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} :
12. باب: آیت کی تفسیر ”اے لوگو! ایسی باتیں نبی سے مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں وہ باتیں ناگوار گزریں“۔
(12) Chapter. Allah’s Statement: "...Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble...” (V.5:101)
حدیث نمبر: 4622
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا الفضل بن سهل، حدثنا ابو النضر، حدثنا ابو خيثمة، حدثنا ابو الجويرية، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال:" كان قوم يسالون رسول الله صلى الله عليه وسلم استهزاء، فيقول الرجل: من ابي؟ ويقول الرجل: تضل ناقته، اين ناقتي؟ فانزل الله فيهم هذه الآية يايها الذين آمنوا لا تسالوا عن اشياء إن تبد لكم تسؤكم سورة المائدة آية 101 حتى فرغ من الآية كلها".(مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِهْزَاءً، فَيَقُولُ الرَّجُل: مَنْ أَبِي؟ وَيَقُولُ الرَّجُلُ: تَضِلُّ نَاقَتُهُ، أَيْنَ نَاقَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا".
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوخیثمہ نے بیان کیا، ان سے ابوجویریہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاقاً سوالات کیا کرتے تھے۔ کوئی شخص یوں پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے؟ کسی کی اگر اونٹنی گم ہو جاتی تو وہ یہ پوچھتے کہ میری اونٹنی کہاں ہو گی؟ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم‏» کہ اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔ یہاں تک کہ پوری آیت پڑھ کر سنائی۔

Narrated Ibn `Abbas: Some people were asking Allah's Messenger questions mockingly. A man would say, "Who is my father?" Another man whose she-camel had gone astray would say, "Where is my she-camel? "So Allah revealed this Verse in this connection: "O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble." (5.101)
USC-MSA web (English) Reference: Volume 6, Book 60, Number 146


   صحيح البخاري4622عبد الله بن عباسقوم يسألون رسول الله استهزاء فيقول الرجل من أبي ويقول الرجل تضل ناقته أين ناقتي فأنزل الله فيهم هذه الآية يأيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4622  
4622. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے مذاق کے طور پر سوالات کرتے تھے۔ کوئی آدمی کہتا: میرا باپ کون ہے؟ کوئی دوسرا پوچھتا: میری اونٹنی گم ہو گئی ہے وہ کہاں ہے؟ تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: "اے ایمان والو! تم ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگواری ہو گی۔۔" [صحيح بخاري، حديث نمبر:4622]
حدیث حاشیہ:

دراصل منافق لوگ رسول اللہ ﷺ سے مذاق اور استہزاء کے طور پر فضول اور غیر ضروری سوالات کرتے تھے اور سادہ لوح مسلمانوں کو بھی اس قسم کے سوالات کی ترغیب دیتے تھے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن حذافہ ؓ نے اپنے باپ کے متعلق سوال کر لیا جیسا کہ دوسری حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، العلم، حدیث: 93)

یہ سوالات اور احکام دونوں سے متعلق ہوتے تھے چنانچہ بعض روایات میں اس آیت کا سبب نزول حج کے حکم کو بیان کیا گیا ہے۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3055)

بہر حال بے معنی اور فضول سوالات کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ ان سے شکوک و شبہات بڑھتے ہیں اور دوسرے احکام میں سختی کا بھی اندیشہ ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے انبیاء سے بکثرت سوالات کرتے تھے۔
اور ان کے موقف سے اختلاف کرتے تھے۔
'' (صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6113۔
(1337)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 4622   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.