سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: تفسیر قرآن کریم
Chapters on Tafsir
5. باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ
5. باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3019
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا حميد بن مسعدة بصري، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا الجريري، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الا احدثكم باكبر الكبائر؟ قالوا: بلى يا رسول الله، قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، قال: وجلس وكان متكئا، قال: وشهادة الزور او قال قول الزور، قال: فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها حتى قلنا ليته سكت "، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح غريب.(مرفوع) حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، قَالَ: وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ، قَالَ: فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: جھوٹی گواہی دینا، یا جھوٹی بات کہنا، آپ یہ بات باربار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کاش آپ خاموش ہو جاتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم 1901، و2301 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح غاية المرام (277)

   صحيح البخاري5976نفيع بن الحارثألا أنبئكم بأكبر الكبائر قلنا بلى يا رسول الله قال الإشراك بالله عقوق الوالدين ألا وقول الزور وشهادة الزور
   صحيح البخاري6273نفيع بن الحارثألا أخبركم بأكبر الكبائر قالوا بلى يا رسول الله قال الإشراك بالله عقوق الوالدين
   صحيح البخاري6919نفيع بن الحارثأكبر الكبائر الإشراك بالله عقوق الوالدين شهادة الزور
   صحيح البخاري2654نفيع بن الحارثألا أنبئكم بأكبر الكبائر ثلاثا قالوا بلى يا رسول الله قال الإشراك بالله عقوق الوالدين ألا وقول الزور
   صحيح مسلم259نفيع بن الحارثألا أنبئكم بأكبر الكبائر ثلاثا الإشراك بالله عقوق الوالدين شهادة الزور كان رسول الله متكئا فجلس فما زال يكررها حتى قلنا ليته سكت
   جامع الترمذي2301نفيع بن الحارثألا أخبركم بأكبر الكبائر قالوا بلى يا رسول الله قال الإشراك بالله عقوق الوالدين شهادة الزور قال فما زال رسول الله يقولها حتى قلنا ليته سكت
   جامع الترمذي1901نفيع بن الحارثألا أحدثكم بأكبر الكبائر قالوا بلى يا رسول الله قال الإشراك بالله عقوق الوالدين شهادة الزور
   جامع الترمذي3019نفيع بن الحارثألا أحدثكم بأكبر الكبائر قالوا بلى يا رسول الله قال الإشراك بالله عقوق الوالدين شهادة الزور
   بلوغ المرام1206نفيع بن الحارثانه عد شهادة الزور من اكبر الكبائر

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1206  
´شہادتوں (گواہیوں) کا بیان`
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی گواہی کو بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ بخاری و مسلم کی لمبی حدیث میں ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1206»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الشهادات، باب ما قيل في شهادة الزور، حديث:2654، ومسلم، الإيمان، باب الكبائر وأكبرها، حديث:87.»
تشریح:
1. اس حدیث کی رو سے معلوم ہوا کہ کبیرہ گناہ بہت سے ہیں‘ مثلاً: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا‘ والدین کی نافرمانی کرنا‘ میدان کارزار سے فرار ہونا‘ پاک دامن خاتون کی عصمت پر تہمت لگانا اور جھوٹی گواہی دینا وغیرہ۔
2. صحیحین کی ایک روایت کے مطابق‘ جھوٹی گواہی دینا صرف کبیرہ گناہوں میں نہیں بلکہ اکبرالکبائر میں شامل ہے۔
3.کبیرہ گناہ وہ ہے جس کی شریعت نے سزا مقرر کی ہو یا عذاب آخرت کی وعید دی گئی ہو۔
4.عدالتوں میں جھوٹی گواہی کا سلسلہ اگر بند ہو جائے تو انصاف نہایت ارزاں اور جلد مل جائے۔
عدالتی نظام کے فساد کی جڑ جھوٹی گواہی اور رشوت ہے۔
اس نظام کو ان دو بڑی خرابیوں سے پاک کر دیا جائے تو معاشرے میں امن و سلامتی کی بہاریں آجائیں۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 1206   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.