🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب في صوم شعبان
باب: شعبان کے روزے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2431
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: كَانَ"أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مہینوں میں سب سے زیادہ محبوب یہ تھا کہ آپ شعبان میں روزے رکھیں، پھر اسے رمضان سے ملا دیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 26280)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصیام (2659) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (2352 وسنده صحيح)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن عفيف النصري، أبو الأسود
Newعبد الله بن عفيف النصري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← عبد الله بن عفيف النصري
صدوق له أوهام
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← معاوية بن صالح الحضرمي
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2180
يصوم في شهر ما يصوم في شعبان كان يصومه كله إلا قليلا بل كان يصومه كله
سنن النسائى الصغرى
2182
لم يكن رسول الله في شهر من السنة أكثر صياما منه في شعبان كان يصوم شعبان كله
سنن النسائى الصغرى
2183
يصوم شعبان
سنن النسائى الصغرى
2188
يصوم شعبان كله يتحرى صيام الاثنين والخميس
سنن النسائى الصغرى
2189
يصوم شعبان ورمضان يتحرى الاثنين والخميس
سنن النسائى الصغرى
2352
أحب الشهور إلى رسول الله أن يصومه شعبان بل كان يصله برمضان
سنن النسائى الصغرى
2356
لم يكن رسول الله لشهر أكثر صياما منه لشعبان كان يصومه أو عامته
سنن النسائى الصغرى
2357
يصوم شعبان إلا قليلا
سنن النسائى الصغرى
2358
يصوم شعبان كله
صحيح مسلم
2723
لم يكن رسول الله في الشهر من السنة أكثر صياما منه في شعبان خذوا من الأعمال ما تطيقون فإن الله لن يمل حتى تملوا وكان يقول أحب العمل إلى الله ما داوم عليه صاحبه وإن قل
سنن أبي داود
2431
أحب الشهور إلى رسول الله أن يصومه شعبان ثم يصله برمضان
سنن ابن ماجه
1649
يصوم شعبان كله حتى يصله برمضان
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2431 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2431
فوائد ومسائل:
مختلف روایات کی روشنی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان یا تو مبالغہ پر مبنی ہے، یا یہ مقصد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات روزے ابتدائے مہینہ میں رکھتے، کبھی درمیان مہینہ میں اور کبھی آخر مہینہ میں، یا یہ مقصد ہے کہ خال خال ہی کسی دن ناغہ کرتے تھے ورنہ عام ایام میں روزے ہی رکھتے تھے۔
ماہِ شعبان فضیلت والا مہینہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش کیے جائیں تو میں روزے سے ہوں۔
(سنن النسائي‘ الصيام‘ حديث:2359) اسی طرح شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت کی بابت ایک حدیث سندا صحیح ہے اس میں آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس رات شرک کرنے اور بغض و کینہ رکھنے والے کے سوا تمام لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔
(مجمع الزوائد‘ 8/65 وابن حبان‘ حديث:5665 والصحيحة‘ حديث:1144) روزے کی بابت آپ سے مروی ہے آپ شعبان کے مہینے کے کسی دن کو روزے کے ساتھ خاص نہیں کرتے تھے بلکہ اس ماہ میں اکثر روزے رکھا کرتے تھے، دوسری بات کہ پندرھویں رات کو اگر کوئی اس نیت سے عبادت کرتا ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ بندوں کی مغفرت فرماتا ہے، تو وہ ممکن حد تک ہر کسی کے حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے عبادت کر سکتا ہے، لیکن اس رات میں چراغاں کرنا یا موم بتیاں جلانا یا اگلے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔
واللہ اعلم.
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2431]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2180
اس حدیث میں محمد بن ابراہیم پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: ہم (ازواج مطہرات) میں سے کوئی رمضان میں (حیض کی وجہ سے) روزہ نہیں رکھتی تو اس کی قضاء نہیں کر پاتی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے جتنا شعبان میں رکھتے تھے، آپ چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزے رکھتے، بلکہ (بسا اوقات) پورے (ہی) ماہ روزے رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2180]
اردو حاشہ:
قضا نہیں دے سکتی تھی۔ اس خطرے کی بنا پر کہ ایسا نہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری ضرورت محسوس ہو اور ہم روزے سے ہوں کیونکہ آپ ہر روز عصر کے بعد یا کسی اور وقت میں سب ازواج مطہراتؓ کے گھروں میں جاتے تھے۔ باری کا تعلق تو صرف رات کی حد تک تھا دن کو آپ کسی گھر میں بھی جا سکتے تھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2180]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2188
اس حدیث میں خالد بن معدان پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
جبیر بن نفیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزوں کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے، اور دو شنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزے کا اہتمام فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2188]
اردو حاشہ:
ایک اور روایت میں سوموار اور جمعرات کے روزے کی وجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ ان دو دنوں میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ دیکھئے (جامع الترمذي، الصوم، حدیث: 747)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2188]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1649
شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے ملانے کا بیان۔
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1649]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سارا شعبان روزے رکھنے سے مراد شعبان میں کثرت سے نفلی روزے رکھنا ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے سوا کسی مہینے میں پورا مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔
اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا (صحیح البخاري، الصوم، باب صوم شعبان، حدیث: 1969)

(2)
بہتر یہ ہے کہ نصف شعبان کے بعد نفلی روزے نہ رکھے جایئں۔
دیکھئے: (حدیث: 1651)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1649]