صحيح البخاري سے متعلقہ
1. باب فرض الخمس:
باب: خمس کے فرض ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3093
فَقَالَ: لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، قَالَتْ: وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتَهُ بِالْمَدِينَةِ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ، وَقَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ، فَإِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ، وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهَا عُمَرُ، وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ، قَالَ: فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: اعْتَرَاكَ افْتَعَلْتَ مِنْ عَرَوْتُهُ فَأَصَبْتُهُ وَمِنْهُ يَعْرُوهُ وَاعْتَرَانِي.
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی حیات میں) فرمایا تھا کہ ہمارا (گروہ انبیاء علیہم السلام کا) ورثہ تقسیم نہیں ہوتا ‘ ہمارا ترکہ صدقہ ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر غصہ ہو گئیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ترک ملاقات کی اور وفات تک ان سے نہ ملیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ مہینے زندہ رہی تھیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیبر اور فدک اور مدینہ کے صدقے کی وراثت کا مطالبہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سے انکار تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی ایسے عمل کو نہیں چھوڑ سکتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کرتے رہے تھے۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ کا جو صدقہ تھا وہ عمر رضی اللہ عنہ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما کو (اپنے عہد خلافت میں) دے دیا۔ البتہ خیبر اور فدک کی جائیداد کو عمر رضی اللہ عنہ نے روک رکھا اور فرمایا کہ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہیں اور ان حقوق کے لیے جو وقتی طور پر پیش آتے یا وقتی حادثات کے لیے رکھی تھیں۔ یہ جائیداد اس شخص کے اختیار میں رہیں گی جو خلیفہ وقت ہو۔ زہری نے کہا ‘ چنانچہ ان دونوں جائیدادوں کا انتظام آج تک (بذریعہ حکومت) اسی طرح ہوتا چلا آتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3093]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ہمارا ترکہ بطور وراثت تقسیم نہیں ہوتا بلکہ ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے“۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر ناراض ہوئیں اور آپ سے ترک ملاقات کر دی۔ پھر وفات تک ان سے نہ ملیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اپنا وہ حصہ طلب کرتی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر، فدک اور مدینہ کے صدقات سے چھوڑا تھا، تاہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سے انکار تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں کسی بھی ایسے عمل کو نہیں چھوڑ سکتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کرتے تھے؛ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے آپ کے حکم میں سے کوئی چیز بھی ترک کر دی تو میں سیدھے راستے سے بھٹک جاؤں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ طیبہ میں صدقہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے سپرد کر دیا تھا، البتہ خیبر اور فدک کی جائیداد کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روک لیا اور فرمایا کہ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہیں جو ان ہنگامی ضروریات کے لیے وقف ہیں جو آئے دن پیش آتی رہتی ہیں اور ان کا انتظام و انصرام اس شخص کے حوالے ہوگا جو خلیفہ وقت ہو، چنانچہ ان دونوں جائیدادوں کا معاملہ آج تک اسی طرح ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ «تَعْرُوهُ» کا لفظ، خواہ بابِ افتعال سے ہو یا مجرد سے، اس کے معنی پیش آنے کے ہیں۔ اسی سے «يَعْرُوهُ» اور «اعْتَرَانِي» کے الفاظ ہیں جن کے معنی پیش آنا ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3093]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 3713
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ:" ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ".
مجھے عبداللہ بن عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واقد نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آپ کے اہل بیت میں رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3713]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ کے اہل بیت کے بارے میں خاص خیال رکھو، یعنی بہرصورت ان کا احترام بجا لاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3713]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4241
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ , وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ"، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبًا حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَىأَبِي بَكْرٍ وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا: أَصَبْتَ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے عروہ نے ‘ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم! جو صدقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں (اس کی تقسیم وغیرہ) میں میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو اللہ کی قسم! ضرور ان کی پاس جاؤں گا۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی (کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے (کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے) ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گئی اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے صلہ رحمی سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن میرے اور لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا پھر علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے (کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا) ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کر لی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4241]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد روانہ کیا وہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وراثت کا مطالبہ کرتی تھیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینہ طیبہ میں بطور فے دی تھی۔ کچھ فدک سے اور کچھ خیبر کے خمس سے باقی بچی تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری وراثت نہیں چلتی۔ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، البتہ آلِ محمد اس مالِ فے سے کھا پی سکتے ہیں۔“ ”اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات میں کچھ بھی تبدیلی نہیں کروں گا۔ وہ اسی حالت میں رہیں گے جس حالت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں تھے۔ اور میں ان میں وہی عمل کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔“ بہرحال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان اموال میں سے کچھ دینے سے انکار کر دیا۔ بنا بریں وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئیں اور ان سے میل ملاقات ترک کر دی۔ پھر فوت ہونے تک ان سے بات چیت نہیں کی۔ اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف چھ ماہ بقیدِ حیات رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے راتوں رات انہیں دفن کر دیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خبر تک نہ کی اور خود ہی ان کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ میں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وجاہت لوگوں میں رہی، جب حضرت کا انتقال ہو گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی توجہ کو بدلا ہوا پایا، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مصالحت اور ان سے بیعت کا پروگرام بنایا کیونکہ چھ ماہ تک انہوں نے آپ کی بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ”آپ ہمارے پاس تشریف لائیں اور آپ کے ساتھ کوئی اور شخص نہ آئے۔“ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حاضری کو نامناسب خیال کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! آپ اکیلے ان کے پاس نہ جائیں“، لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے ان سے امید نہیں کہ میرے ساتھ کوئی بدسلوکی کریں گے، اللہ کی قسم! میں ان کے پاس ضرور جاؤں گا“، چنانچہ آپ ان حضرات کے پاس تشریف لے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پہلے خطبہ پڑھا اور کہا: ”اے ابوبکر! ہم تمہاری بزرگی کو جانتے ہیں اور وہ فضائل جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائے ہیں ہمیں ان کا بھی اعتراف ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو خیر و برکت آپ کو دی ہے ہمیں قطعاً اس پر کوئی حسد نہیں لیکن یہ شکوہ ضرور ہے کہ آپ خلافت کے معاملے میں منفرد رہے اور اس سلسلے میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔ ہم لوگ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کی وجہ سے مشاورت کا حق تو رکھتے تھے۔“ باتیں سنتے سنتے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہ پڑے۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گویا ہوئے تو فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت مجھے اپنی قرابت سے زیادہ عزیز ہے کہ میں اس کا لحاظ کروں اور جو میرے اور تمہارے درمیان ان متروکہ اموال کے متعلق اختلاف واقع ہوا ہے تو میں نے ان میں خیر خواہی کرنے سے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اور میں نے وہی طریقہ اختیار کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا تھا۔“ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آج زوال کے بعد آپ سے بیعت کا وعدہ ہے“، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب نمازِ ظہر ادا کی تو منبر پر تشریف لائے، خطبہ پڑھنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان اور ان کا مرتبہ اور مقام بیان کیا، پھر بیعت میں دیر اور اس معذرت کو ذکر کیا جو انہوں نے کی تھی۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور خطبہ پڑھا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عظمتِ شان کو بیان کیا اور بتایا کہ ”جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر حسد کرنا نہیں اور نہ ان کے فضائل سے انکار ہی مقصود تھا جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں برتری عطا فرمائی ہے۔ لیکن ہم خلافت کے معاملے میں مشورے کی حد تک اپنا کچھ نہ کچھ حق ضرور سمجھتے تھے جس کے متعلق خود مختاری کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس سے ہمیں دلی رنج پہنچا۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس بیان پر تمام مسلمان خوش ہوئے اور کہنے لگے: ”اے علی! تم نے درست کہا ہے۔“ اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امرِ معروف کی طرف رجوع کر لیا تو تمام مسلمان ان کے بہت قریب ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4241]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4036
فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا نُورَثُ , مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ , إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ" , وَاللَّهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي.
اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ البتہ آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس جائیداد میں سے خرچ ضرور ملتا رہے گا۔ اور اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کے ساتھ عمدہ معاملہ کرنا مجھے خود اپنے قرابت داروں کے ساتھ حسن معاملت سے زیادہ عزیز ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4036]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ہمارا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، البتہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جائیداد سے خرچہ ضرور ملتا رہے گا۔“ اللہ کی قسم! میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت خود اپنی قرابت سے زیادہ محبوب ہے کہ ان سے اچھا برتاؤ اور حسن سلوک کروں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6726
فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ، قَالَ: فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ".
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے، بلاشبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔ بیان کیا کہ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے تعلق کاٹ لیا اور موت تک ان سے کلام نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 6726]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے۔ بلاشبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ صرف اسی مال سے اپنے اخراجات پورے کریں گے۔“”حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: ”اللہ کی قسم! میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کام کرتے دیکھا، میں بھی وہی کچھ کروں گا۔“ اس وضاحت کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے مفارقت اختیار کر لی اور اپنی موت تک ان سے کلام نہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 6726]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»