🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء فى السهو إذا قام من ركعتي الفريضة:
باب: اگر چار رکعت نماز میں پہلا قعدہ نہ کرے اور بھولے سے اٹھ کھڑا ہو تو سجدہ سہو کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1224
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ سَلَّمَ".
ہم سے عبداللہ یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی (چار رکعت) نماز کی دو رکعت پڑھانے کے بعد (قعدہ تشہد کے بغیر) کھڑے ہو گئے، پہلا قعدہ نہیں کیا۔ اس لیے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پوری کر چکے تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے «الله اكبر» کہا اور سلام ہی سے پہلے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کیے پھر سلام پھیرا۔ [صحيح البخاري/كتاب السهو/حدیث: 1224]
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کسی نماز کی دو رکعتیں پڑھا کر (درمیانے تشہد کے لیے) بیٹھے بغیر ہی کھڑے ہو گئے۔ لوگ بھی آپ کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے۔ جب آپ اپنی نماز پوری کرنے کے قریب تھے تو ہم آپ کے سلام کا انتظار کرنے لگے، لیکن آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا اور بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ اس کے بعد آپ نے سلام پھیرا۔ [صحيح البخاري/كتاب السهو/حدیث: 1224]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 829
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ مَوْلَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ مَرَّةً مَوْلَى رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ وَهُوَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الظَّهْرَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ لَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی، انہوں نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے بیان کیا جو مولی بن عبدالمطلب (یا مولی ربیعہ بن حارث) تھے، کہ عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول اور بنی عبد مناف کے حلیف قبیلہ ازدشنوہ سے تعلق رکھتے تھے، نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں پر بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، چنانچہ سارے لوگ بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب نماز ختم ہونے والی تھی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر‏» کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح البخاري/كتاب السهو/حدیث: 829]
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہما۔۔ جو قبیلہ ازد شنوءہ سے ہیں اور بنو عبدمناف کے حلیف، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تھے۔۔ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن انہیں نمازِ ظہر پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے۔ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو لوگ انتظار میں تھے کہ اب سلام پھیریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے ہی بیٹھے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا، سلام سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح البخاري/كتاب السهو/حدیث: 829]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں