صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب يجعل الكافور فى آخره:
باب: میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1259
وَقَالَتْ: إِنَّهُ قَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ سَبْعًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ، قَالَتْ حَفْصَةُ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.
اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے اس روایت میں یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین یا پانچ یا سات مرتبہ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ غسل دے سکتی ہو۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم نے ان کے سر کے بال تین لٹوں میں تقسیم کر دیئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1259]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین بار یا پانچ بار یا سات بار اور اگر مناسب خیال کرو تو اس سے بھی زیادہ بار غسل دو۔“ حفصہ رحمہا اللہ نے کہا کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم نے اس کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1253
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ , فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ , فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ تَعْنِي إِزَارَهُ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ام عطیہ انصاری رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (زینب یا ام کلثوم رضی اللہ عنہما) کی وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں کافور یا (یہ کہا کہ) کچھ کافور کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہونے پر مجھے خبر دے دینا۔ چنانچہ ہم نے جب غسل دے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیدی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا ازار دیا اور فرمایا کہ اسے ان کی قمیص بنا دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنے ازار سے تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1253]
حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فوت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو، اگر مناسب خیال کرو تو اس سے زیادہ بار بھی دے سکتی ہو، غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں کچھ کافور بھی استعمال کرو، پھر جب غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔“ چنانچہ جب ہم انہیں غسل دے کر فارغ ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: ”اس میں پورا بدن لپیٹ دو۔“ حدیث میں «حِقْوُ» سے مراد تہبند ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1253]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ , فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دو یا اس سے بھی زیادہ، پانی اور بیری کے پتوں سے اور آخر میں کافور بھی استعمال کرنا۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دے دینا۔ جب ہم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ یہ اندر اس کے بدن پر لپیٹ دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1254]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”اسے تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری مرتبہ کافور شامل کر لو۔ جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔“ چنانچہ ہم نے فارغ ہو کر آپ کو اطلاع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: ”اسے اس میں لپیٹ دو۔“ ایوب راوی کہتے ہیں کہ مجھے حفصہ بنت سیرین نے محمد بن سیرین کی طرح حدیث بیان کی۔ حفصہ کی حدیث میں ہے: ”اسے طاق عدد میں غسل دو۔“ اور اس میں یہ بھی ہے: ”اسے تین، پانچ یا سات مرتبہ غسل دو۔“ اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے دائیں اعضاء اور وضو کی جگہوں سے غسل دینا شروع کرو۔“ اس حدیث میں یہ تھا کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم نے اس کے بالوں میں کنگھی کر کے ان کی تین چوٹیاں بنا دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1254]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ:" تُوُفِّيَتْ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَنَا:اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَنَزَعَ مِنْ حِقْوِهِ إِزَارَهُ , وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ہم سے عبدالرحمٰن بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن عون نے خبر دی، انہیں محمد نے، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ تم اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ بھی غسل دے سکتی ہو۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دینا۔ چنانچہ جب ہم غسل دے چکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اسے اس کے بدن سے لپیٹ دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1257]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر فوت ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اسے تین یا پانچ یا اگر ضرورت ہو تو زیادہ بار غسل دو اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دو۔“ چنانچہ جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمر سے تہبند کھولا اور فرمایا: ”اسے اس میں لپیٹ دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1261
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ , قَال: سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ , يَقُولُ: جَاءَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنَ اللَّاتِي بَايَعْنَ قَدِمَتِ الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، فَحَدَّثَتْنَا , قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي , قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ , فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ"، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ، وَزَعَمَ أَنَّ الْإِشْعَارَ الْفُفْنَهَا فِيهِ، وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ وَلَا تُؤْزَرَ.
ہم سے احمد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ایوب نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن سیرین سے سنا، انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں انصار کی ان خواتین میں سے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، ایک عورت آئی، بصرہ میں انہیں اپنے ایک بیٹے کی تلاش تھی۔ لیکن وہ نہ ملا۔ پھر اس نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل پانی اور بیری کے پتوں سے ہونا چاہیے اور آخر میں کافور بھی استعمال کر لینا۔ غسل سے فارغ ہو کر مجھے خبر کرا دینا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غسل دے چکیں (تو اطلاع دی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار عنایت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بدن سے لپیٹ دو۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں (یہ ایوب نے کہا) اور انہوں نے بتایا کہ «إشعار» کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نعش لپیٹ دی جائے۔ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ عورت کے بدن پر اسے لپیٹا جائے ازار کے طور پر نہ باندھا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1261]
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا انصار کی ان عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بھی کی تھی۔ وہ اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے بصرہ آئیں، لیکن اسے وہاں نہ پایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین بار یا پانچ بار یا اگر ضرورت ہو تو اس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری بار اس میں کافور ملاؤ۔ اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرو۔“ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب ہم فارغ ہو گئیں تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: ”اسے اس میں لپیٹ دو۔“ اور اس سے زیادہ کچھ نہ کہا۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں وہ آپ کی کون سی صاحبزادی تھیں۔ راوی نے کہا: اشعار یہ ہے کہ اسے چادر میں لپیٹ دو۔ اسی طرح ابن سیرین رحمہ اللہ عورت کے متعلق حکم دیتے تھے کہ اسے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اور اسے تہبند نہ باندھا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1263
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَضَفَرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حفصہ نے بیان کیا، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو۔ اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بھی دے سکتی ہو اور آخر میں کافور یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) تھوڑی سی کافور استعمال کرو پھر جب غسل دے چکو تو مجھے خبر دو۔ چنانچہ فارغ ہو کر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے کفن کے لیے) اپنا ازار عنایت کیا۔ ہم نے اس کے سر کے بالوں کی تین چٹیاں کر کے انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1263]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سے ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”(پانی میں) بیری کے پتے ڈال کر اسے تین بار یا پانچ بار اور اگر ضرورت محسوس کرو تو اس سے بھی زیادہ بار غسل دو اور آخری بار (پانی میں) کچھ کافور کی آمیزش کر دو۔ اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دو۔“ چنانچہ جب ہم فارغ ہو گئیں تو آپ کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا، ہم نے ان کے بال گوندھ کر تین چوٹیاں بنائیں اور انہیں پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُنَّ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ:" ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے خالد نے حفصہ بنت سیرین کے واسطے سے نقل کیا، وہ ام عطیہ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی (مرحومہ) صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) کو غسل دینے کے وقت فرمایا تھا کہ غسل داہنی طرف سے دو، اور اعضاء وضو سے غسل کی ابتداء کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 167]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے متعلق عورتوں سے فرمایا: ”غسل دائیں جانب اور وضو کے مقامات سے شروع کریں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة