صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب هل يجعل شعر المرأة ثلاثة قرون:
باب: اس بیان میں کہ کیا عورت میت کے بال تین لٹوں میں تقسیم کر دیئے جائیں؟
حدیث نمبر: 1262
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" ضَفَرْنَا شَعَرَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تَعْنِي ثَلَاثَةَ قُرُونٍ"، وَقَالَ وَكِيعٌ: قَالَ سُفْيَانُ: نَاصِيَتَهَا وَقَرْنَيْهَا.
ہم سے قبیصہ نے حدیث بیان کی، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ام ہذیل نے اور ان سے ام عطیہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کے بال گوندھ کر ان کی تین چٹیاں کر دیں اور وکیع نے سفیان سے یوں روایت کیا، ایک پیشانی کی طرف کے بالوں کی چٹیا اور دو ادھر ادھر کے بالوں کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1262]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بال گوندھ کر ان کی تین مینڈھیاں بنا دی تھیں۔ حضرت وکیع رحمہ اللہ نے اپنے شیخ حضرت سفیان رحمہ اللہ سے اس کی تفصیل بیان کی ہے کہ ایک پیشانی کی طرف کے بالوں کی چوٹی اور باقی دو اطراف کے بالوں کی چوٹیاں مراد ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُنَّ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ:" ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے خالد نے حفصہ بنت سیرین کے واسطے سے نقل کیا، وہ ام عطیہ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی (مرحومہ) صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) کو غسل دینے کے وقت فرمایا تھا کہ غسل داہنی طرف سے دو، اور اعضاء وضو سے غسل کی ابتداء کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 167]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے متعلق عورتوں سے فرمایا: ”غسل دائیں جانب اور وضو کے مقامات سے شروع کریں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة