🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب التلبية إذا انحدر فى الوادي:
باب: نالے میں اترتے وقت لبیک کہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ، أَنَّهُ قَالَ: مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ أَسْمَعْهُ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: أَمَّا مُوسَى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذْ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے ان سے مجاہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے تو یہ نہیں سنا۔ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ نالے میں اترے تو لبیک کہہ رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1555]
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو لوگوں نے دجال کا ذکر کیا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا: گویا میں اس وقت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں کہتے ہوئے وادی کے نشیب میں اتر رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1555]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3355
حَدَّثَنِي بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَذَكَرُوا لَهُ الدَّجَّالَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ أَوْ ك ف ر، قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ وَلَكِنَّهُ، قَالَ: أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى فَجَعْدٌ آدَمُ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي".
ہم سے بیان بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عون نے خبر دی، انہیں مجاہد نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا آپ کے سامنے لوگ دجال کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہو گا کافر یا (یوں لکھا ہوا ہو گا) ک ف ر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ حدیث نہیں سنی تھی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی کہ ابراہیم علیہ السلام (کی شکل و وضع معلوم کرنے) کے لیے تم اپنے صاحب کو دیکھ سکتے ہو اور موسیٰ علیہ السلام کا بدن گٹھا ہوا، گندم گوں، ایک سرخ اونٹ پر سوار تھے۔ جس کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی۔ جیسے میں انہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 3355]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان کے پاس لوگوں نے دجال کا ذکر کیا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان «كَافِرٌ» کافر یا «ك ف ر» ک، ف، ر لکھا ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے یہ الفاظ تو نہیں سنے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا چاہتے ہو تو اپنے صاحب، یعنی میری طرف دیکھ لو۔ رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام تو وہ گھٹے ہوئے جسم والے گندمی رنگ کے آدمی تھے جو سرخ اونٹ پر سوار تھے جس کی نکیل کھجور کی چھال کی بنی ہوئی رسی کی تھی، گویا میں ان کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے نشیبی علاقے میں اتر رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 3355]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ، فَقَالَ" إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ"، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَاكَ، وَلَكِنَّهُ قَالَ:" أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے اور ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا اور کسی نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لفظ کافر لکھا ہو گا۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے میں نے تو نہیں سنا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اگر تمہیں ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے صاحب (خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھو (کہ آپ بالکل ان کے ہم شکل ہیں) اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے ہیں بال گھونگھریالے جیسے اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس نالے وادی ازرق نامی میں لبیک کہتے ہوئے اتر رہے ہیں ان کے سرخ اونٹ کی نکیل کی رسی کھجور کی چھال کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 5913]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا ذکر کیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ آپ نے مزید فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا تھا: اگر تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا چاہتے ہو تو اپنے صاحب کو دیکھ لو، نیز حضرت موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے تھے اور ان کے بال پیچ دار تھے، وہ سرخ اونٹ پر سوار تھے جس کی مہار کھجور کے بالوں کی تھی، گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ وادی میں تلبیہ کہتے ہوئے اتر رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 5913]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں