صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب من أين يخرج من مكة:
باب: مکہ سے جاتے وقت کون سی راہ سے جائے۔
حدیث نمبر: 1581
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ،" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ، وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا كِلَيْهِمَا، وَكَانَ أَكْثَرَ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ أَقْرَبِهِمَا إِلَى مَنْزِلِهِ"، قَال أَبُو عَبْد اللَّهِ: كَدَاءٌ وَكُدًا مَوْضِعَانِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ہشام نے اپنے باپ سے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر کداء سے داخل ہوئے تھے۔ عروہ خود اگرچہ دونوں طرف سے (کداء اور کدیٰ) داخل ہوتے لیکن اکثر آپ کدیٰ کی طرف سے داخل ہوتے تھے کیونکہ یہ راستہ ان کے گھر سے قریب تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ کداء اور کدیٰ دو مقامات کے نام ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1581]
حضرت عروہ رحمہ اللہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مقام «کُدَاء» سے مکہ میں داخل ہوئے۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ مقام «کُدَاء» اور «کَدَا» دونوں جانب سے مکہ میں آتے تھے لیکن اکثر و بیشتر «کُدَاء» کی جانب سے مکہ میں آتے کیونکہ یہ مقام ان کے گھر سے نزدیک تھا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ «کُدَاء» اور «کَدَا» مکہ میں دو مقام ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1581]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1575
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بلند گھاٹی (یعنی جنت المعلیٰ) کی طرف سے داخل ہوتے اور نکلتے ”ثنیہ سفلیٰ“ کی طرف سے یعنی نیچے کی گھاٹی (باب شبیکہ) کی طرف سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1575]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلند گھاٹی سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تھے اور نچلی گھاٹی کی جانب سے نکلتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1575]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1576
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءٍ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ، وَخَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى"، قَال أَبُو عَبْد اللَّهِ: كَانَ يُقَالُ هُوَ مُسَدَّدٌ كَاسْمِهِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: لَوْ أَنَّ مُسَدَّدًا أَتَيْتُهُ فِي بَيْتِهِ فَحَدَّثْتُهُ لَاسْتَحَقَّ ذَلِكَ، وَمَا أُبَالِي كُتُبِي كَانَتْ عِنْدِي أَوْ عِنْدَ مُسَدَّدٍ.
ہم سے مسدد بن مسرہد بصریٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الثنية العليا» یعنی مقام کداء کی طرف سے داخل ہوتے جو بطحاء میں ہے اور «الثنية السفلى.» کی طرف سے نکلتے تھے یعنی نیچے والی گھاٹی کی طرف سے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مسدد اسم بامسمی تھے یعنی مسدد کے معنی عربی زبان میں مضبوط اور درست کے ہیں تو حدیث کی روایت میں مضبوط اور درست تھے اور میں نے یحییٰ بن معین سے سنا وہ کہتے ہیں میں نے یحییٰ قطان سے سنا، وہ کہتے تھے اگر میں مسدد کے گھر جا کر ان کو حدیث سنایا کرتا تو وہ اس کے لائق تھے اور میری کتابیں حدیث کی میرے پاس رہیں یا مسدد کے پاس مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ گویا یحییٰ قطان نے مسدد کی بےحد تعریف کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1576]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلند گھاٹی کے مقام کداء سے، جو بطحاء میں ہے، مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور نچلی گھاٹی کی طرف سے نکلے تھے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں: میرے استاد حضرت مسدد اپنے نام کی طرح (مضبوط اور درست) ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید کے حوالے سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر میں مسدد کے پاس ان کے گھر جاؤں اور وہاں ان سے حدیث بیان کروں تو وہ اس کے حقدار ہیں اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میری کتابیں میرے پاس رہیں یا مسدد کے پاس ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1576]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1578
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ وَخَرَجَ مِنْ كُدًا مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ".
ہم سے محمود بن غیلان مروزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر شہر میں کداء کی طرف سے داخل ہوئے اور کدیٰ کی طرف سے نکلے جو مکہ کے بلند جانب ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1578]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتحِ مکہ کے سال «كُدَاء» کی جانب سے داخل ہوئے اور اعلیٰ مکہ کی جانب مقام «كَدَا» سے واپس تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1578]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1579
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ أَعْلَى مَكَّةَ"، قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ عَلَى كِلْتَيْهِمَا مِنْ كَدَاءٍ وَكُدًا، وَأَكْثَرُ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ، وَكَانَتْ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ.
ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عمرو بن حارث نے خبر دی اور انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ موقع پر داخل ہوتے وقت مکہ کے بالائی علاقہ کداء سے داخل ہوئے۔ ہشام نے بیان کیا کہ عروہ اگرچہ کداء اور کدیٰ دونوں طرف سے داخل ہوتے تھے لیکن اکثر کدیٰ سے داخل ہوتے کیونکہ یہ راستہ ان کے گھر سے قریب تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1579]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مقام «كَدَاء» سے داخل ہوئے جو مکہ مکرمہ کا اوپر والا حصہ ہے۔ ہشام کہتے ہیں کہ حضرت عروہ رحمہ اللہ «كَدَاء» اور «كُدًى» دونوں جانب سے داخل ہوتے تھے، ان کا مکہ میں اکثر داخلہ «كُدًى» سے ہوتا تھا کیونکہ یہ مقام ان کے گھر سے قریب تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1579]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1580
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ،" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ، وَكَانَ عُرْوَةُ أَكْثَرَ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ، وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے ہشام سے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ کے بالائی علاقہ کداء کی طرف سے داخل ہوئے تھے۔ لیکن عروہ اکثر کدیٰ کی طرف سے داخل ہوتے تھے کیونکہ یہ راستہ ان کے گھر سے قریب تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1580]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال اعلیٰ مکہ کے مقام کداء سے داخل ہوئے تھے، حضرت عروہ رحمہ اللہ اکثر و بیشتر مقام کداء سے داخل ہوتے تھے کیونکہ یہ مقام ان کے گھر سے قریب تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1580]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4290
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ الَّتِي بِأَعْلَى مَكَّةَ"، تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ، وَوُهَيْبٌ: فِي كَدَاءٍ.
ہم سے ہشیم بن خارجہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حفص بن میسرہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ کے بالائی علاقہ کداء سے شہر میں داخل ہوئے تھے۔ اس روایت کی متابعت ابواسامہ اور وہیب نے کداء کے ذکر کے ساتھ کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4290]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال کداء کی جانب سے داخل ہوئے جو مکہ کی بالائی جانب ہے“۔ ابو اسامہ اور وہیب نے شعبہ سے ”کداء“ کا لفظ بیان کرنے میں حفص بن میسرہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4290]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4291
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ مِنْ كَدَاءٍ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ کے بالائی علاقہ کداء کی طرف سے داخل ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4291]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ کی بالائی جانب «كَدَاء» کی طرف سے داخل ہوئے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4291]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1577
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ إِلَى مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ أَعْلَاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا".
ہم سے حمیدی اور محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لائے تو اوپر کی بلند جانب سے شہر کے اندر داخل ہوئے اور (مکہ سے) واپس جب گئے تو نیچے کی طرف سے نکل گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1577]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں آئے تو اس کی اعلیٰ جانب سے داخل ہوئے اور نچلی جانب سے باہر نکلے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1577]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة