🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب الرمل فى الحج والعمرة:
باب: حج اور عمرہ میں رمل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1606
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قال:" مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ مُنْذُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا"، قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي لِيَكُونَ أَيْسَرَ لِاسْتِلَامِهِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا۔ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکن یمانی کو چومتے ہوئے دیکھا میں نے بھی اس کے چومنے کو خواہ سخت حالات ہوں یا نرم نہیں چھوڑا۔ میں نے نافع سے پوچھا کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں یمنی رکنوں کے درمیان معمول کے مطابق چلتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ معمول کے مطابق اس لیے چلتے تھے تاکہ حجر اسود کو چھونے میں آسانی رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1606]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کونوں کا استلام کرتے دیکھا ہے، میں نے شدت اور نرمی کسی حال میں بھی ان کا استلام کرنا ترک نہیں کیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے دریافت کیا: کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں کے درمیان معمول کے مطابق چلتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اس لیے معمول کے مطابق چلتے تھے تاکہ حجرِ اسود کو بوسہ دینے میں آسانی رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1611
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال:" سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ، أَرَأَيْتَ إِنْ غُلِبْتُ، قَالَ: اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے زبیر بن عربی نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود کے بوسہ دینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کو بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ اس پر اس شخص نے کہا اگر ہجوم ہو جائے اور میں عاجز ہو جاؤں تو کیا کروں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس اگر وگر کو یمن میں جا کر رکھو میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کو بوسہ دیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1611]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے ہاتھ لگاتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ اس شخص کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا: اچھا بتائیے اگر مجمع زیادہ ہو اور لوگ مجھ پر غالب آ جائیں تو میں کیا کروں؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس قسم کی اگر مگر یمن میں رہنے دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے بوسہ دیتے ہوئے اور چومتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں