صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب الطواف على وضوء:
باب: (کعبہ کا) طواف وضو کر کے کرنا۔
حدیث نمبر: 1642
وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا".
اور مجھے میری والدہ نے خبر دی کہ انہوں نے اپنی بہن اور زبیر اور فلاں فلاں (رضی اللہ عنہم) کے ساتھ عمرہ کیا ہے یہ سب لوگ حجر اسود کا بوسہ لے لیتے تو عمرہ کا احرام کھول دیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1642]
(حضرت عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ) مجھے میری والدہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی، انہوں نے اپنی بہن، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور فلاں فلاں کے ساتھ عمرہ کیا ہے، یہ سب لوگ حجر اسود کو بوسہ دیتے تو احرام کھول دیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1642]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1615
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ذَكَرْتُ لِعُرْوَةَ، قال: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،"أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِثْلَهُ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَهُ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ , وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا.
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے عروہ سے (حج کا مسئلہ) پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (مکہ) تشریف لائے تو سب سے پہلا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ وضو کیا پھر طواف کیا اور طواف کرنے سے عمرہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح حج کیا۔ پھر عروہ نے کہا کہ میں نے اپنے والد زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا۔ مہاجرین اور انصار کو بھی میں نے اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ میری والدہ (اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا) نے بھی مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہن (عائشہ رضی اللہ عنہا) اور زبیر اور فلاں فلاں کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ جب ان لوگوں نے حجر اسود کو بوسہ دے لیا تو احرام کھول ڈالا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1615]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ آئے تو سب سے پہلے وضو کر کے بیت اللہ کا طواف کیا، صرف طواف کرنے ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمرہ مکمل نہیں ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی حج کیا۔ پھر میں نے اپنے والد محترم حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا۔ اس کے بعد میں نے مہاجرین و انصار کو دیکھا کہ وہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ میری والدہ (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اور ان کی ہمشیرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نے، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور فلاں، فلاں نے عمرے کا احرام باندھا، انہوں نے جب حجر اسود کو ہاتھ لگایا (اور طواف مکمل کرنے کے بعد صفا و مروہ کی سعی کی) تو احرام کھول دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1615]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة