صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الاعتكاف ليلا:
باب: صرف رات بھر کے لیے اعتکاف کرنا۔
حدیث نمبر: 2032
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَالَ: فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، میں نے جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2032]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2042
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْفِ نَذْرَكَ فَاعْتَكَفَ لَيْلَةً".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے بھائی (عبدالحمید) سے، ان سے سلیمان نے، ان سے عبیداللہ بن عمر نے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے پوچھا، یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات کا مسجد الحرام میں اعتکاف کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنی نذر پوری کر۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات بھر اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2042]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2043
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَالَ: أُرَاهُ قَالَ لَيْلَةً، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں مسجد الحرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی، عبید نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے رات بھر کا ذکر کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2043]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3144
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيَّ اعْتِكَافُ يَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَفِيَ بِهِ، قَالَ:" وَأَصَابَ عُمَرُ جَارِيَتَيْنِ مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ فَوَضَعَهُمَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ مَكَّةَ، قَالَ: فَمَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَبْيِ حُنَيْنٍ فَجَعَلُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ انْظُرْ مَا هَذَا، فَقَالَ: مَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّبْيِ، قَالَ: اذْهَبْ فَأَرْسِلِ الْجَارِيَتَيْنِ، قَالَ نَافِعٌ: وَلَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ وَلَوِ اعْتَمَرَ لَمْ يَخْفَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، وَزَادَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مِنَ الْخُمُسِ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّذْرِ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمٍ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت (کفر) میں میں نے ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم فرمایا۔ نافع نے بیان کیا کہ حنین کے قیدیوں میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو دو باندیاں ملی تھیں۔ تو آپ نے انہیں مکہ کے کسی گھر میں رکھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا (اور سب کو مفت آزاد کر دیا) تو گلیوں میں وہ دوڑنے لگے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، عبداللہ! دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا ہے (اور حنین کے تمام قیدی مفت آزاد کر دئیے گئے ہیں) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر جا ان دونوں لڑکیوں کو بھی آزاد کر دے۔ نافع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ کا احرام نہیں باندھا تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے عمرہ کا احرام باندھتے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ضرور معلوم ہوتا اور جریر بن حازم نے جو ایوب سے روایت کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، اس میں یوں ہے کہ (وہ دونوں باندیاں جو عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تھیں) خمس میں سے تھیں۔ (اعتکاف سے متعلق یہ روایت) معمر نے ایوب سے نقل کی ہے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نذر کا قصہ جو روایت کیا ہے اس میں ایک دن کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 3144]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4320
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ. ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا قَفَلْنَا مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافٍ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَفَائِهِ"، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ہم غزوہ حنین سے واپس ہو رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک نذر کے متعلق پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں اعتکاف کی مانی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسے پوری کرنے کا حکم دیا اور بعض (احمد بن عبدہ ضبی) نے حماد سے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے۔ اور اس روایت کو جریر بن حازم اور حماد بن سلمہ نے ایوب سے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 4320]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6697
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَالَ:" أَوْفِ بِنَذْرِكَ".
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو عبیداللہ بن عمرو نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 6697]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة