🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ:
باب: تالیف قلوب کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض کافروں وغیرہ نو مسلموں یا پرانے مسلمانوں کو خمس میں سے دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3144
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيَّ اعْتِكَافُ يَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَفِيَ بِهِ، قَالَ:" وَأَصَابَ عُمَرُ جَارِيَتَيْنِ مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ فَوَضَعَهُمَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ مَكَّةَ، قَالَ: فَمَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَبْيِ حُنَيْنٍ فَجَعَلُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ انْظُرْ مَا هَذَا، فَقَالَ: مَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّبْيِ، قَالَ: اذْهَبْ فَأَرْسِلِ الْجَارِيَتَيْنِ، قَالَ نَافِعٌ: وَلَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ وَلَوِ اعْتَمَرَ لَمْ يَخْفَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، وَزَادَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مِنَ الْخُمُسِ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّذْرِ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمٍ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت (کفر) میں میں نے ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم فرمایا۔ نافع نے بیان کیا کہ حنین کے قیدیوں میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو دو باندیاں ملی تھیں۔ تو آپ نے انہیں مکہ کے کسی گھر میں رکھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا (اور سب کو مفت آزاد کر دیا) تو گلیوں میں وہ دوڑنے لگے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، عبداللہ! دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا ہے (اور حنین کے تمام قیدی مفت آزاد کر دئیے گئے ہیں) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر جا ان دونوں لڑکیوں کو بھی آزاد کر دے۔ نافع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ کا احرام نہیں باندھا تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے عمرہ کا احرام باندھتے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ضرور معلوم ہوتا اور جریر بن حازم نے جو ایوب سے روایت کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، اس میں یوں ہے کہ (وہ دونوں باندیاں جو عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تھیں) خمس میں سے تھیں۔ (اعتکاف سے متعلق یہ روایت) معمر نے ایوب سے نقل کی ہے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نذر کا قصہ جو روایت کیا ہے اس میں ایک دن کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3144]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک دن اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منت پورا کرنے کا حکم دیا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حنین کی قیدی عورتوں میں سے وہ لونڈیاں ملی تھیں جن کو انہوں نے مکہ مکرمہ کے ایک مکان میں رکھا تھا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا (اور انہیں آزاد کر دیا) تو وہ گلی کوچوں میں دوڑنے لگے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عبداللہ! دیکھو کیا بات ہے؟ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں پر احسان کرتے ہوئے انہیں آزاد کر دیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جاؤ، تم بھی ان دونوں لونڈیوں کو آزاد کر دو۔ نافع رحمہ اللہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ نہیں کیا تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے عمرہ کیا ہوتا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر مخفی نہ رہتا۔ جریر کی روایت میں ہے کہ وہ دونوں لونڈیاں مالِ خمس سے ملی تھیں۔ معمر نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نذرِ اعتکاف کا جو قصہ بیان کیا ہے اس میں ”ایک دن“ کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3144]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
7119

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبتت حجة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبتت حجة
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص
Newعمر بن الخطاب العدوي ← جرير بن حازم الأزدي
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت تغير في آخر عمره
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3144
علي اعتكاف يوم في الجاهلية فأمره أن يفي به أصاب عمر جاريتين من سبي حنين فوضعهما في بعض بيوت مكة قال فمن رسول الله على سبي حنين فجعلوا يسعون في السكك فقال عمر يا عبد الله انظر ما هذا فقال من رسول الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3144 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3144
حدیث حاشیہ:
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے دو لونڈیاں بطور احسان حضرت عمر ؓ کو دیں۔
روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جعرانہ سے عمرہ کا احرام نہ باندھنا مذکور ہے۔
حالانکہ دوسرے بہت سے لوگوں نے نقل کیا ہے کہ آپ جب حنین اورطائف سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھا اور اثبات نفی پر مقدم ہے۔
ممکن ہے عبداللہ بن عمر ؓکو اس کی خبر ہو لیکن انہوں نے نافع سے نہ بیان کیا ہو، اس حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ کوئی شخص حالت کفر میں کوئی نیک کام کرنے کی نذر مانے تو اسلام لانے کے بعد وہ نذر پوری کرنی ہوگی۔
حنین کے قیدیوں کو بھی بلا معاوضہ آزاد کر دینا انسانیت پروری کے سلسلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس پر امت مسلمہ ہمیشہ نازاں رہے گی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3144]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3144
حدیث حاشیہ:
1۔
اس روایت میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال خمس سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دو لونڈیاں دی تھیں۔
امام بخاری ؒ نے خمس کے متعلق امام وقت کے صوابدیدی اختیارات ثابت کرنے کے لیے اس حدیث کو پیش کیا ہے اس روایت میں مقام جعرانہ سے عمرے کے لیے احرام نہ باندھنے کا ذکر ہے حالانکہ دیگر بہت سی روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حنین اور طائف سے فارغ ہوئے تو آپ نے جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھا؟ ممکن ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اسے بھول گئے ہوں یا انھیں یاد ہو لیکن انھوں نے اس امر کو نافع سے بیان نہ کیا ہو۔
بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھا ہے۔
2۔
حنین کے قیدیوں کو بلا معاوضہ آزاد کردینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس پر امت مسلمہ جس قدر بھی فخر کرے۔
کم ہے۔
اس سے بڑھ کر انسانیت پروری اور کیا ہو سکتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3144]

Sahih Bukhari Hadith 3144 in Urdu