صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
104. باب بيع التصاوير التى ليس فيها روح وما يكره من ذلك:
باب: غیر جاندار چیزوں کی تصویر بیچنا اور اس میں کون سی تصویر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 2225
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، إِنِّي إِنْسَانٌ، إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا، فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ"، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: سَمِعَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، مِنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ هَذَا الْوَاحِدَ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہیں عوف بن ابی حمید نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی حسن نے، کہا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اور کہا کہ اے ابوعباس! میں ان لوگوں میں سے ہوں، جن کی روزی اپنے ہاتھ کی صنعت پر موقوف ہے اور میں یہ مورتیں بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر فرمایا کہ میں تمہیں صرف وہی بات بتلاؤں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی مورت بنائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک عذاب کرتا رہے گا جب تک وہ شخص اپنی مورت میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکتا (یہ سن کر) اس شخص کا سانس چڑھ گیا اور چہرہ زرد پڑ گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ افسوس! اگر تم مورتیں بنانی ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی جس میں جان نہیں ہے مورتیں بنا سکتے ہو۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس سے صرف یہی ایک حدیث سنی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2225]
حضرت سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان کے ہاں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابو عباس! میں ایک ایسا انسان ہوں جس کا پیشہ صرف دستکاری ہے، میں یہ تصویریں بناتا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تجھے وہی بات کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کوئی تصویر بنائی تو اللہ اسے عذاب دیتا رہے گا تاآنکہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ کبھی اس میں روح نہیں ڈال سکے گا۔“ یہ سن کر اس شخص کا سانس رک گیا اور چہرہ فق ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تیرا بھلا ہو! اگر تجھے تصویریں بنانے پر اصرار ہے تو درختوں یا ان چیزوں کی تصویریں بنا لیا کر جن میں روح نہیں ہے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے حضرت نضر بن انس رضی اللہ عنہ سے یہی ایک حدیث سنی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2225]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5950
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ مَسْرُوقٍ فِي دَارِ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ، فَرَأَى فِي صُفَّتِهِ تَمَاثِيلَ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ".
ہم سے حمیدی عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے مسلم بن صبیحہ نے بیان کیا کہ ہم مسروق بن اجدع کے ساتھ یسار بن نمیر کے گھر میں تھے۔ مسروق نے ان کے گھر کے سائبان میں تصویریں دیکھیں تو کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5950]
حضرت مسلم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم مسروق کے ہمراہ یسار بن نمیر کے گھر میں تھے۔ مسروق نے ان کے سائبان میں چند تصاویر دیکھیں تو کہا: ”میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ کے ہاں جن لوگوں کو سخت ترین سزا دی جائے گی وہ تصویر کشی کرنے والے ہوں گے۔“” [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5950]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5951
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ یہ مورتیں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا ہے اب اس میں جان بھی ڈالو۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5951]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ یہ تصاویر بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا ہے اس میں روح بھی ڈالو۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5951]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5954
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، وَمَا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سَتَرْتُ بِقِرَامٍ لِي عَلَى سَهْوَةٍ لِي فِيهَا تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَتَكَهُ، وَقَالَ:" أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ" قَالَتْ: فَجَعَلْنَاهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، ان دنوں مدینہ منورہ میں ان سے بڑھ کر عالم فاضل نیک کوئی آدمی نہیں تھا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (قاسم بن ابی بکر) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر (غزوہ تبوک) سے تشریف لائے تو میں نے اپنے گھر کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا تھا، اس پر تصویریں تھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اسے کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ لوگ گرفتار ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی طرح خود بھی بناتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے پھاڑ کر اس پردہ کی ایک یا دو توشک بنا لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5954]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے تو میں نے اپنے گھر کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا جس پر تصویریں تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو اسے کھینچ کر پھاڑ ڈالا اور فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے زیادہ سنگین عذاب میں وہ لوگ گرفتار ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کی مشابہت کرتے ہیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ”ہم نے (اس پردے کو پھاڑ کر) اس کے لیے ایک یا دو تکیے بنا لیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5954]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5957
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْباب فَلَمْ يَدْخُلْ، فَقُلْتُ: أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مِمَّا أَذْنَبْتُ؟ قَالَ:" مَا هَذِهِ النُّمْرُقَةُ؟" قُلْتُ: لِتَجْلِسَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا، قَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اسے دیکھ کر) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہیں لائے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے جو غلطی کی ہے اس سے میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا کس لیے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورت کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ اور فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں مورت ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5957]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے ایک چھوٹا سا گدا خریدا جس میں تصویریں تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (اسے دیکھ کر) دروازے ہی پر کھڑے رہے، اندر داخل نہ ہوئے۔ میں نے کہا: ”(اللہ کے رسول!) میں اللہ کے حضور اس غلطی سے توبہ کرتی ہوں جس کا میں نے ارتکاب کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گدا کس لیے ہے؟“ میں نے عرض کی: ”یہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اس قسم کی تصاویر بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے بنایا تھا اسے زندہ کر کے دکھاؤ۔ اور جس میں تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5957]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5961
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْباب فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ؟ قَالَ:" مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ" فَقَالَتْ: اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ" وَقَالَ:" إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں مورتیں تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے۔ میں آپ کے چہرے سے ناراضگی پہچان گئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ سے اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گدا کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورتوں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اب ان میں جان بھی ڈالو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں مورت ہوتی ہے اس میں (رحمت کے) فرشتے نہیں داخل ہوتے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5961]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں تصویریں تھیں، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہ آئے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب آپ کے چہرہ انور پر ناراضی کے اثرات دیکھے تو عرض کی: ”اللہ کے رسول! میں اللہ تعالیٰ کے حضور اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا گناہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گدا کیسا ہے؟“ میں نے عرض کی: ”یہ اس لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اس قسم کی تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن سخت ترین عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے بنایا تھا اس میں روح ڈالو۔“ نیز فرمایا: ”جس گھر میں تصویر ہوتی ہے وہاں فرشتے نہیں آتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5961]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5963
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ قَتَادَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُمْ يَسْأَلُونَهُ وَلَا يَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سُئِلَ فَقَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ".
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے نضر بن مالک سے سنا، وہ قتادہ سے بیان کرتے تھے کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا لوگ ان سے مختلف مسائل پوچھ رہے تھے۔ جب تک ان سے خاص طور سے پوچھا نہ جاتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ نہیں دیتے تھے پھر انہوں نے کہا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں مورت بنائے گا قیامت کے دن اس پر زور ڈالا جائے گا کہ اسے وہ زندہ بھی کرے حالانکہ وہ اسے زندہ نہیں کر سکتا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5963]
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا جبکہ وہ لوگ ان سے مختلف مسائل پوچھ رہے تھے، اور میں نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے سنا—جب تک ان سے خاص طور پر نہ پوچھا جاتا وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ) نہیں دیتے تھے—: ”جس نے دنیا میں تصویر بنائی، اسے قیامت کے دن تکلیف دی جائے گی کہ وہ اسے زندہ بھی کرے جبکہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5963]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6109
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ قِرَامٌ فِيهِ صُوَرٌ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ، ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَكَهُ، وَقَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُصَوِّرُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ".
ہم سے بسرہ بن صفوان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے قاسم نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور گھر میں ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس پر تصویریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ نے پردہ پکڑا اور اسے پھاڑ دیا۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ان لوگوں پر سب سے زیادہ عذاب ہو گا، جو یہ صورتیں بناتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 6109]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور گھر میں ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس پر تصویریں تھیں۔ (اسے دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پردہ پکڑا اور اسے پھاڑ دیا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ان لوگوں کو سخت عذاب دیا جائے گا جو یہ تصویریں بناتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 6109]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7042
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَحَلَّمَ بِحُلْمٍ لَمْ يَرَهُ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَنْ يَفْعَلَ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ أَوْ يَفِرُّونَ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ"، قَالَ سُفْيَانُ: وَصَلَهُ لَنا أَيُّوبُ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَوْلَهُ مَنْ كَذَبَ فِي رُؤْيَاهُ، وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَوْلَهُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، وَمَنْ تَحَلَّمَ، وَمَنِ اسْتَمَعَ. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنِ اسْتَمَعَ، وَمَنْ تَحَلَّمَ، وَمَنْ صَوَّرَ نَحْوَهُ، تَابَعَهُ هِشَامٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ایسا خواب بیان کیا جو اس نے دیکھا نہ ہو تو اسے دو جَو کے دو دانوں کو قیامت کے دن جوڑنے کے لیے کہا جائے گا اور وہ اسے ہرگز نہیں کر سکے گا (اس لیے مار کھاتا رہے گا) اور جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے جو اسے پسند نہیں کرتے یا اس سے بھاگتے ہیں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جو کوئی تصویر بنائے گا اسے عذاب دیا جائے گا اور اس پر زور دیا جائے گا کہ اس میں روح بھی ڈالے جو وہ نہیں کر سکے گا۔ اور سفیان نے کہا کہ ہم سے ایوب نے یہ حدیث موصولاً بیان کی اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جو اپنے خواب کے سلسلے میں جھوٹ بولے۔ اور شعبہ نے کہا، ان سے ابوہاشم الرمانی نے، انہوں نے عکرمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (کا قول موقوفاً) جو شخص مورت بنائے، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، جو شخص کان لگا کر دوسروں کی باتیں سنے۔ ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جو کسی کی بات کان لگا کر سننے کے پیچھے لگا اور جس نے غلط خواب بیان کیا اور جس نے تصویر بنائی (ایسی ہی حدیث نقل کی موقوفاً ابن عباس سے) خالد حذاء کے ساتھ اس حدیث کو ہشام بن حسان فردوسی نے بھی عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 7042]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا خواب بیان کیا جو اس نے نہ دیکھا ہو تو قیامت کے دن اسے جو کے دو دانوں میں (گرہ لگانے کا مکلف کیا جائے گا مگر وہ) ہرگز نہ کر سکے گا۔ اور جس شخص نے کسی قوم کی باتوں پر کان لگایا حالانکہ وہ اسے ناپسند سمجھتے ہوں یا وہ اس سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ اور جو کوئی تصویر بنائے گا اسے عذاب دیا جائے گا اور اس پر زور دیا جائے گا کہ وہ اس میں روح ڈالے جو وہ نہیں کر سکے گا۔“ سفیان نے کہا: ہم سے ایوب نے یہ حدیث متصل سند سے بیان کی ہے اور قتیبہ بن سعید نے کہا: ہم سے ابوعوانہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ: ”جو اپنے خواب کے سلسلے میں جھوٹ بولے“، شعبہ نے ابوہاشم رمانی سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عکرمہ سے سنا، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کا قول بیان کیا: ”جو شخص تصویر بنائے، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے اور جو شخص کان لگا کر دوسروں کی بات سنے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 7042]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7557
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 7557]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے پیدا کیا تھا ان کو زندہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 7557]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7558
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 7558]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے پیدا کیا تھا انہیں زندہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 7558]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة