🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب السلم إلى أجل معلوم:
باب: بیع سلم میں میعاد معین ہونی چاہئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ:" أَسْلِفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ"، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، وَقَالَ: فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں میں دو اور تین سال تک کے لیے بیع سلم کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ پھلوں میں بیع سلم مقررہ پیمانے اور مقررہ مدت کے لیے کیا کرو۔ اور عبداللہ بن ولید نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، اس روایت میں یوں ہے کہ پیمانے اور وزن کی تعیین کے ساتھ (بیع سلم ہونی چاہئیے)۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2253]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں کے متعلق دو، دو سال اور تین، تین سال ادھار پر سودا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے پھلوں میں ادھار کرنا ہے تو ماپ بھی معلوم ہو، مدت بھی معین ہو۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھلوں کا ماپ یا وزن معلوم ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2253]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2239
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فِي الثَّمَرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ، أَوْ قَالَ: عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، شَكَّ إِسْمَاعِيلُ، فَقَالَ:" مَنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ".
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، انہیں ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن کثیر نے، انہیں ابومنہال نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو (مدینہ کے) لوگ پھلوں میں ایک سال یا دو سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ دو سال اور تین سال (کے لیے کرتے تھے) شک اسماعیل کو ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بھی کھجور میں بیع سلم کرے، اسے مقررہ پیمانے یا مقررہ وزن کے ساتھ کرنی چاہئیے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2239]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو (مدینہ کے) لوگ پھلوں میں سال یا دو سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے، یا انہوں نے فرمایا کہ دو سال یا تین سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے، اسماعیل (ابن علیہ) کو شک ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کھجوروں کے لیے پیشگی ادائیگی کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ معین ماپ اور معین وزن کی وضاحت کے ساتھ بیع سلم کرے۔ محمد نے بھی اسماعیل ابن علیہ کے طریق سے انہی الفاظ میں یہ روایت بیان کی ہے، یعنی معین ماپ اور مقرر وزن میں بیع سلم کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2239]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2241
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے عبداللہ بن کثیر نے، اور ان سے ابومنہال نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقررہ وزن اور مقررہ مدت تک کے لیے (بیع سلم) ہونی چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2241]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے پھر مذکورہ بالا حدیث یوں بیان فرمائی: معین ماپ، معین وزن اور معین مدت ٹھہرا کر بیع سلم کی جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2241]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں