صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب السلم إلى أجل معلوم:
باب: بیع سلم میں میعاد معین ہونی چاہئے۔
حدیث نمبر: Q2253
وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَالْأَسْوَدُ، وَالْحَسَنُ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا بَأْسَ فِي الطَّعَامِ الْمَوْصُوفِ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ، مَا لَمْ يَكُ ذَلِكَ فِي زَرْعٍ لَمْ يَبْدُ صَلَاحُهُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور اسود اور امام حسن بصری نے یہی کہا ہے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر غلہ کا نرخ اور اس کی صفت بیان کر دی جائے تو میعاد معین کر کے اس میں بیع سلم کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ اگر یہ غلہ کسی خاص کھیت کا نہ ہو، جو ابھی پکا نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: Q2253]
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ:" أَسْلِفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ"، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، وَقَالَ: فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں میں دو اور تین سال تک کے لیے بیع سلم کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ پھلوں میں بیع سلم مقررہ پیمانے اور مقررہ مدت کے لیے کیا کرو۔ اور عبداللہ بن ولید نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، اس روایت میں یوں ہے کہ ”پیمانے اور وزن کی تعیین کے ساتھ“ (بیع سلم ہونی چاہئیے)۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2253]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں کے متعلق دو، دو سال اور تین، تین سال ادھار پر سودا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے پھلوں میں ادھار کرنا ہے تو ماپ بھی معلوم ہو، مدت بھی معین ہو۔“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھلوں کا ماپ یا وزن معلوم ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2253]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2240
| من أسلف في شيء ففي كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم |
صحيح البخاري |
2239
| من سلف في تمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم |
صحيح البخاري |
2253
| أسلفوا في الثمار في كيل معلوم إلى أجل معلوم |
صحيح مسلم |
4118
| من أسلف في تمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم |
صحيح مسلم |
4119
| من أسلف فلا يسلف إلا في كيل معلوم ووزن معلوم |
جامع الترمذي |
1311
| من أسلف فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم |
سنن أبي داود |
3463
| من أسلف في تمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم |
سنن النسائى الصغرى |
4620
| من أسلف سلفا فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم |
سنن ابن ماجه |
2280
| من أسلف في تمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم |
المعجم الصغير للطبراني |
533
| من أسلف فليسلف إلى أجل مسمى وكيل معلوم |
بلوغ المرام |
719
| من أسلف في ثمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم |
مسندالحميدي |
520
| من أسلف فليسلف في تمر معلوم، ووزن معلوم، وكيل معلوم إلى أجل معلوم |
Sahih Bukhari Hadith 2253 in Urdu
سفيان الثوري ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي