صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب السلم إلى أجل معلوم:
باب: بیع سلم میں میعاد معین ہونی چاہئے۔
حدیث نمبر: 2255
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، فَسَأَلْتُهُمَا عَنِ السَّلَفِ؟ فَقَالَا: كُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّأْمِ، فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى، قَالَ: قُلْتُ: أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ زَرْعٌ؟ قَالَا: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں سلیمان شیبانی نے، انہیں محمد بن ابی مجالد نے، کہا کہ مجھے ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد نے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھیجا۔ میں نے ان دونوں حضرات سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غنیمت کا مال پاتے، پھر شام کے انباط (ایک کاشتکار قوم) ہمارے یہاں آتے تو ہم ان سے گیہوں، جَو اور منقی کی بیع سلم ایک مدت مقرر کر کے کر لیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں نے پوچھا کہ ان کے پاس اس وقت یہ چیزیں موجود بھی ہوتی تھیں یا نہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم اس کے متعلق ان سے کچھ پوچھتے ہی نہیں تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2255]
حضرت محمد بن ابومجالد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت ابو بردہ اور عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہما نے حضرت عبدالرحمان بن ابزی اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، چنانچہ میں نے ان سے بیع سلم کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غنیمت کا مال ملتا تھا اور ہمارے پاس ملک شام کے کاشتکاروں میں سے کچھ لوگ آتے تو ہم ان سے گندم، جو اور منقیٰ کے متعلق معین مدت کی ادائیگی تک بیع سلم کرتے تھے۔ میں نے کہا: ان کی کھیتی ہوتی تھی یا نہیں؟ انہوں نے کہا: اس کے متعلق ہم ان سے دریافت نہیں کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2255]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2242
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وحَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّا كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ"، وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی مجالد نے (تیسری سند) اور ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے محمد بن ابی مجالد نے۔ (دوسری سند) ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے محمد اور عبداللہ بن ابی مجالد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن شداد بن الہاد اور ابوبردہ میں بیع سلم کے متعلق باہم اختلاف ہوا۔ تو ان حضرات نے مجھے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ چنانچہ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں گیہوں، جَو، منقی اور کھجور کی بیع سلم کرتے تھے۔ پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2242]
حضرت عبداللہ بن ابومجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن شداد اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیع سلم کے متعلق اختلاف کیا تو لوگوں نے مجھے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا۔ میں نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں گندم، جو، منقیٰ اور کھجور میں بیع سلم کرتے تھے۔ پھر میں نے ابن ابزی رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2242]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2243
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وحَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّا كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ"، وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی مجالد نے (تیسری سند) اور ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے محمد بن ابی مجالد نے۔ (دوسری سند) ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے محمد اور عبداللہ بن ابی مجالد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن شداد بن الہاد اور ابوبردہ میں بیع سلم کے متعلق باہم اختلاف ہوا۔ تو ان حضرات نے مجھے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ چنانچہ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں گیہوں، جَو، منقی اور کھجور کی بیع سلم کرتے تھے۔ پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2243]
حضرت عبداللہ بن ابو مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن شداد اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیع سلم کے متعلق اختلاف کیا تو لوگوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا۔ میں نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں گندم، جو، منقیٰ اور کھجور میں بیع سلم کرتے تھے۔ پھر میں نے حضرت عبداللہ بن ابزی رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2243]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة