صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الشركة فى الطعام والنهد والعروض:
باب: کھانے، سفر خرچ اور اسباب میں شرکت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2483
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَأَنَا فِيهِمْ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِكَ الْجَيْشِ، فَجُمِعَ ذَلِكَ كُلُّهُ، فَكَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ، فَكَانَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّى فَنِيَ فَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ، فَقُلْتُ: وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ؟ فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ، قَالَ: ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ، فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں وہب بن کیسان نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رجب 7 ھ میں) ساحل بحر کی طرف ایک لشکر بھیجا۔ اور اس کا امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ فوجیوں کی تعداد تین سو تھی اور میں بھی ان میں شریک تھا۔ ہم نکلے اور ابھی راستے ہی میں تھے کہ توشہ ختم ہو گیا۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ تمام فوجی اپنے توشے (جو کچھ بھی باقی رہ گئے ہوں) ایک جگہ جمع کر دیں۔ سب کچھ جمع کرنے کے بعد کھجوروں کے کل دو تھیلے ہو سکے اور روزانہ ہمیں اسی میں سے تھوڑی تھوڑی کھجور کھانے کے لیے ملنے لگی۔ جب اس کا بھی اکثر حصہ ختم ہو گیا تو ہمیں صرف ایک ایک کھجور ملتی رہی۔ میں (وہب بن کیسان) نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہا بھلا ایک کھجور سے کیا ہوتا ہو گا؟ انہوں نے بتلایا کہ اس کی قدر ہمیں اس وقت معلوم ہوئی جب وہ بھی ختم ہو گئی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ آخر ہم سمندر تک پہنچ گئے۔ اتفاق سے سمندر میں ہمیں ایک ایسی مچھلی مل گئی جو (اپنے جسم میں) پہاڑ کی طرح معلوم ہوتی تھی۔ سارا لشکر اس مچھلی کو اٹھارہ راتوں تک کھاتا رہا۔ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی دونوں پسلیوں کو کھڑا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اونٹوں کو ان کے تلے سے چلنے کا حکم دیا۔ اور وہ ان پسلیوں کے نیچے سے ہو کر گزرے، لیکن اونٹ نے ان کو چھوا تک نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 2483]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ ساحل کی طرف روانہ فرمایا جس پر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا، وہ دستہ تین سو افراد پر مشتمل تھا اور میں بھی ان میں شامل تھا، چنانچہ ہم روانہ ہوئے، ابھی راستے ہی میں تھے کہ ہماری خوراک ختم ہو گئی۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ جو زادِ راہ بچا ہے اسے جمع کیا جائے، جب اسے جمع کیا گیا تو کھجوروں کے دو تھیلے بن گئے۔ وہ ہمیں اس میں سے روزانہ تھوڑی تھوڑی خوراک دینے لگے۔ جب وہ بھی ختم ہونے لگا تو ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور ملنا شروع ہو گئی۔ میں (وہب بن کیسان) نے (حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے) دریافت کیا: ایک کھجور سے کیا بنتا ہو گا؟ انہوں نے کہا: جب وہ (ایک کھجور) بھی نہ رہی تو ہمیں احساس ہوا کہ یہ بھی غنیمت تھی۔ پھر ایسا ہوا کہ ہم ساحلِ سمندر پر پہنچے تو ایک بہت بڑی، پہاڑ جیسی مچھلی ملی جسے لشکر اٹھارہ دن تک کھاتا رہا۔ پھر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی دونوں پسلیوں کو کھڑا کرنے کا حکم دیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ کجاوے سمیت اونٹ اس کے نیچے سے گزرے تو وہ ان کے نیچے سے گزر گیا اور کسی طرف سے انہیں چھوا تک نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 2483]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2983
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" خَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَأْكُلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ تَمْرَةً، قَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَأَيْنَ كَانَتِ التَّمْرَةُ تَقَعُ مِنَ الرَّجُلِ، قَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا حَتَّى أَتَيْنَا الْبَحْرَ، فَإِذَا حُوتٌ قَدْ قَذَفَهُ الْبَحْرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا أَحْبَبْنَا".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں وہب بن کیسان نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم (ایک غزوہ پر) نکلے۔ ہماری تعداد تین سو تھی، ہم اپنا راشن اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ آخر ہمارا توشہ جب (تقریباً) ختم ہو گیا، تو ایک شخص کو روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملنے لگی۔ ایک شاگرد نے پوچھا، اے ابوعبداللہ! (جابر رضی اللہ عنہ) ایک کھجور سے بھلا ایک آدمی کا کیا بنتا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کی قدر ہمیں اس وقت معلوم ہوئی جب ایک کھجور بھی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اس کے بعد ہم دریا پر آئے تو ایک ایسی مچھلی ملی جسے دریا نے باہر پھینک دیا تھا۔ اور ہم اٹھارہ دن تک خوب جی بھر کر اسی کو کھاتے رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 2983]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم تین سو آدمی جہاد کے لیے نکلے۔ ہم اپنا راشن اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ اس دوران میں ہمارا راشن ختم ہو گیا حتیٰ کہ ایک شخص کو روزانہ ایک کھجور کھانے کو ملتی تھی۔ ایک شاگرد نے پوچھا: ابو عبداللہ! ایک کھجور سے آدمی کیسے گزارا کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس کی قدر و قیمت ہمیں اس وقت معلوم ہوئی جب کھانے کو ایک کھجور بھی نہیں ملتی تھی، حتیٰ کہ ہم سمندر کے کنارے پر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک مچھلی ہے جسے سمندر نے باہر پھینک دیا ہے۔ ہم نے اسے اٹھارہ دن تک اپنی چاہت کے مطابق کھایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 2983]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4360
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ، فَخَرَجْنَا وَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ الْجَيْشِ، فَجُمِعَ، فَكَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ فَكَانَ يَقُوتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلٌ قَلِيلٌ حَتَّى فَنِيَ، فَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ، فَقُلْتُ:" مَا تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ"، فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ، ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ، فَأَكَلَ مِنْهَا الْقَوْمُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے وہیب بن کیسان نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل سمندر کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ اس میں تین سو آدمی شریک تھے۔ خیر ہم مدینہ سے روانہ ہوئے اور ابھی راستے ہی میں تھے کہ راشن ختم ہو گیا، جو کچھ بچ رہا تھا وہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں روزانہ تھوڑا تھوڑا اسی میں سے کھانے کو دیتے رہے۔ آخر جب یہ بھی ختم کے قریب پہنچ گیا تو ہمارے حصے میں صرف ایک ایک کھجور آتی تھی۔ وہب نے کہا میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک کھجور سے کیا ہوتا رہا ہو گا؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا وہ ایک کھجور ہی غنیمت تھی۔ جب وہ بھی نہ رہی تو ہم کو اس کی قدر معلوم ہوئی تھی، آخر ہم سمندر کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں کیا دیکھتے ہیں بڑے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی نکل کر پڑی ہے۔ اس مچھلی کو سارا لشکر اٹھارہ راتوں تک کھاتا رہا۔ بعد میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس کی پسلی کی دو ہڈیاں کھڑی کی گئیں وہ اتنی اونچی تھیں کہ اونٹ پر کجاوہ کسا گیا وہ ان کے تلے سے نکل گیا اور ہڈیوں کو بالکل نہیں لگا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 4360]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر ساحلِ سمندر کی طرف بھیجا اور ان کا امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا، اس میں تین سو آدمی شریک تھے۔ بہرحال ہم (مدینہ طیبہ سے) نکلے، ابھی راستے ہی میں تھے کہ زادِ راہ ختم ہو گیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ سب لوگ اپنا اپنا زادِ سفر ایک جگہ جمع کر دیں، زادِ سفر کھجور کے دو تھیلوں کے برابر جمع ہوا۔ اس میں سے وہ ہمیں ہر روز تھوڑا تھوڑا دیتے رہے حتیٰ کہ وہ بھی ختم ہو گیا، پھر تو ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور ملتی تھی۔ راویِ حدیث نے کہا: ”بھلا تمہارا ایک کھجور سے کیا کام چلتا ہوگا؟“ انہوں نے کہا: ”(ایک کھجور بھی غنیمت تھی) جب وہ بھی نہ رہی تو ہمیں اس کی قدر و قیمت معلوم ہوئی۔“ پھر ہم سمندر کی طرف گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بڑے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی موجود ہے۔ ہمارا لشکر اس میں سے اٹھارہ (19) دن تک کھاتا رہا۔ پھر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی جائیں، دیکھا تو وہ اس قدر اونچی تھیں کہ سواری کے اونٹ پر کجاوہ رکھ کر اس کے نیچے سے گزارا گیا تو وہ سواری ان کے نیچے سے صاف نکل گئی اور پسلیوں تک نہ پہنچ سکی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 4360]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4361
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً، يُقَالُ لَهَا: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنَصَبَهُ فَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ، قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنَصَبَهُ وَأَخَذَ رَجُلًا وَبَعِيرًا فَمَرَّ تَحْتَهُ، قَالَ جَابِرٌ: وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ، وَكَانَ عَمْرٌو يَقُولُ: أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ لِأَبِيهِ: كُنْتُ فِي الْجَيْشِ، فَجَاعُوا، قَالَ: انْحَرْ، قَالَ: نَحَرْتُ، قَالَ: ثُمَّ جَاعُوا، قَالَ: انْحَرْ، قَالَ: نَحَرْتُ، قَالَ: ثُمَّ جَاعُوا، قَالَ: انْحَرْ، قَالَ: نَحَرْتُ، ثُمَّ جَاعُوا، قَالَ: انْحَرْ، قَالَ: نُهِيتُ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے عمرو بن دینار سے جو یاد کیا وہ یہ ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارا امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ تاکہ ہم قریش کے قافلہ تجارت کی تلاش میں رہیں۔ ساحل سمندر پر ہم پندرہ دن تک پڑاؤ ڈالے رہے۔ ہمیں (اس سفر میں) بڑی سخت بھوک اور فاقے کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک نوبت پہنچی کہ ہم نے ببول کے پتے کھا کر وقت گذارا۔ اسی لیے اس فوج کا لقب پتوں کی فوج ہو گیا۔ پھر اتفاق سے سمندر نے ہمارے لیے ایک مچھلی جیسا جانور ساحل پر پھینک دیا، اس کا نام عنبر تھا، ہم نے اس کو پندرہ دن تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر (اپنے جسموں پر) ملا۔ اس سے ہمارے بدن کی طاقت و قوت پھر لوٹ آئی۔ بعد میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی نکال کر کھڑی کروائی اور جو لشکر میں سب سے لمبے آدمی تھے، انہیں اس کے نیچے سے گزارا۔ سفیان بن عیینہ نے ایک مرتبہ اس طرح بیان کیا کہ ایک پسلی نکال کر کھڑی کر دی اور ایک شخص کو اونٹ پر سوار کرایا وہ اس کے نیچے سے نکل گیا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لشکر کے ایک آدمی نے پہلے تین اونٹ ذبح کئے پھر تین اونٹ ذبح کئے اور جب تیسری مرتبہ تین اونٹ ذبح کئے تو ابوعبیدہ نے انہیں روک دیا کیونکہ اگر سب اونٹ ذبح کر دیتے تو سفر کیسے ہوتا اور عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ ہم کو ابوصالح ذکوان نے خبر دی کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے (واپس آ کر) اپنے والد (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) سے کہا کہ میں بھی لشکر میں تھا جب لوگوں کو بھوک لگی تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو، قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ذبح کر دیا کہا کہ پھر بھوکے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو، میں نے ذبح کیا، بیان کیا کہ جب پھر بھوکے ہوئے تو کہا کہ اونٹ ذبح کرو، میں نے ذبح کیا، پھر بھوکے ہوئے تو کہا کہ اونٹ ذبح کرو، پھر قیس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس مرتبہ مجھے امیر لشکر کی طرف سے منع کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 4361]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین سو (300) سواروں کے ساتھ روانہ فرمایا اور ہمارا امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ ہم قریش کے قافلے کا انتظار کرتے تھے۔ ساحلِ سمندر پر ہم پندرہ (15) دن تک پڑاؤ ڈالے رہے۔ ہمیں اس دوران میں سخت بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ نوبت بایں جا رسید کہ ہم نے کیکر کے پتے کھا کر وقت بسر کیا، اسی لیے اس لشکر کو ”کیکر کے پتے کھانے والا لشکر“ کہا جاتا ہے۔ پھر اتفاق سے سمندر نے ہمارے لیے ایک جانور کنارے پر پھینک دیا جس کا نام عنبر تھا۔ ہم نے اس کو پندرہ دن تک کھایا اور اس کی چربی کو بطور تیل جسموں پر ملا تو ہمارے جسم فربہ اور قوی ہو گئے۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی اور اسے کھڑا کیا، پھر لشکر میں سے جو طویل القامت آدمی تھا اسے اس کے نیچے سے گزارا۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ اس طرح بیان کیا کہ انہوں نے ایک پسلی نکال کر کھڑی کر دی، پھر ایک شخص کو اونٹ پر سوار کر دیا تو وہ اس کے نیچے سے گزر گیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لشکر کے ایک آدمی نے پہلے تین اونٹ ذبح کیے، پھر تین اونٹ ذبح کیے اور جب تیسری مرتبہ تین اونٹ ذبح کیے تو پھر (امیرِ لشکر) حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اسے روک دیا۔“ عمرو کہتے ہیں کہ ہمیں ابو صالح نے خبر دی کہ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے کہا: ”میں اس لشکر میں تھا، جب لوگوں کو بھوک لگی تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اونٹ ذبح کرو۔ میں نے اونٹ ذبح کر دیا۔ پھر لوگوں کو بھوک لگی تو انہوں نے کہا کہ اونٹ نحر کرو۔ میں نے اونٹ ذبح کر دیا۔ پھر لوگ بھوک کا شکار ہوئے تو انہوں نے کہا: اونٹ ذبح کرو۔ میں نے اونٹ ذبح کر دیا۔ پھر لوگوں کو بھوک لگی تو اس مرتبہ مجھے امیرِ لشکر کی طرف سے منع کر دیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 4361]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4362
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ، يُقَالُ لَهُ: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ، فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: كُلُوا، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ، فَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ، فَأَكَلَهُ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریر نے بیان کیا، انہیں عمرو بن دینار نے خبر دی اور انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم پتوں کی فوج میں شریک تھے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے۔ پھر ہمیں شدت سے بھوک لگی، آخر سمندر نے ایک ایسی مردہ مچھلی باہر پھینکی کہ ہم نے ویسی مچھلی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اسے عنبر کہتے تھے۔ وہ مچھلی ہم نے پندرہ دن تک کھائی۔ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ہڈی کھڑی کروا دی تو اونٹ کا سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ (ابن جریر نے بیان کیا کہ) پھر مجھے ابو الزبیر نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا اس مچھلی کو کھاؤ پھر جب ہم مدینہ لوٹ کر آئے تو ہم نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ روزی کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجی ہے۔ اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ بچی ہو تو مجھے بھی کھلاؤ۔ چنانچہ ایک آدمی نے اس کا گوشت لا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے بھی اسے تناول فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 4362]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جیش الخبط میں ہم بھی جہاد کے لیے گئے اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہم پر امیر مقرر کیا گیا تھا۔ ہمیں بھوک نے سخت ستایا تو سمندر نے ایک مردہ مچھلی پھینکی جسے عنبر کہا جاتا تھا۔ ہم نے اس جیسی مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ہم اسے پندرہ دن تک کھاتے رہے۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی جس کے نیچے سے ایک اونٹ سوار گزر گیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس مچھلی کا گوشت کھاؤ۔“ جب ہم مدینہ طیبہ لوٹ کر آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا بھیجا ہوا رزق تھا، اسے کھاؤ، اگر تمہارے پاس بچا ہو تو اس سے ہمیں بھی کھلاؤ۔“ (یہ سن کر) کسی نے آپ کو اس کا ٹکڑا لا کر دیا تو آپ نے بھی اسے تناول فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 4362]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5493
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ، وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ يُرَ مِثْلُهُ، يُقَالُ لَهُ: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم غزوہ خبط میں شریک تھے، ہمارے امیر الجیش ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ہم سب بھوک سے بیتاب تھے کہ سمندر نے ایک مردہ مچھلی باہر پھینکی۔ ایسی مچھلی دیکھی نہیں گئی تھی۔ اسے عنبر کہتے تھے، ہم نے وہ مچھلی پندرہ دن تک کھائی۔ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک ہڈی لے کر (کھڑی کر دی) تو وہ اتنی اونچی تھی کہ ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 5493]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم غزوہ خبط میں شریک تھے، جبکہ اس وقت ہمارے سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے۔ ہم سب بھوک سے بے حال تھے کہ سمندر نے ایک مردہ مچھلی باہر پھینک دی۔ ایسی مچھلی ہم نے کبھی نہ دیکھی تھی، اسے «الْعَنْبَرُ» ”عنبر“ کہا جاتا تھا، ہم نے وہ مچھلی پندرہ دن تک کھائی۔ پھر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ہڈی لے کر کھڑی کر دی، تو وہ اتنی اونچی تھی کہ ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 5493]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5494
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ:" بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ رَاكِبٍ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ جَيْشَ الْخَبَطِ، وَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا، يُقَالُ لَهُ: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا نِصْفَ شَهْرٍ، وَادَّهَنَّا بِوَدَكِهِ حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ وَكَانَ فِينَا رَجُلٌ، فَلَمَّا اشْتَدَّ الْجُوعُ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سوار روانہ کئے۔ ہمارے امیر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ہمیں قریش کے تجارتی قافلہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنی تھی پھر (کھانا ختم ہو جانے کی وجہ سے) ہم سخت بھوک اور فاقہ کی حالت میں تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ہم سلم کے پتے (خبط) کھا کر وقت گزارتے تھے۔ اسی لیے اس مہم کا نام ”جیش الخبط“ پڑ گیا اور سمندر نے ایک مچھلی باہر ڈال دی۔ جس کا نام عنبر تھا۔ ہم نے اسے آدھے مہینہ تک کھایا اور اس کی چربی تیل کے طور پر اپنے جسم پر ملی جس سے ہمارے جسم تندرست ہو گئے۔ بیان کیا کہ پھر ابو عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی کی ہڈی لے کر کھڑی کی تو ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ ہمارے ساتھ ایک صاحب (قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما) تھے جب ہم بہت زیادہ بھوکے ہوئے تو انہوں نے یکے بعد دیگر تین اونٹ ذبح کر دیئے۔ بعد میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 5494]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روانہ کیا: ”اس لشکر میں تین سو سوار تھے۔ ہمارے امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، ہمارا کام قریش کے تجارتی قافلے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا، اس دوران میں ہمیں سخت بھوک لگی، نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ ہم نے درختوں کے پتے کھائے۔ اس بنا پر اس مہم کا نام «جَيْشُ الْخَبَطِ» ”جیش الخبط“ پڑ گیا، تاہم سمندر نے ایک مچھلی باہر پھینکی جس کا نام «عَنْبَرٌ» ”عنبر“ تھا۔ ہم نے وہ مچھلی نصف ماہ تک کھائی اور اس کی چربی بطور مالش استعمال کرتے رہے جس سے ہمارے جسم طاقتور ہو گئے۔ پھر ہمارے امیر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی کی ہڈی لی، اسے کھڑا کیا اور ایک سوار اس کے نیچے سے گزرا۔ ہمارے ساتھ ایک صاحب تھے، جب ہمیں بھوک نے زیادہ تنگ کیا تو انہوں نے تین اونٹ ذبح کر دیے، پھر (بھوک نے تنگ کیا تو اور) تین اونٹ (ذبح کر دیے)، اس کے بعد ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 5494]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة