صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب تعديل كم يجوز؟
باب: کسی گواہ کو عادل ثابت کرنے کے لیے کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہے؟
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ وَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ فَأُثْنِيَ خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ خَيْرٌ، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ فَأُثْنِيَ شَرًّا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، فَقُلْتُ: وَمَا وَجَبَتْ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، قُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ، قَالَ: وَثَلَاثَةٌ، قُلْتُ: وَاثْنَانِ، قَالَ: وَاثْنَانِ، ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے داؤد بن ابی فرات نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا ابی الاسود سے کہ میں مدینہ آیا تو یہاں وبا پھیلی ہوئی تھی، لوگ بڑی تیزی سے مر رہے تھے۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا کہ ایک جنازہ گزرا۔ لوگوں نے اس میت کی تعریف کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واجب ہو گئی۔ پھر دوسرا گزار لوگوں نے اس کی بھی تعریف کی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا واجب ہو گئی۔ پھر تیسرا گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی کی، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے یہی کہا کہ واجب ہو گئی۔ میں نے پوچھا امیرالمؤمنین! کیا واجب ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسی طرح کہا ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس مسلمان کے لیے چار آدمی اچھائی کی گواہی دے دیں اسے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کرتا ہے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور اگر تین دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین پر بھی۔ ہم نے پوچھا اور اگر دو آدمی گواہی دیں؟ فرمایا دو پر بھی۔ پھر ہم نے ایک کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں پوچھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2643]
حضرت ابوالاسود رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ مدینہ طیبہ آیا تو وہاں ایک وبائی مرض پھیلا ہوا تھا جس میں لوگ بڑی تیزی سے فوت ہو رہے تھے۔ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ گزرا، اس کی تعریف کی گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہو گئی۔“ پھر دوسرا جنازہ گزرا، اس کی بھی تعریف کی گئی تو اس کے متعلق بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہو گئی۔“ پھر تیسرا جنازہ نکلا اور اس کی برائی بیان کی گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہو گئی۔“ میں نے عرض کیا: امیر المومنین! کیا چیز واجب ہو گئی؟ انہوں نے فرمایا: میں نے وہی کہا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جس مسلمان کے لیے چار آدمی اس کی نیک سیرتی کی گواہی دیں اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ ہم نے عرض کیا: اگر تین آدمی گواہی دیں تو؟ فرمایا: ”تین بھی۔“ ہم نے عرض کیا: اگر صرف دو آدمی گواہی دیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”دو دیں تب بھی۔“ پھر ہم نے یہ نہ پوچھا کہ اگر ایک شخص گواہی دے تو کیا ہو گا؟ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1368
حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ هُوَ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ , قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَمَرَّتْ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ: فَقُلْتُ: وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: قُلْتُ كَمَا , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، فَقُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ، قَالَ: وَثَلَاثَةٌ، فَقُلْنَا: وَاثْنَانِ، قَالَ: وَاثْنَانِ، ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ".
ہم سے عفان بن مسلم صفار نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے داؤد بن ابی الفرات نے ‘ ان سے عبداللہ بن بریدہ نے ‘ ان سے ابوالاسود دئلی نے کہ میں مدینہ حاضر ہوا۔ ان دنوں وہاں ایک بیماری پھیل رہی تھی۔ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا کہ ایک جنازہ سامنے سے گزرا۔ لوگ اس میت کی تعریف کرنے لگے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ واجب ہو گئی پھر ایک اور جنازہ گزرا، لوگ اس کی بھی تعریف کرنے لگے۔ اس مرتبہ بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ پھر تیسرا جنازہ نکلا ‘ لوگ اس کی برائی کرنے لگے ‘ اور اس مرتبہ بھی آپ نے یہی فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ ابوالاسود دئلی نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا کہ امیرالمؤمنین کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے اس وقت وہی کہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس مسلمان کی اچھائی پر چار شخص گواہی دے دیں اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ہم نے کہا اور اگر تین گواہی دیں؟ آپ نے فرمایا کہ تین پر بھی، پھر ہم نے پوچھا اور اگر دو مسلمان گواہی دیں؟ آپ نے فرمایا کہ دو پر بھی۔ پھر ہم نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر ایک مسلمان گواہی دے تو کیا؟ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 1368]
حضرت ابوالاسود رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک دفعہ مدینہ طیبہ آیا جب کہ وہاں وبا پھیلی ہوئی تھی۔ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گیا۔ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کی میت کی اچھی تعریف کی گئی۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ پھر دوسرا جنازہ گزرا تو اس کی بھی تعریف کی گئی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ پھر تیسرا جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی، اس پر آپ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ ابوالاسود رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا واجب ہوگئی؟ انہوں نے فرمایا: میں نے وہی کہا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے لیے چار آدمی اچھی گواہی دیں تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ ہم نے عرض کیا: اگر تین آدمی گواہی دیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین بھی۔“ پھر ہم نے عرض کیا: دو آدمی بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمی بھی۔“ پھر ہم نے ایک شخص کی گواہی کے متعلق سوال نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 1368]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة