🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب نفقة القيم للوقف:
باب: وقف کی جائیداد کا اہتمام کرنے والا اپنا خرچ اس میں سے لے سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2777
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عُمَرَ" اشْتَرَطَ فِي وَقْفِهِ أَنْ يَأْكُلَ مَنْ وَلِيَهُ، وَيُؤْكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالًا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے وقف میں یہ شرط لگائی تھی کہ اس کا متولی اس میں سے کھا سکتا ہے اور اپنے دوست کو کھلا سکتا ہے لیکن وہ دولت نہ جوڑے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2777]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے وقف میں یہ شرط عائد کی تھی کہ جو اس کا متولی ہو وہ اس سے کھا سکتا ہے، اپنے دوست کو بھی کھلا سکتا ہے، البتہ وہ مال جمع نہیں کر سکتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2313
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ فِي صَدَقَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" لَيْسَ عَلَى الْوَلِيِّ جُنَاحٌ أَنْ يَأْكُلَ، وَيُؤْكِلَ صَدِيقًا لَهُ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا"، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ هُوَ يَلِي صَدَقَةَ عُمَرَ، يُهْدِي لِنَاسٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، كَانَ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کے باب میں جو کتاب لکھوائی تھی اس میں یوں ہے کہ صدقے کا متولی اس میں سے کھا سکتا ہے اور دوست کو کھلا سکتا ہے لیکن روپیہ نہ جمع کرے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ کے صدقے کے متولی تھے۔ وہ مکہ والوں کو اس میں سے تحفہ بھیجتے تھے جہاں آپ قیام فرمایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2313]
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صدقے کے متعلق کہا: متولی پر کوئی اعتراض نہیں کہ ضرورت کے مطابق کھائے یا کسی دوست کو کھلائے، البتہ مال جمع کرنے میں نہ لگا رہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صدقے کے متولی تھے، وہ مکہ مکرمہ سے آنے والے مہمانوں کو اس سے ہدیہ بھی دیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2313]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں