🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب تمني الشهادة:
باب: شہادت کی آرزو کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2798
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ لَهُ، وَقَالَ:" مَا يَسُرُّنَا أَنَّهُمْ عِنْدَنَا، قَالَ: أَيُّوبُ، أَوْ قَالَ: مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ".
ہم سے یوسف بن یعقوب صفار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فوج کا جھنڈا اب زید نے اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ شہید کر دیئے گئے پھر جعفر نے لے لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے پھر عبداللہ بن رواحہ نے لے لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے اور اب کسی ہدایت کا انتظار کئے بغیر خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور ان کے ہاتھ پر اسلامی لشکر کو فتح ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ہمیں کوئی اس کی خوشی بھی نہیں تھی کہ یہ لوگ جو شہید ہو گئے ہیں ہمارے پاس زندہ رہتے کیونکہ وہ بہت عیش و آرام میں چلے گئے ہیں۔ ایوب نے بیان کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا انہیں کوئی اس کی خوشی بھی نہیں تھی کہ ہمارے ساتھ زندہ رہتے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2798]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: (غزوہ موتہ میں) جھنڈا اب زید نے اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ شہید کر دیے گئے۔ پھر جعفر نے لے لیا اور وہ بھی شہید کر دیے گئے، پھر عبداللہ بن رواحہ نے پکڑا تو وہ بھی شہید کر دیے گئے۔ اس کے بعد کسی ہدایت کا انتظار کیے بغیر خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا تو ان کے ہاتھ پر (اسلامی لشکر کو) فتح ہوئی۔ آپ نے مزید فرمایا: ہمیں اب خوشی نہیں ہے کہ وہ شہداء ہمارے پاس زندہ رہتے۔ (راوی حدیث) ایوب نے کہا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں اب اس امر میں کوئی خوشی نہیں ہے کہ وہ ہمارے ساتھ زندہ رہتے۔ اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2798]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1246
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ، وَإِنَّ عَيْنَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَذْرِفَانِ، ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ لَهُ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن بلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید نے جھنڈا سنبھالا لیکن وہ شہید ہو گئے۔ پھر جعفر نے سنبھالا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ پھر عبداللہ بن رواحہ نے سنبھالا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بہ رہے تھے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اور پھر خالد بن ولید نے خود اپنے طور پر جھنڈا اٹھا لیا اور ان کو فتح حاصل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 1246]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جنگ موتہ میں) پہلے حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا اور وہ شہید ہو گئے۔ پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ آخر میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا تو وہ بھی شہید ہو گئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سالاری کے بغیر ہی جھنڈا اٹھایا تو ان کے ہاتھوں فتح ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 1246]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1446
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" بُعِثَ إِلَى نُسَيْبَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ بِشَاةٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟، فَقُلْتُ: لَا، إِلَّا مَا أَرْسَلَتْ بِهِ نُسَيْبَةُ مِنْ تِلْكَ الشَّاةِ، فَقَالَ: هَاتِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ نسیبہ نامی ایک انصاری عورت کے ہاں کسی نے ایک بکری بھیجی (یہ نسیبہ نامی انصاری عورت خود ام عطیہ رضی اللہ عنہا ہی کا نام ہے)۔ اس بکری کا گوشت انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں بھی بھیج دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اور تو کوئی چیز نہیں البتہ اس بکری کا گوشت جو نسیبہ رضی اللہ عنہا نے بھیجا تھا ‘ وہ موجود ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہی لاؤ اب اس کا کھانا درست ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 1446]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نسیبہ انصاریہ کے پاس صدقے کی ایک بکری بھیجی گئی، انہوں نے اس میں سے کچھ گوشت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بھیج دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (گھر تشریف لائے تو آپ) نے پوچھا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اس بکری کا گوشت ہے جو نسیبہ نے بھیجی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ہی لے آؤ کیونکہ اپنے مقام پر پہنچ چکی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 1446]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3063
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ عَلَيْهِ وَمَا يَسُرُّنِي أَوْ، قَالَ: مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا، وَقَالَ: وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدینہ میں) غزوہ موتہ کے موقع پر خطبہ دیا ‘ (جب کہ مسلمان سپاہی موتہ کے میدان میں داد شجاعت دے رہے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم (جھنڈا) زید بن حارثہ نے سنبھالا اور انہیں شہید کر دیا گیا، پھر جعفر نے عَلم اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ اب عبداللہ بن رواحہ نے عَلم تھاما ‘ یہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ آخر خالد بن ولید نے کسی نئی ہدایت کے بغیر اسلامی عَلم اٹھا لیا ہے۔ اور ان کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گئی ‘ اور میرے لیے اس میں کوئی خوشی کی بات نہیں تھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کہ ان کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں تھی کہ وہ (شہداء) ہمارے پاس زندہ ہوتے۔ (کیونکہ شہادت کے بعد وہ جنت میں عیش کر رہے ہیں) اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3063]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جھنڈا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے پکڑا اور انہیں شہید کر دیا گیا۔ پھر اس جھنڈے کو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں لیا تو وہ بھی شہید ہو گئے۔ اب اسے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے تھام لیا ہے اور وہ بھی جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔ آخر میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کسی نئی ہدایت کے بغیر علم اٹھا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح و کامرانی سے ہمکنار کیا ہے۔ میرے لیے یا ان کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں کہ وہ ہمارے پاس زندہ ہوتے (کیونکہ شہادت کے بعد وہ جنت میں عیش کر رہے ہیں)۔ راویِ حدیث (حضرت انس رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3063]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3757
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا , وَجَعْفَرًا , وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ، فَقَالَ:" أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتَّى أَخَذَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ".
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر صحابہ کو سنا دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم کو زید (رضی اللہ عنہ) لیے ہوئے ہیں اور وہ شہید کر دیئے گئے، اب جعفر (رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، اب ابن رواحہ (رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3757]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر آنے سے پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مطلع کر دیا کہ یہ حضرات شہید ہو چکے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مسلمانوں کے لشکر کا) جھنڈا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے پکڑا اور وہ شہید ہو گئے، پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے پکڑا وہ بھی شہید ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں میں لیا وہ بھی شہید ہو گئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، حتیٰ کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے اپنے ہاتھ میں جھنڈا لیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح سے ہمکنار کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4261
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ، وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كُنْتُ فِيهِمْ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، فَالْتَمَسْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَوَجَدْنَاهُ فِي الْقَتْلَى، وَوَجَدْنَا مَا فِي جَسَدِهِ بِضْعًا وَتِسْعِينَ مِنْ طَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ.
ہمیں احمد بن ابی بکر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ موتہ کے لشکر کا امیر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر امیر ہوں اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس غزوہ میں ‘ میں بھی شریک تھا۔ بعد میں جب ہم نے جعفر رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو ان کی لاش ہمیں شہداء میں ملی اور ان کے جسم پر کچھ اوپر نوے زخم نیزوں اور تیروں کے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4261]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس جنگ میں مجاہدین کے ساتھ موجود تھا۔ جب ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو ان کی لاش دیگر لاشوں میں پڑی ہوئی تھی اور ہم نے ان کے جسم پر نیزوں اور تیروں کے نوے سے زیادہ زخم دیکھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4261]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں