صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب المجن ومن يتترس بترس صاحبه:
باب: ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2902
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ حَسَنَ الرَّمْيِ، فَكَانَ إِذَا رَمَى تَشَرَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْظُرُ إِلَى مَوْضِعِ نَبْلِهِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ ایک ہی ڈھال سے کر رہے تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے اچھے تیرانداز تھے۔ جب وہ تیر مارتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2902]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ ایک ہی ڈھال سے کر رہے تھے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ماہر تیر انداز تھے، جب وہ تیر مارتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک اٹھا کر تیر گرنے کی جگہ دیکھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2902]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2880
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُزَانِ الْقِرَبَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهَا فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقع پر مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جدا ہو گئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم رضی اللہ عنہا (انس رضی اللہ عنہ کی والدہ) کو دیکھا کہ یہ اپنے ازار سمیٹے ہوئے تھیں اور (تیز چلنے کی وجہ سے) پانی کے مشکیزے چھلکاتی ہوئی لیے جا رہی تھیں اور ابومعمر کے علاوہ جعفر بن مہران نے بیان کیا کہ مشکیزے کو اپنی پشت پر ادھر سے ادھر جلدی جلدی لیے پھرتی تھیں اور قوم کو اس میں سے پانی پلاتی تھیں، پھر واپس آتی تھیں اور مشکیزوں کو بھر کر لے جاتی تھیں اور قوم کو پانی پلاتی تھیں، میں ان کے پاؤں کی پازیبیں دیکھ رہا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2880]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب احد کی جنگ ہوئی تو کچھ لوگ شکست خوردہ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو گئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت ابی بکر اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ یہ اپنے ازار سمیٹے ہوئے تھیں، میں ان کی پنڈلیوں کے پازیب دیکھ رہا تھا، وہ پانی کے مشکیزے بھر کر لاتیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسروں کا بیان ہے کہ وہ اپنی کمر پر پانی کے مشکیزے اٹھا کر لاتیں، پھر انہیں مجاہدین کے مونہوں میں ڈالتی تھیں، پھر واپس آتیں اور مشکیزے بھر کر لے جاتیں، پھر آ کر لوگوں کے مونہوں میں پانی ڈالتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2880]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4062
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ , قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ , قَالَ:" صَحِبْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ , وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ , وَالْمِقْدَادَ , وَسَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ".
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید نے کہ میں، عبدالرحمٰن بن عوف، طلحہ بن عبیداللہ، مقداد بن اسود اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کی صحبت میں رہا ہوں لیکن میں نے ان حضرات میں سے کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ صرف طلحہ رضی اللہ عنہ سے غزوہ احد کے متعلق حدیث سنی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4062]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں عبدالرحمٰن بن عوف، طلحہ بن عبیداللہ، مقداد (بن اسود) اور حضرت سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہم کا ساتھی رہا ہوں۔ میں نے ان میں سے کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا، البتہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ غزوۂ احد کے متعلق بیان کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4062]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة