صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب ما يصيب من الطعام فى أرض الحرب:
باب: اگر کھانے کی چیزیں کافروں کے ملک میں ہاتھ آ جائیں۔
حدیث نمبر: 3153
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کے محل کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ کسی شخص نے ایک کپی پھینکی جس میں چربی بھری ہوئی تھی۔ میں اسے لینے کے لیے لپکا، لیکن مڑ کر جو دیکھا تو پاس ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3153]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم خیبر کے محل کا محاصرہ کیے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے ایک توشہ دان پھینکا جس میں چربی تھی۔ میں اسے لینے کے لیے جلدی سے لپکا لیکن میں نے مڑ کر دیکھا تو پاس ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ میں اس وقت شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3153]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4214
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مُحَاصِرِي خَيْبَرَ فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ، فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ‘ (دوسری سند) اور مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن بلال نے اور ان سے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے چمڑے کی ایک کپی پھینکی جس میں چربی تھی ‘ میں اسے اٹھانے کے لیے دوڑا لیکن میں نے جو مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4214]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم خیبر کا محاصرہ کیے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ایک تھیلا پھینکا جس میں چربی تھی۔ میں اسے اٹھانے کے لیے لپکا لیکن میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے ہیں، اس لیے میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4214]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4224
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، وَابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، يُحَدِّثَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدْ نَصَبُوا الْقُدُورَ:" أَكْفِئُوا الْقُدُورَ".
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ انہوں نے براء بن عازب اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہم سے سنا۔ یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا تھا کہ ہانڈیوں کا گوشت پھینک دو ‘ اس وقت ہانڈیاں چولہے پر رکھی جا چکی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4224]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا: ”ہنڈیوں کو الٹ دو۔“ (گوشت پھینک دو۔) اس وقت ہنڈیاں چولہے پر رکھی جا چکی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4224]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5508
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کے قلعے کا محاصرہ کئے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ایک تھیلا پھینکا جس میں (یہودیوں کے ذبیحہ کی) چربی تھی۔ میں اس پر جھپٹا کہ اٹھا لوں لیکن مڑ کے جو دیکھا تو پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر شرما گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (آیت میں) «طَعامهم» سے مراد اہل کتاب کا ذبح کردہ جانور ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 5508]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نے خیبر کا محاصرہ کیا ہوا تھا کہ ایک شخص نے تھیلا پھینکا جس میں چربی تھی۔ میں اسے اٹھانے کے لیے جھپٹا، لیکن جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر میں شرما گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 5508]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة