صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب إذا غدر المشركون بالمسلمين هل يعفى عنهم؟
باب: اگر کافر مسلمانوں سے دغا کریں تو ان کو معافی دی جا سکتی ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 3169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْمَعُوا إِلَيَّ مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ يَهُودَ فَجُمِعُوا لَهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ، فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَبُوكُمْ، قَالُوا: فُلَانٌ، فَقَالَ: كَذَبْتُمْ بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ، قَالُوا: صَدَقْتَ، قَالَ: فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُ عَنْهُ؟، فَقَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ وَإِنْ كَذَبْنَا عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا، فَقَالَ لَهُمْ: مَنْ أَهْلُ النَّارِ، قَالُوا: نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَا فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْسَئُوا فِيهَا وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا، ثُمَّ قَالَ: هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟، فَقَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سُمًّا؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ، قَالُوا: أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا نَسْتَرِيحُ وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو (یہودیوں کی طرف سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کا یا ایسے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنے یہودی یہاں موجود ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو، چنانچہ وہ سب آ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو، میں تم سے ایک بات پوچھوں گا۔ کیا تم لوگ صحیح صحیح جواب دو گے؟ سب نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، تمہارے باپ کون تھے؟ انہوں نے کہا کہ فلاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، تمہارے باپ تو فلاں تھے۔ سب نے کہا کہ آپ سچ فرماتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر میں تم سے ایک اور بات پوچھوں تو تم صحیح واقعہ بیان کر دو گے؟ سب نے کہا جی ہاں، اے ابوالقاسم! اور اگر ہم جھوٹ بھی بولیں گے تو آپ ہماری جھوٹ کو اسی طرح پکڑ لیں گے جس طرح آپ نے ابھی ہمارے باپ کے بارے میں ہمارے جھوٹ کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد دریافت فرمایا کہ دوزخ میں جانے والے کون لوگ ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں کے لیے تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے لیکن پھر آپ لوگ ہماری جگہ داخل کر دئیے جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس میں برباد رہو، اللہ گواہ ہے کہ ہم تمہاری جگہ اس میں کبھی داخل نہیں کئے جائیں گے۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو کیا تم مجھ سے صحیح واقعہ بتا دو گے؟ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ ہاں! اے ابوالقاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم نے اس بکری کے گوشت میں زہر ملایا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں (نبوت میں) تو ہمیں آرام مل جائے گا اور اگر آپ واقعی نبی ہیں تو یہ زہر آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3169]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری تحفہ بھیجی، جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں جتنے یہودی ہیں ان سب کو اکٹھا کرو۔“ وہ سب آپ کے سامنے اکٹھے کیے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات پوچھنے والا ہوں کیا تم سچ سچ بتاؤ گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں شخص! آپ نے فرمایا: ”تم نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تمہارا باپ فلاں شخص ہے۔“ انہوں نے کہا: بلاشبہ آپ سچ کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا اب اگر تم سے کچھ پوچھوں تو سچ بتاؤ گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! ابوالقاسم! اگر ہم نے جھوٹ بولا تو آپ ہمارا جھوٹ پہچان لیں گے جیسا کہ پہلے آپ نے ہمارے باپ کے متعلق ہمارا جھوٹ معلوم کر لیا ہے۔ پھر آپ نے ان سے پوچھا: ”دوزخی کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہم چند روز کے لیے دوزخ میں جائیں گے، پھر ہمارے بعد تم اس میں ہمارے جانشین ہو گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہی اس میں ذلیل و خوار ہو کر رہو گے۔ اللہ کی قسم! ہم کبھی اس میں تمہاری جانشینی نہیں کریں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تم سے کوئی سوال پوچھوں تو کیا تم میرے سامنے سچ بولو گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! ابوالقاسم! آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں اس بات پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ہمارا خیال یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے نبی ہیں تو آپ سے ہمیں نجات مل جائے گی اور اگر آپ حقیقت میں نبی ہیں تو آپ کو کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3169]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2617
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا، فَقِيلَ: أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: لَا، فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ہشام بن زید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر ملا ہوا بکری کا گوشت لائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا (لیکن فوراً ہی فرمایا کہ اس میں زہر پڑا ہوا ہے) پھر جب اسے لایا گیا (اور اس نے زہر ڈالنے کا اقرار بھی کر لیا) تو کہا گیا کہ کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں محسوس کیا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 2617]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکری کا گوشت لائی جو زہر آلود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گوشت سے کچھ کھایا، پھر اس یہودیہ کو پکڑ کر لایا گیا تو لوگوں نے کہا: کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، قتل نہ کرو۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں زہر کا اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں دیکھتا رہا ہوں۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 2617]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4249
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کی فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایک یہودی عورت کی طرف سے) بکری کے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 4249]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب خیبر فتح کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری کا زہر آلود گوشت بطور ہدیہ پیش کیا گیا۔“ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 4249]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5777
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ:" لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سَمٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ الْيَهُودِ فَجُمِعُوا لَهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ، فَقَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَبُوكُمْ؟، قَالُوا: أَبُونَا فُلَانٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبْتُمْ، بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ، فَقَالُوا: صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ، فَقَالَ: هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا، قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَهْلُ النَّارِ؟، فَقَالُوا: نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اخْسَئُوا فِيهَا، وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سَمًّا؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالُوا: أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَذَّابًا نَسْتَرِيحُ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری ہدیہ میں پیش کی گئی (ایک یہودی عورت زینب بنت حرث نے پیش کی تھی) جس میں زہر بھرا ہوا تھا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں پر جتنے یہودی ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو۔ چنانچہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھوں گا کیا تم مجھے صحیح صحیح بات بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا پردادا کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ فلاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جھوٹ کہتے ہو تمہارا پردادا تو فلاں ہے۔ اس پر وہ بولے کہ آپ نے سچ فرمایا، درست فرمایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں گا تو تم مجھے سچ سچ بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! اور اگر ہم جھوٹ بولیں بھی تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ ابھی ہمارے پردادا کے متعلق آپ نے ہمارا جھوٹ پکڑ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ والے کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کچھ دن کے لیے تو ہم اس میں رہیں گے پھر آپ لوگ ہماری جگہ لے لیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے، واللہ! ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی نہیں لیں گے۔ آپ نے پھر ان سے دریافت فرمایا کیا اگر میں تم سے ایک بات پوچھوں تو تم مجھے اس کے متعلق صحیح صحیح بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں اس کام پر کس جذبہ نے آمادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر سچے ہوں گے تو آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 5777]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری بطور ہدیہ پیش کی گئی جس میں زہر بھرا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں جتنے یہودی ہیں سب کو ایک جگہ جمع کرو۔“ چنانچہ انہیں آپ کے پاس جمع کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے چند باتیں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا تم مجھے صحیح صحیح جواب دو گے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، اے ابو القاسم!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ کون ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہمارا باپ فلاں ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جھوٹ کہتے ہو، بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے۔“ انہوں نے جواب دیا: ”آپ نے سچ کہا اور درست فرمایا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو مجھے سچ سچ بتاؤ گے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، اے ابو القاسم! اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ آپ نے ہمارے باپ کے متعلق ہمارا جھوٹ پکڑ لیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”دوزخ والے کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”کچھ دنوں کے لیے ہم دوزخ میں رہیں گے پھر آپ لوگ ہماری جگہ لے لیں گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے۔ اللہ کی قسم! ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی نہیں لیں گے۔“ آپ نے پھر ان سے دریافت فرمایا: ”اگر تم سے ایک بات پوچھوں تو کیا تم مجھے صحیح صحیح بتاؤ گے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے بکری میں زہر ملایا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”تم نے یہ حرکت کیوں کی؟“ انہوں نے کہا: ”ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر نبی ہیں تو آپ کو یہ زہر نقصان نہیں دے گا۔“ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 5777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة