صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب إذا رأت المستحاضة الطهر:
باب: جب مستحاضہ اپنے جسم میں پاکی دیکھے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 331
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حیض کا زمانہ آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ زمانہ گزر جائے تو خون کو دھو اور نماز پڑھ۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 331]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فاطمہ بنت ابی حبیش سے) فرمایا: ”جب حیض کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض کے ایام گزر جائیں تو خون کو دھو ڈالو اور نماز ادا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي"، قَالَ: وَقَالَ أَبِي: ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابومعاویہ نے، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے باپ (عروہ) کے واسطے سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں کہ ابوحبیش کی بیٹی فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے۔ اس لیے میں پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، یہ ایک رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے۔ تو جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے (بدن اور کپڑے) سے خون کو دھو ڈال پھر نماز پڑھ۔ ہشام کہتے ہیں کہ میرے باپ عروہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (بھی) فرمایا کہ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہی (حیض کا) وقت پھر آ جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 228]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ اکثر مستحاضہ رہتی ہوں اور اس کی وجہ سے پاک نہیں ہو سکتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نماز مت چھوڑ۔ یہ ایک رگ کا خون ہے، حیض نہیں۔ پھر جب تیرے حیض کا وقت آ جائے تو نماز چھوڑ دے اور جب وقت گزر جائے تو (اپنے بدن اور کپڑوں سے) خون دھو کر نماز ادا کر۔“ ہشام نے کہا: میرے والد (عروہ بن زبیر رحمہ اللہ) نے کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”پھر ہر نماز کے لیے وضو کر حتیٰ کہ وہی (حیض کا) وقت پھر آ جائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 228]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 306
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے بیان کیا کہ فاطمہ ابی حبیش کی بیٹی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو پاک ہی نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز بالکل چھوڑ دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں اس لیے جب حیض کے دن (جن میں کبھی پہلے تمہیں عادتاً آیا کرتا تھا) آئیں تو نماز چھوڑ دے اور جب اندازہ کے مطابق وہ دن گزر جائیں، تو خون دھو ڈال اور نماز پڑھ۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 306]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے پاکی حاصل نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ کا خون ہے، حیض نہیں، لہذا جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض کے ایام گزر جائیں تو خود سے خون دھو ڈالو، یعنی غسل کرو اور نماز پڑھو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 306]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے باپ سے، وہ عائشہ سے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا۔ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے۔ اس لیے جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 320]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا عارضہ تھا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں بلکہ رگ کا خون ہے، لہذا جب حیض کی آمد ہو تو نماز ترک کر دو اور جب حیض ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز ادا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 320]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ:" لَا، إِنَّ ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَكِنْ دَعِي الصَّلَاةَ قَدْرَ الْأَيَّامِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي".
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابواسامہ نے خبر دی، انہوں نے کہا میں نے ہشام بن عروہ سے سنا، کہا مجھے میرے والد نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے خبر دی کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ یہ تو ایک رگ کا خون ہے، ہاں اتنے دنوں میں نماز ضرور چھوڑ دیا کر جن میں اس بیماری سے پہلے تمہیں حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر کے نماز پڑھا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 325]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مجھے استحاضے کا خون آتا ہے اور میں مدتوں پاک نہیں ہو سکتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ کا خون ہے۔ ہاں، اتنے دن نماز چھوڑ دیا کرو جن میں اس (بیماری) سے قبل تمہیں حیض آیا کرتا تھا۔ اس کے بعد غسل کر کے نماز پڑھا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ،" فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، فَقَالَ: هَذَا عِرْقٌ" فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے ایوب بن ابی ذئب سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ اور عمرہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں) کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سات سال تک مستحاضہ رہیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ رگ (کی وجہ سے بیماری) ہے۔ پس ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 327]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سات سال تک مستحاضہ رہیں، انہوں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ رگ (کا خون) ہے“ چنانچہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 327]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة