صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب: {واذكر عبدنا داود ذا الأيد إنه أواب} إلى قوله: {وفصل الخطاب} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ ص میں) فرمان ”ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر، وہ اللہ کی طرف رجوع ہونے والا تھا“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وفصل الخطاب» تک (یعنی فیصلہ کرنے والی تقریر ہم نے انہیں عطا کی تھی)۔
حدیث نمبر: 3422
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سورۃ ص کا سجدہ ضروری نہیں، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3422]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سورہ ص کا سجدہ عزائم (ضروری) سجود میں سے نہیں ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سجدہ کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3422]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1069
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو النُّعْمَانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" ص لَيْسَ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا".
ہم سے سلیمان بن حرب اور ابوالنعمان بن فضل نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سورۃ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 1069]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سورہ ص کا سجدہ ضروری نہیں، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4807
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ الْعَوَّامِ، قَالَ:" سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ سَجْدَةٍ فِي ص؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَيْنَ سَجَدْتَ؟ فَقَالَ: أَوَ مَا تَقْرَأُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 90، فَكَانَ دَاوُدُ مِمَّنْ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ، فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے محمد بن عبداللہ ذہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید طنافسی نے، ان سے عوام بن حوشب نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سورۃ ص میں سجدہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا کہ اس سورت میں آیت سجدہ کے لیے دلیل کیا ہے؟ انہوں نے کہا کیا تم (سورت انعام) میں یہ نہیں پڑھتے «ومن ذريته داود وسليمان» کہ ”اور ان کی نسل سے داؤد اور سلیمان ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے یہ ہدایت دی تھی، سو آپ بھی ان کی ہدایت کی اتباع کریں۔“ داؤد علیہ السلام بھی ان میں سے تھے جن کی اتباع کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا (چونکہ داؤد علیہ السلام کے سجدہ کا اس میں ذکر ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس موقع پر سجدہ کیا)۔ «عجاب» کا معنی عجیب۔ «القط» کہتے ہیں کاغذ کے ٹکڑے (پرچے) کو یہاں نیکیوں کا پرچہ مراد ہے (یا حساب کا پرچہ)۔ اور مجاہد رحمہ اللہ نے کہا «في عزة» کا معنی یہ ہے کہ وہ شرارت و سرکشی کرنے والے ہیں۔ «الملة الآخرة» سے مراد قریش کا دین ہے۔ «اختلاق» سے مراد جھوٹ۔ «الأسباب» آسمان کے راستے، دروازے مراد ہیں۔ «جند ما هنالك مهزوم» الایۃ سے قریش کے لوگ مراد ہیں۔ «أولئك الأحزاب» سے اگلی امتیں مراد ہیں۔ جن پر اللہ کا عذاب اترا۔ «فواق» کا معنی پھرنا، لوٹنا۔ «عجل لنا قطنا» میں «قط» سے عذاب مراد ہے۔ «اتخذناهم سخريا» ہم نے ان کو ٹھٹھے میں گھیر لیا تھا۔ «أتراب» جوڑ والے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أيد» کا معنی عبادت کی قوت۔ «الأبصار» اللہ کے کاموں کو غور سے دیکھنے والے۔ «حب الخير عن ذكر ربي» میں «عن من» کے معنی میں ہے۔ «طفق مسحا» گھوڑوں کے پاؤں اور ایال پر محبت سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔ یا بقول بعض تلوار سے ان کو کاٹنے لگے۔ «الأصفاد» کے معنی زنجیریں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 4807]
حضرت عوام بن حوشب رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے سورہ ص میں سجدہ کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی سوال کیا تھا کہ اس سورت میں سجدہ کرنے کی دلیل کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم یہ نہیں پڑھتے: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ... أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 84-90] ”ان کی نسل سے داود اور سلیمان ہیں... یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی تھی، لہذا آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیں۔“ حضرت داود علیہ السلام بھی انہی انبیاء علیہ السلام میں سے ہیں جن کی اتباع کا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ سجدہ کیا ہے“۔ «عُجَابٌ» کے معنی ہیں: ”عجیب“۔ «الْقِطُّ» کے معنی ہیں: ”صحیفہ، یعنی کاغذ کا پرچہ۔ یہاں نیکیوں کا صحیفہ مراد ہے“۔ امام مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: «فِي عِزَّةٍ» کے معنی ہیں: ”تکبر اور سرکشی کرنے والے“۔ «الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ» سے مراد ”قریش کا دین ہے“۔ «الِاخْتِلَاقُ» سے مراد ”جھوٹ ہے“۔ «الْأَسْبَابُ» سے مراد ”آسمان کے دروازوں میں ان کے راستے ہیں“۔ «جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ» میں «مَهْزُومٌ»، «جُنْدٌ» کی صفت ہے۔ اس سے مراد ”قریش کے لوگ ہیں“۔ «أُولَئِكَ الْأَحْزَابُ» سے مراد ”گزشتہ امتیں ہیں جن پر عذاب اترا تھا“۔ «فَوَاقٍ»: ”پھرنا، لوٹنا“۔ «قِطَّنَا»: ”ہمارا عذاب“۔ «أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا»: ”ہم نے ان کو ہنسی مذاق میں گھیر لیا تھا“۔ «أَتْرَابٌ»: ”امثال، یعنی ہم عمر، جوڑ والے“۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «الْأَيْدِ» سے مراد ”عبادت کی قوت ہے“۔ «الْأَبْصَارُ» کے معنی ہیں: ”اللہ کے معاملات میں غور سے دیکھنے والے“۔ «حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي» میں «عَنْ»، «مِنْ» کے معنی میں ہے، یعنی «مِنْ ذِكْرِ رَبِّي» ۔ «فَطَفِقَ مَسْحًا»: ”گھوڑوں کے پاؤں اور پیشانیوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔ (کچھ حضرات نے یہ معنی بھی کیے ہیں کہ تلوار سے ان کو ذبح کرنے لگے)“۔ «الْأَصْفَادِ» کے معنی ”زنجیریں اور بیڑیاں ہیں“۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 4807]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة