صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب قول الله تعالى: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الحجرات میں) ارشاد ”اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد آدم اور ایک ہی عورت حواء سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنا دیا ہے تاکہ تم بطور رشتہ داری ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک تم سب میں سے اللہ کے نزدیک معزز تر وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو“۔
حدیث نمبر: 3494
«وَتَجِدُونَ شَرَّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ، وَيَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ» .
اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دورخہ (دوغلا) ہو۔ ان لوگوں میں ایک منہ لے کر آئے، دوسروں میں دوسرا منہ۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3494]
(نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”تم لوگوں میں سب سے زیادہ برا اسے پاؤ گے جو دو رخی پالیسی اختیار کرنے والا (دوغلا اور منافق) ہوگا، یعنی جو ان لوگوں میں ایک منہ لے کر آئے اور دوسروں میں دوسرا منہ لے کر جائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3494]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3353
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَتْقَاهُمْ، فَقَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ، قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا"، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَمُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم آپ سے اس کے متعلق نہیں پوچھتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ (سب سے زیادہ شریف ہیں)“ صحابہ نے کہا کہ ہم اس کے متعلق بھی نہیں پوچھتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا عرب کے خاندانوں کے متعلق تم پوچھنا چاہتے ہو۔ سنو جو جاہلیت میں شریف تھے اسلام میں بھی وہ شریف ہیں جب کہ دین کی سمجھ انہیں آ جائے۔“ ابواسامہ اور معتمر نے عبیداللہ سے بیان کیا، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3353]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں میں سب سے زیادہ مکرم کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو ان میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔“ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے یہ سوال (نہیں پوچھا)۔ تو آپ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ بزرگ اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو خود نبی تھے، باپ نبی، دادا نبی اور پردادا بھی نبی جو اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں۔“ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے آپ سے یہ نہیں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”تم خاندانِ عرب کے متعلق پوچھتے ہو؟ ان سب سے جو زمانہ جاہلیت میں بہتر تھے وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں بشرطیکہ وہ دین میں فقاہت حاصل کر لیں۔“ ابو اسامہ اور معتمر نے عبیداللہ، سعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3353]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6058
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں اس شخص کو سب سے بدتر پاؤ گے جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6058]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن لوگوں میں اللہ کے ہاں بدتر اس شخص کو پاؤ گے جو دو رخا ہو گا، جو ان لوگوں کے پاس ایک منہ سے آتا ہے اور ان کے پاس دوسرے منہ سے آتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6058]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7179
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے عراک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدترین وہ شخص دورخا ہے، کسی کے سامنے اس کا ایک رخ ہوتا ہے اور دوسرے کے سامنے دوسرا رخ برتتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 7179]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ لوگوں میں بدترین وہ شخص ہے جو دو رخا ہو، ان کے ساتھ ایک بات کرتا ہے تو دوسروں کے ساتھ اور بات کرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 7179]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة