صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب قول الله تعالى: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الحجرات میں) ارشاد ”اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد آدم اور ایک ہی عورت حواء سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنا دیا ہے تاکہ تم بطور رشتہ داری ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک تم سب میں سے اللہ کے نزدیک معزز تر وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو“۔
حدیث نمبر: 3497
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23، قَالَ: فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: قُرْبَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا وَلَهُ فِيهِ قَرَابَةٌ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ تَصِلُوا قَرَابَةً بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے کہ ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا «إلا المودة في القربى» کے متعلق (طاؤس نے) بیان کیا کہ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت نہ رہی ہو اور اسی وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میرا مطالبہ صرف یہ ہے کہ تم لوگ میری اور اپنی قرابت داری کا لحاظ کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3497]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے ﴿إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ﴾ [سورة الشورى: 23] ”البتہ میں قرابت کی محبت چاہتا ہوں“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت نہ ہو۔ اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ ”میرے اور اپنے درمیان قرابت کا خیال کرو اور صلہ رحمی کرو۔“ سعید بن جبیر رحمہ اللہ اس سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت مراد لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3497]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ: إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" عَجِلْتَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ، فَقَالَ:" إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا کہ میں نے طاؤس سے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إلا المودة في القربى» ”سوا رشتہ داری کی محبت کے“ متعلق پوچھا گیا تو سعید بن جبیر نے فرمایا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابتداری مراد ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر کہا کہ تم نے جلد بازی کی۔ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس قرابت داری کی وجہ سے صلہ رحمی کا معاملہ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان میں موجود ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 4818]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے کسی نے پوچھا کہ ﴿إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ﴾ [سورة الشورى: 23] کا مطلب کیا ہے؟ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے (جھٹ سے) کہہ دیا: ”اس سے آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت مراد ہے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم جلد بازی کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ نہ کچھ قرابت نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میں تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس قرابت داری کی وجہ سے صلہ رحمی کا معاملہ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان موجود ہے۔“” [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 4818]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة