صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ما يستر من العورة:
باب: ستر کا بیان جس کو ڈھانکنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 368
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ، عَنِ اللِّمَاسِ وَالنِّبَاذِ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، جو ابوالزناد سے نقل کرتے ہیں، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع و فروخت سے منع فرمایا۔ ایک تو چھونے کی بیع سے، دوسرے پھینکنے کی بیع سے اور اشتمال صماء سے (جس کا بیان اوپر گزرا) اور ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 368]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی خرید و فروخت سے منع فرمایا: ”ایک صرف چھونے سے اور دوسری جو صرف پھینکنے سے پختہ ہو جائے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» اور ایک کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 368]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 367
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صماء کی طرح کپڑا بدن پر لپیٹ لینے سے منع فرمایا اور اس سے بھی منع فرمایا کہ آدمی ایک کپڑے میں احتباء کرے اور اس کی شرمگاہ پر علیحدہ کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 367]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سخت بکل سے منع فرمایا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوٹھ مار کر ایک کپڑے میں بیٹھنے سے بھی روکا جبکہ آدمی کی شرم گاہ پر کچھ نہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 367]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 584
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ صَلَاتَيْنِ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ، وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلَامَسَةِ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے ابی اسامہ کے واسطے سے بیان کیا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی خرید و فروخت اور دو طرح کے لباس اور دو وقتوں کی نمازوں سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا (اور کپڑوں میں) اشتمال صماء یعنی ایک کپڑا اپنے اوپر اس طرح لپیٹ لینا کہ شرمگاہ کھل جائے۔ اور (احتباء) یعنی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ (اور خرید و فروخت میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 584]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی خرید و فروخت، دو قسم کے لباس اور دو اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: ”آپ نے فجر کے بعد تا طلوع آفتاب اور عصر کے بعد تا غروب آفتاب نماز پڑھنے، سخت بکل مارنے اور ایک ہی کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا جس سے اوپر کی طرف ستر کھلنے کا اندیشہ ہو، نیز کسی چیز کو محض چھونے یا کوئی چیز پھینک کر بیع پختہ کرنے سے بھی روکا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 584]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ سے خبر دی، انہوں نے خبیب سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 588]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو (وقت) نمازوں سے منع فرمایا ہے: فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 588]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1991
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، وَعَنِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور قربانی کے دنوں کے روزوں کی ممانعت کی تھی اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے اور ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1991]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے“، اسی طرح «لِبْسَةُ الصَّمَّاءِ» ”(ایک کپڑے کو اس طرح لپیٹنا کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں)“ اور ”ایک کپڑے میں گوٹھ مارنے سے بھی روکا ہے“۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1992
وَعَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ".
اور صبح اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے (منع فرمایا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1992]
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے بعد نفل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1992]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2145
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نُهِيَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ، أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ثُمَّ يَرْفَعَهُ عَلَى مَنْكِبِهِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ اللِّمَاسِ وَالنِّبَاذِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو طرح کے لباس پہننے منع ہیں۔ کہ کوئی آدمی ایک ہی کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے، پھر اسے مونڈے پر اٹھا کر ڈال لے (اور شرمگاہ کھلی رہے) اور دو طرح کی بیع سے منع کیا ایک بیع ملامسۃ سے اور دوسری بیع منابذہ سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 2145]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ”دو قسم کے لباسوں سے منع کیا گیا ہے: ایک تو یہ کہ صرف ایک ہی کپڑے میں کوئی آدمی احتباء کرے پھر اسے کندھوں تک اٹھا لے۔ اور دو قسم کی خرید و فروخت سے روکا گیا ہے: ایک ہاتھ لگا دینے سے بیع پختہ کر لینا اور دوسری صرف پھینک دینے کو بیع کے قائم مقام قرار دے لینا“۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 2145]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2146
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ".
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسۃ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 2146]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ» ”بیع ملامسہ“ اور «بَيْعِ الْمُنَابَذَةِ» ”بیع منابذہ“ سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 2146]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5819
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَعَنْ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ، حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا اور دو وقت نمازوں سے بھی آپ نے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص صرف ایک کپڑا جسم پر لپیٹ کر گھٹنے اوپر اٹھا کر اس طرح بیٹھ جائے کہ اس کی شرمگاہ پر آسمان و زمین کے درمیان کوئی چیز نہ ہو اور اشتمال صماء سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5819]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «بَيْعِ الْمُنَابَذَةِ» ”بیع منابذہ“ سے منع فرمایا اور آپ نے دو اوقات میں نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا: نماز فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک، اور اس سے بھی منع فرمایا کہ کوئی شخص صرف ایک کپڑا جسم پر لپیٹ کر اور گھٹنے اٹھا کر اس طرح بیٹھ جائے کہ اس کی شرمگاہ پر زمین و آسمان کے درمیان کوئی چیز نہ ہو، اور «اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ» ”اشتمال صماء“ سے بھی منع فرمایا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5819]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5821
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ: أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى أَحَدِ شِقَّيْهِ، وَعَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا یہ کہ کوئی شخص ایک ہی کپڑے سے اپنی کمر اور پنڈلی کو ملا کر باندھ لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو اور یہ کہ کوئی شخص ایک کپڑے کو اس طرح جسم پر لپیٹے کہ ایک طرف کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو اور آپ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5821]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے: ایک یہ کہ ایک ہی کپڑے سے اپنی کمر اور پنڈلی کو ملا کر باندھ لے اور اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو اور دوسرا یہ کہ کوئی شخص ایک کپڑے کو اس طرح جسم پر لپیٹ لے کہ دوسری طرف کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَیْعِ مُلَامَسَہ» اور «بَیْعِ مُنَابَذَہ» سے بھی منع فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5821]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5822
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
مجھ سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریح نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے منع فرمایا اور اس سے بھی کہ کوئی شخص ایک کپڑے سے پنڈلی اور کمر کو ملا لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5822]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «اِشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ» سے منع فرمایا ہے اور اس سے بھی روکا ہے کہ ایک شخص کپڑے سے اپنی کمر اور پنڈلیوں کو باندھ لے جبکہ شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5822]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6284
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِ الْإِنْسَانِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَالْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ"، تَابَعَهُ مَعْمَرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تھا۔ اشتمال صماء اور ایک کپڑے میں اس طرح احتباء کرنے سے کہ انسان کی شرمگاہ پر کوئی چیز نہ ہو اور ملامست اور منابذت سے۔ اس روایت کی متابعت معمر، محمد بن ابی حفصہ اور عبداللہ بن بدیل نے زہری سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 6284]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو قسم کے ملبوسات اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تھا: «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» (بولی بکل) اور ایک ہی کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا جبکہ آدمی کی شرمگاہ پر کوئی چیز نہ ہو۔ اور دو قسم کی خرید و فروخت یہ ہے کہ محض کوئی چیز پھینکنے یا اسے ہاتھ سے چھونے سے بیع پختہ ہو جائے، اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔“ معمر، محمد بن ابی حفص اور عبداللہ بن بدیل نے زہری سے روایت کرنے میں سفیان کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 6284]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة