صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب ذكر أسامة بن زيد:
باب: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا بیان۔
حدیث نمبر: 3732
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ، فَقَالُوا: مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ قریش مخزومیہ عورت کے معاملے کی وجہ سے بہت رنجیدہ تھے۔ انہوں نے یہ فیصلہ آپس میں کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی عزیز ہیں (اس عورت کی سفارش کے لیے) اور کون جرات کر سکتا ہے! [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3732]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب قریش کو ایک مخزومی عورت کے معاملے نے پریشان کیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ”حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے علاوہ سفارش کی اور کون جرات کر سکتا ہے؟ کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی عزیز ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3732]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2648
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ،" أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا وَتَزَوَّجَتْ، وَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا اور ان سے یونس نے اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ ایک عورت نے فتح مکہ پر چوری کر لی تھی۔ پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر انہوں نے اچھی طرح توبہ کر لی اور شادی کر لی۔ اس کے بعد وہ آتی تھیں تو میں ان کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 2648]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نے فتح مکہ کے موقع پر چوری کی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کیا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق اس عورت نے اچھی توبہ کی۔ پھر اس نے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد وہ میرے پاس آیا کرتی تھی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة