🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ ذِكْرُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ:
باب: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3732
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ، فَقَالُوا: مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ قریش مخزومیہ عورت کے معاملے کی وجہ سے بہت رنجیدہ تھے۔ انہوں نے یہ فیصلہ آپس میں کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی عزیز ہیں (اس عورت کی سفارش کے لیے) اور کون جرات کر سکتا ہے! [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3732]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب قریش کو ایک مخزومی عورت کے معاملے نے پریشان کیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے علاوہ سفارش کی اور کون جرات کر سکتا ہے؟ کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی عزیز ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3732]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3733
ح وحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَسْأَلُ الزُّهْرِيَّ عَنْ حَدِيثِ الْمَخْزُومِيَّةِ فَصَاحَ بِي، قُلْتُ لِسُفْيَانَ:" فَلَمْ تَحْتَمِلْهُ عَنْ أَحَدٍ"، قَالَ: وَجَدْتُهُ فِي كِتَابٍ كَانَ كَتَبَهُ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَهُ , فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ:" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ , لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا".
(دوسری سند) اور ہم سے علی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے مخزومیہ کی حدیث پوچھی تو وہ مجھ پر بہت غصہ ہو گئے۔ میں نے اس پر سفیان سے پوچھا کہ پھر آپ نے کسی اور ذریعہ سے اس حدیث کی روایت نہیں کی؟ انہوں نے بیان کیا کہ ایوب بن موسیٰ کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں، میں نے یہ حدیث دیکھی۔ وہ زہری سے روایت کرتے تھے، وہ عروہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی تھی۔ قریش نے (اپنی مجلس میں) سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس عورت کی سفارش کے لیے کون جا سکتا ہے؟ کوئی اس کی جرات نہیں کر سکا، آخر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے۔ اگر آج فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3733]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی تو لوگوں نے کہا کہ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ آخر کسی کو آپ سے گفتگو کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ پھر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے آپ سے بات کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کا یہی طریقہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے۔ (سنو!) اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3733]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3734
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: نَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى رَجُلٍ يَسْحَبُ ثِيَابَهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" انْظُرْ مَنْ هَذَا لَيْتَ هَذَا عِنْدِي"، قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ: أَمَا تَعْرِفُ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَةَ، قَالَ: فَطَأْطَأَ ابْنُ عُمَرَ رَأْسَهُ وَنَقَرَ بِيَدَيْهِ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْ رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَحَبَّهُ".
مجھ سے حسن بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعباد یحییٰ بن عباد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ماجشون نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن ایک صاحب کو مسجد میں دیکھا کہ اپنا کپڑا ایک کونے میں پھیلا رہے تھے۔ انہوں نے کہا دیکھو یہ کون صاحب ہیں؟ کاش! یہ میرے قریب ہوتے۔ ایک شخص نے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ انہیں نہیں پہچانتے؟ یہ محمد بن اسامہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابن دینار نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے ہاتھوں سے زمین کریدنے لگے پھر بولے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے تو یقیناً آپ ان سے محبت فرماتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3734]
حضرت عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اس کے کسی گوشے میں کپڑے پھیلا رہا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو یہ کون ہے؟ کاش یہ میرے قریب ہوتا! ایک شخص نے کہا: اے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ! کیا آپ انہیں نہیں جانتے؟ یہ تو حضرت محمد بن اسامہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا سر جھکا لیا اور دونوں ہاتھوں سے زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا: اگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو یقیناً آپ ان سے محبت کرتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3734]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3735
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي , حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ، فَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَحِبَّهُمَا فَإِنِّي أُحِبُّهُمَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، کہا ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا، اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیتے اور فرماتے: اے اللہ! تو انہیں اپنا محبوب بنا کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3735]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھا لیتے اور فرماتے: «اللَّهُمَّ أَحِبَّهُمَا فَإِنِّي أُحِبُّهُمَا» اے اللہ! تو انہیں اپنا محبوب بنا، بلاشبہ میں بھی ان دونوں سے محبت کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3735]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3736
وَقَالَ نُعَيْمٌ: عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مَوْلًى لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ أَيْمَنَ بْنِ أُمِّ أَيْمَنَ , وَكَانَ أَيْمَنُ بْنُ أُمِّ أَيْمَنَ أَخَا أُسَامَةَ لِأُمِّهِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَرَآهُ ابْنُ عُمَرَ لَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ، فَقَالَ:" أَعِدْ".
اور نعیم نے کہا ان سے ابن مبارک نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے ایک مولیٰ (حرملہ) نے خبر دی کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا (نماز میں) انہوں نے رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں ادا کیا، (ایمن ابن ام ایمن، اسامہ رضی اللہ عنہ کی ماں کی طرف سے بھائی تھے، ایمن رضی اللہ عنہ قبیلہ انصار کے ایک فرد تھے) تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ (نماز) دوبارہ پڑھ لو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3736]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے مولی (حرملہ) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حجاج بن ایمن کو دیکھا جو اُمِ ایمن رضی اللہ عنہا کے پوتے تھے اور وہ دورانِ نماز میں رکوع و سجود پوری طرح نہیں کرتے تھے تو آپ نے فرمایا: اپنی نماز دوبارہ پڑھو۔ واضح رہے کہ اُمِ ایمن رضی اللہ عنہا کے بیٹے ایمن، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی، انصار سے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3736]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3737
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِذْ دَخَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ فَلَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ، فَقَالَ: أَعِدْ , فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ:" مَنْ هَذَا"، قُلْتُ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ بْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" لَوْ رَأَى هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَحَبَّهُ". فَذَكَرَ حُبَّهُ وَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّ أَيْمَنَ، قَالَ: وحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي , عَنْ سُلَيْمَانَ، وَكَانَتْ حَاضِنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن نمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مولیٰ حرملہ نے بیان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے کہ حجاج بن ایمن (مسجد کے) اندر آئے نہ انہوں نے رکوع پوری طرح ادا کیا تھا اور نہ سجدہ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا کہ نماز دوبارہ پڑھ لو۔ پھر جب وہ جانے لگے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے عرض کیا حجاج بن ایمن ابن ام ایمن ہیں۔ اس پر آپ نے کہا اگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو بہت عزیز رکھتے، پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسامہ رضی اللہ عنہ اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کی تمام اولاد سے محبت کا ذکر کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے بعض اساتذہ نے بیان کیا اور ان سے سلیمان نے کہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گود لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3737]
حضرت حرملہ رضی اللہ عنہ، جو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے روایت ہے، وہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے۔ اس دوران میں حجاج بن ایمن رضی اللہ عنہ آیا اور اس نے نماز میں رکوع و سجود پوری طرح ادا نہ کیا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا: اپنی نماز دوبارہ پڑھو۔ جب وہ واپس جانے لگا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: یہ حضرت ایمن ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو اس سے بہت محبت کرتے۔ پھر آپ نے حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کی اولاد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے واقعات بیان کیے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے بعض ساتھیوں نے سلیمان سے بیان کیا کہ حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گود لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3737]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں