صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب ذكر أسامة بن زيد:
باب: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا بیان۔
حدیث نمبر: 3733
ح وحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَسْأَلُ الزُّهْرِيَّ عَنْ حَدِيثِ الْمَخْزُومِيَّةِ فَصَاحَ بِي، قُلْتُ لِسُفْيَانَ:" فَلَمْ تَحْتَمِلْهُ عَنْ أَحَدٍ"، قَالَ: وَجَدْتُهُ فِي كِتَابٍ كَانَ كَتَبَهُ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَهُ , فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ:" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ , لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا".
(دوسری سند) اور ہم سے علی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے مخزومیہ کی حدیث پوچھی تو وہ مجھ پر بہت غصہ ہو گئے۔ میں نے اس پر سفیان سے پوچھا کہ پھر آپ نے کسی اور ذریعہ سے اس حدیث کی روایت نہیں کی؟ انہوں نے بیان کیا کہ ایوب بن موسیٰ کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں، میں نے یہ حدیث دیکھی۔ وہ زہری سے روایت کرتے تھے، وہ عروہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی تھی۔ قریش نے (اپنی مجلس میں) سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس عورت کی سفارش کے لیے کون جا سکتا ہے؟ کوئی اس کی جرات نہیں کر سکا، آخر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے۔ اگر آج فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3733]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی تو لوگوں نے کہا کہ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ آخر کسی کو آپ سے گفتگو کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ پھر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے آپ سے بات کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کا یہی طریقہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے۔ (سنو!) اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3733]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2648
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ،" أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا وَتَزَوَّجَتْ، وَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا اور ان سے یونس نے اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ ایک عورت نے فتح مکہ پر چوری کر لی تھی۔ پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر انہوں نے اچھی طرح توبہ کر لی اور شادی کر لی۔ اس کے بعد وہ آتی تھیں تو میں ان کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 2648]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نے فتح مکہ کے موقع پر چوری کی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کیا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق اس عورت نے اچھی توبہ کی۔ پھر اس نے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد وہ میرے پاس آیا کرتی تھی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3475
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالَ: وَمَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ، قَالَ: إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ مخزومیہ خاتون (فاطمہ بنت اسود) جس نے (غزوہ فتح کے موقع پر) چوری کر لی تھی، اس کے معاملہ نے قریش کو فکر میں ڈال دیا۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کون کرے! آخر یہ طے پایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے اسامہ! کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا (جس میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان کا کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3475]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قبیلہ مخزوم کی ایک عورت نے چوری کرلی تو قریش اس کے معاملے میں بہت پریشان ہوئے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے؟ طے پایا کہ صرف حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں وہ آپ سے اس کے متعلق بات کرنے کی جرأت کر سکتے ہیں، چنانچہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق آپ سے سفارش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اے اسامہ!) کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے متعلق سفارش کرتے ہو؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں کو اس امر نے تباہ کیا کہ جب ان میں سے کوئی دولت مند اور معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر (میری لخت جگر) فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3475]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، فَفَزِعَ قَوْمُهَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يَسْتَشْفِعُونَهُ، قَالَ عُرْوَةُ: فَلَمَّا كَلَّمَهُ أُسَامَةُ فِيهَا تَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَتُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ"، قَالَ أُسَامَةُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ خَطِيبًا فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ النَّاسَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا"، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، فَقُطِعَتْ يَدُهَا، فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ وَتَزَوَّجَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ غزوہ فتح (مکہ) کے موقع پر ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چوری کر لی تھی۔ اس عورت کی قوم گھبرائی ہوئی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس آئی تاکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کر دیں (کہ اس کا ہاتھ چوری کے جرم میں نہ کاٹا جائے)۔ عروہ نے بیان کیا کہ جب اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! تم مجھ سے اللہ کی قائم کی ہوئی ایک حد کے بارے میں سفارش کرنے آئے ہو۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے لیے دعا مغفرت کیجئے، یا رسول اللہ! پھر دوپہر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی اس کے شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! تم میں سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ اگر ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کوئی کمزور چوری کر لیتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کر لے تو میں اس کا ہاتھ کاٹوں گا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے لیے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر اس عورت نے صدق دل سے توبہ کر لی اور شادی بھی کر لی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعد میں وہ میرے یہاں آتی تھیں۔ ان کو اور کوئی ضرورت ہوتی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیتی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4304]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں فتح مکہ کے موقع پر ایک عورت نے چوری کی تو اس عورت کی قوم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس گھبرائی ہوئی آئی تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کی معافی کے متعلق) اس کی سفارش کر دیں۔ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: جب حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ سے اللہ کی حد کے متعلق گفتگو کرتے ہو؟“ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! میرے لیے (اس جسارت پر) دعائے مغفرت کر دیں۔“ جب شام ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی جس کے وہ لائق ہے، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”اما بعد! تم سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ اگر ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے لیکن اگر کمزور چوری کر لیتا تو اس پر حد جاری کر دیتے۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹوں گا۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم فرمایا۔ اس کے بعد اس عورت نے صدقِ دل سے توبہ کی اور نکاح کر لیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد وہ میرے پاس آتی تو میں اس کی حاجت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4304]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6787
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ أُسَامَةَ كَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ، فَقَالَ:" إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُقِيمُونَ الْحَدَّ عَلَى الْوَضِيعِ، وَيَتْرُكُونَ الشَّرِيفَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ فَعَلَتْ ذَلِكَ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کی (جس پر حدی مقدمہ ہونے والا تھا) سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ وہ کمزوروں پر تو حد قائم کرتے اور بلند مرتبہ لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے بھی (چوری) کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ لیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6787]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کے متعلق سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے کہ وہ کمزور و حقیر پر تو حد قائم کرتے تھے اور بلند مرتبہ لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر (میری بیٹی) فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بھی یہ (چوری) کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6787]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6788
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمُ الْمَرْأَةُ الْمَخْزُومِيَّةُ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ، إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا ضَلَّ مَنْ قَبْلَكُمْ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ فِيهِمْ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَتْ، لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا".
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک مخزومی عورت کا معاملہ جس نے چوری کی تھی، قریش کے لوگوں کے لیے اہمیت اختیار کر گیا اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ میں کون بات کر سکتا ہے اسامہ رضی اللہ عنہ کے سوا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیارے ہیں اور کوئی آپ سے سفارش کی ہمت نہیں کر سکتا؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم اللہ کی حدوں میں سفارش کرنے آئے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا ”اے لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس لیے گمراہ ہو گئے کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے تھے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا ہاتھ ضرور کاٹ ڈالتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6788]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مخزومیہ عورت نے قریش کو پریشان کر دیا جس نے چوری کی تھی۔ قریش نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس عورت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو نہیں کر سکتا اور نہ کسی میں جرات ہی ہے کہ وہ آپ سے اس قسم کی بات کرے“، چنانچہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اسامہ! کیا تم اللہ کی حدود میں سفارش کرنے آئے ہو؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! تم سے پہلے لوگ صرف اس لیے گمراہ ہوئے کہ ان میں جب کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی چوری کی ہوتی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6788]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6800
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعَ يَدَ امْرَأَةٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَابَتْ وَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کٹوایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ عورت بعد میں بھی آتی تھی اور میں اس کی ضرورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتی تھی , اس عورت نے توبہ کر لی تھی اور حسن توبہ کا ثبوت دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6800]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”وہ عورت اس کے بعد بھی آتی تھی اور میں اس کی ضروریات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کرتی تھی۔ اس عورت نے توبہ کرلی تھی اور اچھی توبہ کا ثبوت دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6800]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة