🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب الصلاة فى الخفاف:
باب: موزے پہنے ہوئے نماز پڑھنا (جائز ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 388
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:" وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَصَلَّى".
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا کہ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا اعمش کے واسطہ سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق بن اجدع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 388]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا تو آپ نے موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 388]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 182
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،" أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَأَنَّهُ ذَهَبَ لِحَاجَةٍ لَهُ، وَأَنَّ مُغِيرَةَ جَعَلَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے کہا مجھے سعد بن ابراہیم نے نافع بن جبیر بن مطعم سے بتلایا۔ انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے سنا، وہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (وہاں) آپ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے (جب آپ واپس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو شروع کیا) تو مغیرہ بن شعبہ آپ کے (اعضاء وضو) پر پانی ڈالنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے آپ نے اپنے منہ اور ہاتھوں کو دھویا، سر کا مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 182]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر آئے) تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے پانی ڈالنا شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے رہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ اقدس اور دونوں ہاتھ دھوئے، سر کا مسح فرمایا اور دونوں موزوں پر بھی مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 182]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 202
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ"، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سَأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: نَعَمْ، إِذَا حَدَّثَكَ شَيْئًا سَعْدٌ عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُ غَيْرَهُ، وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ سَعْدًا حَدَّثَهُ، فَقَالَ: عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ.
ہم سے اصبغ ابن الفرج نے بیان کیا، وہ ابن وہب سے کرتے ہیں، کہا مجھ سے عمرو نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوالنضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے نقل کیا، وہ عبداللہ بن عمر سے، وہ سعد بن ابی وقاص سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد ماجد عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا (سچ ہے اور یاد رکھو) جب تم سے سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرمائیں۔ تو اس کے متعلق ان کے سوا (کسی) دوسرے آدمی سے مت پوچھو اور موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوالنضر نے بتلایا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی کہ سعد بن ابی وقاص نے ان سے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ) حدیث بیان کی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے بیٹے) عبداللہ سے ایسا کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 202]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے بھی اثبات میں جواب دیا (اور) فرمایا: جب سعد رضی اللہ عنہ تم سے کوئی حدیث بیان کریں تو کسی دوسرے سے اس کے متعلق مت پوچھا کرو۔ موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ انہیں ابوالنضر نے بواسطہ ابو سلمہ خبر دی کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے ایسا ہی کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 203
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
ہم سے عمرو بن خالد الحرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے نقل کیا، وہ سعد بن ابراہیم سے، وہ نافع بن جبیر سے وہ عروہ ابن المغیرہ سے وہ اپنے باپ مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔ (ایک دفعہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے باہر گئے تو مغیرہ پانی کا ایک برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت سے فارغ ہو گئے تو مغیرہ نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے اعضاء مبارکہ) پر پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 203]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ بھی پانی کا برتن لے کر ساتھ ہو گئے۔ جب آپ حاجت سے فارغ ہوئے تو انہوں (مغیرہ رضی اللہ عنہ) نے آپ پر پانی ڈالا اور آپ نے وضو کیا۔ پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 204
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ"، وَتَابَعَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبَانُ، عَنْ يَحْيَى.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے جعفر بن عمرو بن امیہ الضمری سے نقل کیا، انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ اس حدیث کی متابعت میں حرب اور ابان نے یحییٰ سے حدیث نقل کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 204]
حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ سے روایت کرنے میں حضرت حرب بن شداد اور ابان بن یزید العطار نے حضرت شیبان بن عبدالرحمٰن کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ"، وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو اوزاعی نے یحییٰ کے واسطے سے خبر دی، وہ ابوسلمہ سے، وہ جعفر بن عمرو سے، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے عمامے اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا۔ اس کو روایت کیا معمر نے یحییٰ سے، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے عمرو سے متابعت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا (آپ واقعی ایسا ہی کیا کرتے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 205]
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پگڑی اور دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ معمر نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بواسطہ ابو سلمہ عن عمرو، امام اوزاعی کی متابعت کی ہے، انہوں نے (عمرو) کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایسا کرتے) دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 363
حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: يَا مُغِيرَةُ خُذْ الْإِدَاوَةَ، فَأَخَذْتُهَا، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَقَضَى حَاجَتَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ، فَذَهَبَ لِيُخْرِجَ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا فَضَاقَتْ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے اعمش کے واسطہ سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق بن اجدع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ سے، آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوہ تبوک) میں تھا۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا۔ مغیرہ! پانی کی چھاگل اٹھا لے۔ میں نے اسے اٹھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میری نظروں سے چھپ گئے۔ آپ نے قضائے حاجت کی۔ اس وقت آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ ہاتھ کھولنے کے لیے آستین اوپر چڑھانی چاہتے تھے لیکن وہ تنگ تھی اس لیے آستین کے اندر سے ہاتھ باہر نکالا۔ میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا اور اپنے خفین پر مسح کیا۔ پھر نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 363]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا، آپ نے فرمایا: اے مغیرہ! پانی کا برتن پکڑ لو۔ میں نے تعمیلِ حکم کرتے ہوئے برتن پکڑ لیا۔ پھر آپ باہر گئے یہاں تک کہ آپ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ پھر آپ نے قضائے حاجت کی اور اس وقت آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ نے اس کی آستین سے اپنا ہاتھ باہر نکالنا چاہا، چونکہ وہ تنگ تھی، اس لیے آپ نے اپنا ہاتھ اس کے نیچے سے نکالا۔ پھر میں نے آپ کے اعضائے شریفہ پر پانی ڈالا، آپ نے نماز کے لیے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 363]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 387
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:" رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَسُئِلَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا"، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَكَانَ يُعْجِبُهُمْ لِأَنَّ جَرِيرًا كَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ أَسْلَمَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے اعمش کے واسطہ سے، اس نے کہا کہ میں نے ابراہیم نخعی سے سنا۔ وہ ہمام بن حارث سے روایت کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ پھر کھڑے ہوئے اور (موزوں سمیت) نماز پڑھی۔ آپ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا، تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ ابراہیم نخعی نے کہا کہ یہ حدیث لوگوں کی نظر میں بہت پسندیدہ تھی کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ آخر میں اسلام لائے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 387]
ہمام بن حارث سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے ایک دفعہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا تو اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے اور (موزوں سمیت) نماز ادا کی، ان سے اس کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل علم حضرات کو یہ حدیث بہت پسند تھی، کیونکہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آخر میں اسلام لائے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 387]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2918
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى مُسْلِمٍ هُوَ ابْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لِحَاجَتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ فَلَقِيتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ فَكَانَا ضَيِّقَيْنِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتُ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ، مسلم نے، جو صبیح کے صاحبزاے ہیں، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پانی لے کر خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرہ پاک کو دھویا۔ اس کے بعد (ہاتھ دھونے کے لیے) آستین چڑھانے کی کوشش کی لیکن آستین تنگ تھی اس لیے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا پھر انہیں دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں ہر دو کا بھی مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 2918]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ جب آپ واپس ہوئے تو میں پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت شامی جُبَّہ زیب تن کیے ہوئے تھے۔ آپ نے وضو کیا اس طرح کہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے کو دھویا۔ اس کے بعد بازو دھونے کے لیے آستینیں چڑھانے کی کوشش کی لیکن وہ تنگ تھیں، اس لیے آپ نے اپنے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا، پھر انہیں دھویا۔ بعد ازاں اپنے سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں پر بھی مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 2918]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4421
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:" ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقُمْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ عَلَيْهِ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے نافع بن جبیر نے، ان سے عروہ بن مغیرہ نے اور ان سے ان کے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تھے، پھر (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر واپس آئے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے لیے میں پانی لے کر حاضر ہوا، جہاں تک مجھے یقین ہے انہوں نے یہی بیان کیا کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک دھویا اور جب کہنیوں تک دھونے کا ارادہ کیا تو جبہ کی آستین تنگ نکلی۔ چنانچہ آپ نے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال لیے اور انہیں دھویا، پھر موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4421]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو میں آپ کے لیے وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا (جہاں تک مجھے یقین ہے یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے) آپ نے اپنا چہرہ مبارک دھویا، پھر آپ نے اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھونے کا ارادہ کیا تو جبے کی آستین تنگ نکلی، چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال لیے اور انہیں دھویا، پھر موزوں پر مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4421]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5798
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الضُّحَى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَسْرُوقٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ:" انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَتَلَقَّيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ، فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ، فَكَانَا ضَيِّقَيْنِ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَهُمَا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ".
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوالضحیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مسروق نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے پھر واپس آئے تو میں پانی لے کر حاضر تھا۔ آپ نے وضو کیا آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا پھر اپنی آستینیں چڑھانے لگے لیکن وہ تنگ تھی اس لیے آپ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور انہیں دھویا اور سر پر اور موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5798]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ جب واپس آئے تو میں پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اس کی آستینوں سے نکالنا چاہا لیکن وہ تنگ تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالے اور پھر بازوؤں کو دھویا، سر اور موزوں پر مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5798]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں