🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب فضل استقبال القبلة:
باب: قبلہ کی طرف منہ کرنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا نُعَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَذَبَحُوا ذَبِيحَتَنَا، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ"،
ہم سے نعیم بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ ابن مبارک نے حمید طویل کے واسطہ سے، انہوں نے روایت کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں۔ پس جب وہ اس کا اقرار کر لیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگیں اور ہمارے قبلہ کی طرف نماز میں منہ کریں اور ہمارے ذبیحہ کو کھانے لگیں تو ان کا خون اور ان کے اموال ہم پر حرام ہو گئے۔ مگر کسی حق کے بدلے اور (باطن میں) ان کا حساب اللہ پر رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 392]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کلمہ طیبہ کے قائل ہونے تک لوگوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر جب وہ اس کلمہ طیبہ کے قائل ہو جائیں، ہماری طرح نماز ادا کرنے لگیں، ہمارے قبلے کی طرف منہ کریں اور ہمارے ذبیحے کو کھائیں تو اس وقت ہم پر ان کے خون اور مال حرام ہو جائیں گے مگر حق (اسلام) کی صورت میں ان کی جان و مال سے تعرض درست ہو گا، باقی ان کا حساب اللہ کے حوالے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 392]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 391
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمَهْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا، فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ".
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور بن سعد نے میمون بن سیاہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہماری طرح قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی پناہ ہے۔ پس تم اللہ کے ساتھ اس کی دی ہوئی پناہ میں خیانت نہ کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 391]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ مسلمان ہے جسے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ حاصل ہے، لہذا تم اللہ کے ذمے میں خیانت (بدعہدی) نہ کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 391]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں