🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب قتل أبى جهل:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3963
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ" , فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ , فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، فَقَالَ: أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ؟ أَوْ قَالَ: قَتَلْتُمُوهُ. حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ نَحْوَهُ.
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے دن فرمایا کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ معلوم کرنے گئے تو دیکھا کے عفراء کے دونوں لڑکوں نے اسے قتل کر دیا تھا اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے۔ انہوں نے اس کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا، تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہا، کیا اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے آج اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہے یا (اس نے یوں کہا کہ) تم لوگوں نے اسے قتل کر ڈالا ہے؟ مجھ سے ابن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم کو معاذ بن معاذ نے خبر دی، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، اسی طرح آگے حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3963]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل کا کیا حشر ہوا؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معلوم کرنے گئے تو دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کا جسم ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی داڑھی پکڑ کر فرمایا: کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہا: کیا اس آدمی سے بڑھ کر کوئی ہے جسے اس کی قوم نے قتل کیا؟ یا کہا: اسے تم نے قتل کیا ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3963]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3962
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ , فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ، قَالَ: أَأَنْتَ أَبُو جَهْلٍ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، قَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ , أَوْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ؟ قَالَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ: أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اور دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا، مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ہے جو معلوم کرے کہ ابوجہل کا کیا حشر ہوا؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقت حال معلوم کرنے آئے تو دیکھا کے عفراء کے بیٹوں (معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہما) نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا، کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ ابوجہل نے کہا، کیا اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے تم نے آج قتل کر ڈالا ہے؟ یا (اس نے یہ کہا کہ کیا اس سے بھی بڑا) کوئی آدمی ہے جسے اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہے؟ احمد بن یونس نے (اپنی روایت میں) «أنت» ابوجھل کے الفاظ بیان کئے ہیں۔ یعنی انہوں نے یہ پوچھا، کیا تو ہی ابوجہل ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3962]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو پتا کر کے آئے کہ ابوجہل کا کیا حشر ہوا؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقتِ حال معلوم کرنے گئے تو دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: آیا تو ہی ابوجہل ہے؟ انہوں نے اس کی داڑھی پکڑ لی تو ابوجہل نے کہا: اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے تم نے آج قتل کیا ہو؟ یا کہا: اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہو؟ احمد بن یونس رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3962]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3964
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَتَبْتُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ فِي بَدْرٍ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے یوسف بن ماجشون سے یہ حدیث لکھی، انہوں نے صالح بن ابراہیم سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے صالح کے دادا (عبدالرحمٰن بن عوفص) سے، بدر کے بارے میں عفراء کے دونوں بیٹوں کی حدیث مراد لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3964]
حضرت صالح بن ابراہیم سے روایت ہے، انہوں نے اپنے باپ سے، پھر اپنے دادا (حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) سے عفراء کے دونوں بیٹوں کے بدر (میں کارنامے) کے متعلق یہ حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3964]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4020
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ؟" فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ، فَقَالَ: آنْتَ أَبَا جَهْلٍ؟ قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ: قَالَ سُلَيْمَانُ: هَكَذَا قَالَهَا أَنَسٌ، قَالَ: أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ؟ قَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَوْ قَالَ: قَتَلَهُ قَوْمُهُ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي.
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے دن فرمایا کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل کے ساتھ کیا ہوا؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے لیے روانہ ہوئے اور دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کی لاش ٹھنڈی ہونے والی ہے۔ انہوں نے پوچھا، ابوجہل تم ہی ہو؟ ابن علیہ نے بیان کیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا کہ تو ابوجہل ہے؟ اس پر اس نے کہا، کیا اس سے بھی بڑا کوئی ہو گا جسے تم نے آج قتل کر دیا ہے؟ سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ یا اس نے یوں کہا، جسے اس کی قوم نے قتل کر دیا ہے؟ (کیا اس سے بھی بڑا کوئی ہو گا) کہا کہ ابومجلز نے بیان کیا کہ ابوجہل نے کہا، کاش! ایک کسان کے سوا مجھے کسی اور نے مارا ہوتا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4020]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن فرمایا: ابوجہل کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اسے کون دیکھ کر آتا ہے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کی لاش ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا: تو ہی ابوجہل ہے؟ (راویِ حدیث) ابن علیہ بیان کرتے ہیں کہ سلیمان تیمی نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کہا تھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا: تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے جواب دیا: کیا اس سے اونچے کسی آدمی کو تم نے (آج) قتل کیا ہے؟ راویِ حدیث سلیمان نے کہا: یا اسے اس کی قوم نے قتل کیا ہو؟ ابومجلز کی روایت کے مطابق ابوجہل نے کہا: کاش! کسان کے علاوہ مجھے کوئی اور قتل کرتا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4020]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں