🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4178
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ حَفِظْتُ بَعْضَهُ , وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يَزِيدُ , أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ , قَالَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ , فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ , وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ , وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ أَتَاهُ عَيْنُهُ , قَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا , وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الْأَحَابِيشَ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ , وَصَادُّوكَ عَنْ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ , فَقَالَ:" أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيَّ , أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنْ الْبَيْتِ؟ فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَإِلَّا تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ لَا تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلَا حَرْبَ أَحَدٍ , فَتَوَجَّهْ لَهُ , فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ , قَالَ:" امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ جب زہری نے یہ حدیث بیان کی (جو آگے مذکور ہوئی ہے) تو اس میں سے کچھ میں نے یاد رکھی اور معمر نے اس کو اچھی طرح یاد دلایا۔ ان سے عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے بیان کیا ‘ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کچھ بڑھاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر جب آپ ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا اور اس پر نشان لگایا اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر آپ نے قبیلہ خزاعہ کے ایک صحابی کو جاسوسی کے لیے بھیجا اور خود بھی سفر جاری رکھا۔ جب آپ غدیر الاشطاط پر پہنچے تو آپ کے جاسوس بھی خبریں لے کر آ گئے۔ جنہوں نے بتایا کہ قریش نے آپ کے مقابلے کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کر رکھا ہے اور بہت سے قبائل کو بلایا ہے۔ وہ آپ سے جنگ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور آپ کو بیت اللہ سے روکیں گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ مجھے مشورہ دو کیا تمہارے خیال میں یہ مناسب ہو گا کہ میں ان کفار کی عورتوں اور بچوں پر حملہ کر دوں جو ہمارے بیت اللہ تک پہنچنے میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں؟ اگر انہوں نے ہمارا مقابلہ کیا تو اللہ عزوجل نے مشرکین سے ہمارے جاسوس کو محفوظ رکھا ہے اور اگر وہ ہمارے مقابلے پر نہیں آتے تو ہم انہیں ایک ہاری ہوئی قوم جان کر چھوڑ دیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ تو صرف بیت اللہ کے عمرہ کے لیے نکلے ہیں نہ آپ کا ارادہ کسی کو قتل کرنے کا ہے اور نہ کسی سے لڑائی کا۔ اس لیے آپ بیت اللہ تشریف لے چلیں۔ اگر ہمیں پھر بھی کوئی بیت اللہ تک جانے سے روکے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا نام لے کر سفر جاری رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4178]
حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے کچھ زائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ آپ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانوروں کو ہار پہنائے اور ان کا شعار کیا۔ وہاں سے آپ نے عمرے کا احرام باندھا، پھر قبیلہ خزاعہ سے ایک جاسوس بھیجا اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے رہے۔ جب غدیر اشطاط پہنچے تو آپ کے جاسوس نے اطلاع دی کہ قریش نے آپ (کے مقابلے) کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کیا ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف قبائل کو اکٹھا کر رکھا ہے اور وہ آپ سے لڑنا چاہتے ہیں، نیز آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! مجھے مشورہ دو، کیا تم مناسب سمجھتے ہو کہ میں ان کے اہل و عیال پر حملہ کر دوں جو ہمیں بیت اللہ سے روکنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ لوگ (اپنے اہل و عیال کو بچانے کی خاطر) ہمارے پاس (لڑائی کرنے) آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے ہمارے جاسوس کو بچا لیا ہے۔ اور اگر وہ نہ آئے تو ہم ان کے بال بچوں پر حملہ کر کے انہیں جنگ کی حالت میں چھوڑ دیں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ تو بیت اللہ کا ارادہ کر کے روانہ ہوئے ہیں، نہ تو ہم کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہمارا کسی سے لڑنے کا پروگرام ہی ہے، اس لیے آپ سیدھے بیت اللہ تشریف لے جائیں، جو شخص اس سلسلے میں رکاوٹ بنے گا ہم اس سے جنگ کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، اللہ کا نام لے کر اپنا سفر جاری رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4178]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1694
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , وَمَرْوَانَ , قَالَا:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے تقریباً اپنے ایک ہزار ساتھیوں کے ساتھ (حج کے لیے نکلے) جب ذی الحلیفہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا پھر عمرہ کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 1694]
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ حدیبیہ میں ایک ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانیوں کو «قَلَادَة» قلادہ پہنایا اور ان کا «إِشْعَار» اشعار کیا، پھر عمرے کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1695
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , وَمَرْوَانَ , قَالَا:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے تقریباً اپنے ایک ہزار ساتھیوں کے ساتھ (حج کے لیے نکلے) جب ذی الحلیفہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا پھر عمرہ کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 1695]
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ حدیبیہ میں ایک ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، جب ذوالحلیفہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانیوں کو قلادہ پہنایا اور ان کا اشعار کیا، پھر عمرے کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں