🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب غزوة الفتح:
باب: غزوہ فتح مکہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4274
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ، يَقُولُ:سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ , وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوا مِنْهَا"، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ قُلْنَا لَهَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، قَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَقُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ بِمَكَّةَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا حَاطِبُ، مَا هَذَا؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ يَقُولُ: كُنْتُ حَلِيفًا وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مَنْ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي , وَلَمْ أَفْعَلْهُ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ إِلَى قَوْلِهِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ سورة الممتحنة آية 1.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہیں حسن بن محمد بن علی نے خبر دی اور انہوں نے عبیداللہ بن رافع سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے، زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا اور ہدایت کی کہ (مکہ کے راستے پر) چلے جانا جب تم مقام روضہ خاخ پر پہنچو تو وہاں تمہیں ہودج میں ایک عورت ملے گی۔ وہ ایک خط لیے ہوئے ہے ‘ تم اس سے وہ لے لینا۔ انہوں نے کہا کہ ہم روانہ ہوئے۔ ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی کے ساتھ لیے جا رہے تھے۔ جب ہم روضہ خاخ پر پہنچے تو واقعی وہاں ہمیں ایک عورت ہودج میں سوار ملی (جس کا نام سارا یا کناد ہے) ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ وہ کہنے لگی کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے لیکن جب ہم نے اس سے یہ کہا کہ اگر تو نے خود سے خط نکال کر ہمیں نہیں دیا تو ہم تیرا کپڑا اتار کر (تلاشی لیں گے) تب اس نے اپنی چوٹی میں سے وہ خط نکالا۔ ہم وہ خط لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے۔ اس میں یہ لکھا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے چند مشرکین مکہ کے نام (صفوان بن امیہ اور سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابوجہل) پھر انہوں نے اس میں مشرکین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض بھیدوں کی خبر بھی دی تھی۔ (آپ فوج لے کر آنا چاہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے حاطب! تو نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے بارے میں فیصلہ کرنے میں آپ جلدی نہ فرمائیں ‘ میں اس کی وجہ عرض کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ میں دوسرے مہاجرین کی طرح قریش کے خاندان سے نہیں ہوں ‘ صرف ان کا حلیف بن کر ان سے جڑ گیا ہوں اور دوسرے مہاجرین کے وہاں عزیز و اقرباء ہیں جو ان کے گھر بار مال و اسباب کی نگرانی کرتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ خیر جب میں خاندان کی رو سے ان کا شریک نہیں ہوں تو کچھ احسان ہی ان پر ایسا کر دوں جس کے خیال سے وہ میرے کنبہ والوں کو نہ ستائیں۔ میں نے یہ کام اپنے دین سے پھر کر نہیں کیا اور نہ اسلام لانے کے بعد میرے دل میں کفر کی حمایت کا جذبہ ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واقعی انہوں نے تمہارے سامنے سچی بات کہہ دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اجازت ہو تو میں اس منافق کی گردن اڑا دوں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ غزوہ بدر میں شریک رہے ہیں اور تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ جو غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے کام سے واقف ہے سورۃ الممتحنہ میں اس نے ان کے متعلق خود فرما دیا ہے کہ جو چاہو کرو میں نے تمہارے گناہ معاف کر دیئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء تلقون إليهم بالمودة‏» اے وہ لوگو جو ایمان لا چکے ہو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ ان سے تم اپنی محبت کا اظہار کرتے رہو۔ آیت «فقد ضل سواء السبيل» تک۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4274]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، حضرت زبیر اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہم کو روانہ فرمایا اور حکم دیا: تم چلتے رہو حتیٰ کہ روضہ خاخ پہنچو، یقینا وہاں تمہیں اونٹنی پر سوار عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہے، تم اس سے حاصل کر کے لے آؤ۔ انہوں نے کہا: ہم وہاں سے چل پڑے۔ ہمارے گھوڑے ہمیں بڑی تیزی سے لے جا رہے تھے۔ جب ہم روضہ خاخ پہنچے تو واقعی وہاں ہمیں اونٹنی پر سوار ایک عورت ملی۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال دے، وہ کہنے لگی: میرے پاس کوئی خط وغیرہ نہیں ہے۔ ہم نے کہا: تجھے خط نکالنا ہو گا بصورت دیگر ہم تیرے کپڑے اتار پھینکیں گے، چنانچہ اس نے اپنے بالوں کے جوڑے سے خط نکال کر ہمارے حوالے کر دیا جسے لے کر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس میں یہ لکھا تھا: حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کے نام۔ اس خط کے ذریعے سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ راز مشرکین کو بتا رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ حاطب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ میرے معاملے میں جلدی سے کام نہ لیں۔ دراصل میں قریش کے خاندان سے نہیں تھا بلکہ میں ان کا حلیف تھا اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کی مکہ مکرمہ میں قرابت داری ہے جس کی وجہ سے اہل مکہ ان کے اہل و عیال اور اموال و متاع کی حفاظت کریں گے۔ میں نے خیال کیا کہ جب میرا ان سے کوئی نسبتی رشتہ نہیں ہے تو میں ان پر کوئی احسان کر دوں جس کی وجہ سے وہ میری قرابت کی نگہبانی کریں۔ میں نے یہ کام اپنے دین سے برگشتہ ہو کر نہیں کیا اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ ہی سے ایسا کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اس شخص نے سچ سچ کہہ دیا ہے۔ (اس کے باوجود) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ مجھے اجازت دیں، میں اس منافق کی گردن اتارتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص بدر کی جنگ میں شریک ہو چکا ہے۔ تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر میں حاضر ہونے والوں سے فرمایا ہے: «اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ» تم جو چاہو عمل کرو، یقینا میں تمہیں بخش چکا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ... وَمَنْ يَفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ﴾ [سورة الممتحنة: 1] اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم انہیں اپنی محبت اور دوستی کا یقین دلاتے ہو حالانکہ وہ حق (سچے دین) کے منکر ہوئے ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے، تو یقینا وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4274]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3007
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا والزُّبَيْرَ والْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ، قَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً وَمَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الرَّوْضَةِ، فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ، فَقُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا حَاطِبُ مَا هَذَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ بِمَكَّةَ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ كُفْرًا، وَلَا ارْتِدَادًا، وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ صَدَقَكُمْ، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، قَالَ: إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ"، قَالَ سُفْيَانُ: وَأَيُّ إِسْنَادٍ هَذَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ سفیان نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو مرتبہ سنی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے حسن بن محمد نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد بن اسود (رضی اللہ عنہم) کو ایک مہم پر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم لوگ روضہ خاخ (جو مدینہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے) پر پہنچ جاؤ تو وہاں ایک بڑھیا عورت تمہیں اونٹ پر سوار ملے گی اور اس کے پاس ایک خط ہو گا ‘ تم لوگ اس سے وہ خط لے لینا۔ ہم روانہ ہوئے اور ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی کے ساتھ لیے جا رہے تھے۔ آخر ہم روضہ خاخ پر پہنچ گئے اور وہاں واقعی ایک بوڑھی عورت موجود تھی جو اونٹ پر سوار تھی۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ لیکن جب ہم نے اسے دھمکی دی کہ اگر تو نے خط نہ نکالا تو تمہارے کپڑے ہم خود اتار دیں گے۔ اس پر اس نے اپنی گندھی ہوئی چوٹی کے اندر سے خط نکال کر دیا ‘ اور ہم اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ‘ اس کا مضمون یہ تھا ‘ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کے چند آدمیوں کی طرف ‘ اس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض بھیدوں کی خبر دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا واقعہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بارے میں عجلت سے کام نہ لیجئے۔ میری حیثیت (مکہ میں) یہ تھی کہ قریش کے ساتھ میں نے رہنا سہنا اختیار کر لیا تھا ‘ ان سے رشتہ ناتہ میرا کچھ بھی نہ تھا۔ آپ کے ساتھ جو دوسرے مہاجرین ہیں ان کی تو مکہ میں سب کی رشتہ داری ہے اور مکہ والے اسی وجہ سے ان کے عزیزوں کی اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کریں گے مگر مکہ والوں کے ساتھ میرا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے ‘ اس لیے میں نے سوچا کہ ان پر کوئی احسان کر دوں جس سے اثر لے کر وہ میرے بھی عزیزوں کی مکہ میں حفاظت کریں۔ میں نے یہ کام کفر یا ارتداد کی وجہ سے ہرگز نہیں کیا ہے اور نہ اسلام کے بعد کفر سے خوش ہو کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا کہ حاطب نے سچ کہا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اجازت دیجئیے میں اس منافق کا سر اڑا دوں ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ‘ یہ بدر کی لڑائی میں (مسلمانوں کے ساتھ مل کر) لڑے ہیں اور تمہیں معلوم نہیں ‘ اللہ تعالیٰ مجاہدین بدر کے احوال (موت تک کے) پہلے ہی سے جانتا تھا ‘ اور وہ خود ہی فرما چکا ہے کہ تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ حدیث کی یہ سند بھی کتنی عمدہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3007]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر روانہ کیا اور فرمایا: تم چلتے رہو حتیٰ کہ روضہ خاخ پہنچ جاؤ، وہاں تمہیں اونٹ پر سوار ایک عورت ملے گی، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ اس سے لے آؤ۔ ہم وہاں سے روانہ ہوئے اور ہمارے گھوڑے ہمیں لیے تیزی سے دوڑے جا رہے تھے یہاں تک کہ ہم روضہ خاخ پہنچ گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں اونٹ سوار ایک عورت ہے۔ ہم نے اسے کہا: خط نکال۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے کہا: خط نکال دو ورنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے، چنانچہ اس نے اپنے سر کے جوڑے سے خط نکالا۔ ہم وہ خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے خط کھول کر پڑھا تو اس میں یہ مضمون تھا: یہ خط حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے چند مشرکین کے نام ہے، وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض حالات کی خبر دے رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیسا خط ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے سزا دینے میں جلدی نہ کریں بلکہ میرا عذر سن لیں۔ میرا قریش سے کوئی نسبی رشتہ نہیں بلکہ میں باہر سے آکر ان سے ملا ہوں۔ آپ کے ہمراہ جو مہاجرین ہیں ان سب کی مکہ مکرمہ میں رشتہ داریاں ہیں جن کی وجہ سے قریش، ان کے اہل و عیال اور مال و اسباب کی حفاظت کریں گے۔ میں نے سوچا کہ جب میرا ان سے کوئی نسبی رشتہ تو نہیں ہے تو میں ان پر کوئی ایسا احسان کروں جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں گے۔ میں نے یہ کام کفر کی بنا پر نہیں کیا اور نہ ہی میں دین اسلام سے پھر گیا ہوں اور نہ اسلام کے بعد کفر ہی پر راضی ہوا ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے تمہیں سچ سچ بتا دیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیں، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چونکہ یہ شخص غزوہ بدر میں حاضر تھا، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو دیکھ کر فرمایا ہے کہ تم جو چاہو عمل کرو یقیناً میں تمہیں بخش چکا ہوں۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث کی سند کیسی عجیب اور عمدہ ہے! [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3007]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3081
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ عُثْمَانِيًّا، فَقَالَ: لِابْنِ عَطِيَّةَ وَكَانَ عَلَوِيًّا إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ عَلَى الدِّمَاءِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ:" ائْتُوا رَوْضَةَ كَذَا وَتَجِدُونَ بِهَا امْرَأَةً أَعْطَاهَا حَاطِبٌ كِتَابًا، فَأَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَقُلْنَا الْكِتَابَ، قَالَتْ: لَمْ يُعْطِنِي فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ، فَأَخْرَجَتْ مِنْ حُجْزَتِهَا فَأَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ، فَقَالَ: لَا تَعْجَلْ وَاللَّهِ مَا كَفَرْتُ وَلَا ازْدَدْتُ لِلْإِسْلَامِ إِلَّا حُبًّا وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا وَلَهُ بِمَكَّةَ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لِي أَحَدٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا فَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ فَإِنَّهُ قَدْ نَافَقَ، فَقَالَ: مَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَهَذَا الَّذِي جَرَّأَهُ".
مجھ سے محمد بن عبداللہ بن حوشب الطائفی نے بیان کیا ‘ ان سے ہشیم نے بیان کیا ‘ انہیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن عبیدہ نے اور انہیں ابی عبدالرحمٰن نے اور وہ عثمانی تھے ‘ انہوں نے عطیہ سے کہا ‘ جو علوی تھے ‘ کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہارے صاحب (علی رضی اللہ عنہ) کو کس چیز سے خون بہانے پر جرات ہوئی ‘ میں نے خود ان سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا۔ اور ہدایت فرمائی کہ روضہ خاخ پر جب تم پہنچو ‘ تو انہیں ایک عورت (سارہ نامی) ملے گی۔ جسے حاطب ابن بلتعہ رضی اللہ عنہ نے ایک خط دے کر بھیجا ہے (تم وہ خط اس سے لے کر آؤ) چنانچہ جب ہم اس باغ تک پہنچے ہم نے اس عورت سے کہا خط لا۔ اس نے کہا کہ حاطب رضی اللہ عنہ نے مجھے کوئی خط نہیں دیا۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط خود بخود نکال کر دیدے ورنہ (تلاشی کے لیے) تمہارے کپڑے اتار لیے جائیں گے۔ تب کہیں اس نے خط اپنے نیفے میں سے نکال کر دیا۔ (جب ہم نے وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ‘ تو) آپ نے حاطب رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا انہوں نے (حاضر ہو کر) عرض کیا۔ یا رسول اللہ! میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں! اللہ کی قسم! میں نے نہ کفر کیا ہے اور نہ میں اسلام سے ہٹا ہوں ‘ صرف اپنے خاندان کی محبت نے اس پر مجبور کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (مہاجرین) میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کے رشتہ دار وغیرہ مکہ میں نہ ہوں۔ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کے خاندان والوں اور ان کی جائیداد کی حفاظت نہ کراتا ہو۔ لیکن میرا وہاں کوئی بھی آدمی نہیں ‘ اس لیے میں نے چاہا کہ ان مکہ والوں پر ایک احسان کر دوں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی بات کی تصدیق فرمائی۔ عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے مجھے اس کا سر اتارنے دیجئیے یہ تو منافق ہو گیا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا معلوم! اللہ تعالیٰ اہل بدر کے حالات سے خوب واقف تھا اور وہ خود اہل بدر کے بارے میں فرما چکا ہے کہ جو چاہو کرو۔ ابوعبدالرحمٰن نے کہا، علی رضی اللہ عنہ کو اسی ارشاد نے (کہ تم جو چاہو کرو، خون ریزی پر) دلیر بنا دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3081]
حضرت ابو عبدالرحمان رحمہ اللہ سے روایت ہے جو کہ عثمانی ہیں انہوں نے حضرت ابن عطیہ رحمہ اللہ سے کہا جو علوی تھے، میں خوب جانتا ہوں کہ تمہارے صاحب (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کو کس چیز سے خون بہانے پر جرات ہوئی۔ میں نے خود ان سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا اور ہدایت فرمائی: جب تم فلاں روضہ پر پہنچو تو وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی جسے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے ایک خط دے کر بھیجا ہے۔ چنانچہ جب ہم اس باغ میں پہنچے تو ہم نے اس عورت سے وہ خط لانے کو کہا۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے اس (حضرت حاطب رضی اللہ عنہ) نے کوئی خط نہیں دیا۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط خود بخود نکال کر ہمارے حوالے کر دو بصورتِ دیگر (تلاشی لینے کے لیے) تیرے کپڑے اتار دیے جائیں گے۔ اس کے بعد اس نے وہ خط اپنے مقعدِ ازار سے نکالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا تو انہوں نے عرض کیا: آپ میرے بارے میں جلدی نہ کریں، اللہ کی قسم! میں نے کفر کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ اسلام سے میری محبت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ مجھے صرف اپنے خاندان کی محبت نے اس اقدام پر مجبور کیا تھا کیونکہ آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس کے رشتہ دار وغیرہ مکہ میں نہ ہوں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان کے اہل و عیال اور مال و اسباب کی حفاظت کراتا ہے لیکن میرا کوئی عزیز نہیں ہے اس لیے میں نے چاہا کہ اہل مکہ پر کوئی احسان کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس امر کی تصدیق فرما دی لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: مجھے چھوڑیئے میں اس کا سر قلم کر دوں کیونکہ اس نے منافقت کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر کرتے ہوئے فرمایا: اب جو چاہو کرو۔حضرت ابو عبدالرحمان رحمہ اللہ نے کہا: انہیں (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کو اسی بات نے دلیر کر رکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3081]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3983
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ , وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَكُلُّنَا فَارِسٌ، قَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا كِتَابٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ" , فَأَدْرَكْنَاهَا تَسِيرُ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا حَيْثُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا: الْكِتَابُ، فَقَالَتْ: مَا مَعَنَا كِتَابٌ , فَأَنَخْنَاهَا , فَالْتَمَسْنَا فَلَمْ نَرَ كِتَابًا، فَقُلْنَا: مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُجَرِّدَنَّكِ , فَلَمَّا رَأَتِ الْجِدَّ أَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ فَأَخْرَجَتْهُ , فَانْطَلَقْنَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَدَعْنِي فَلِأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ"، قَالَ حَاطِبٌ: وَاللَّهِ مَا بِي أَنْ لَا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَرَدْتُ أَنْ يَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي , وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا لَهُ هُنَاكَ مِنْ عَشِيرَتِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ وَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا"، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَدَعْنِي فَلِأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ"، فَقَالَ:" لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ , أَوْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ" , فَدَمَعَتْ عَيْنَا عُمَرَ، وَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ ہم کو عبداللہ بن ادریس نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے حسین بن عبدالرحمٰن سے سنا ‘ انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ‘ انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے ‘ ابومرثد رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم پر بھیجا۔ ہم سب شہسوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ سیدھے چلے جاؤ۔ جب روضہ خاخ پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکین کی ایک عورت ملے گی ‘ وہ ایک خط لیے ہوئے ہے جسے حاطب بن ابی بلتعہ نے مشرکین کے نام بھیجا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جگہ کا پتہ دیا تھا ہم نے وہیں اس عورت کو ایک اونٹ پر جاتے ہوئے پا لیا۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط دے دو۔ وہ کہنے لگی کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بیٹھا کر اس کی تلاشی لی تو واقعی ہمیں بھی کوئی خط نہیں ملا۔ لیکن ہم نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی خط نکال ورنہ ہم تجھے ننگا کر دیں گے۔ جب اس نے ہمارا یہ سخت رویہ دیکھا تو ازار باندھنے کی جگہ کی طرف اپنا ہاتھ لے گئی وہ ایک چادر میں لپٹی ہوئی تھی اور اس نے خط نکال کر ہم کو دے دیا ہم اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے (یعنی حاطب بن ابی بلتعہ نے) اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے دغا کی ہے آپ مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس کی گردن مار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ حاطب رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کی قسم! یہ وجہ ہرگز نہیں تھی کہ اللہ اور اس کے رسول پر میرا ایمان باقی نہیں رہا تھا میرا مقصد تو صرف اتنا تھا کہ قریش پر اس طرح میرا ایک احسان ہو جائے اور اس کی وجہ سے وہ (مکہ میں باقی رہ جانے والے) میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں۔ آپ کے اصحاب میں جتنے بھی حضرات (مہاجرین) ہیں ان سب کا قبیلہ وہاں موجود ہے اور اللہ ان کے ذریعے ان کے اہل و مال کی حفاظت کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچی بات بتا دی ہے اور تم لوگوں کو چاہئے کہ ان کے متعلق اچھی بات ہی کہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا کہ اس شخص نے اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں سے دغا کی ہے آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا یہ بدر والوں میں سے نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے حالات کو پہلے ہی سے جانتا تھا اور وہ خود فرما چکا ہے کہ تم جو چاہو کرو، تمہیں جنت ضرور ملے گی۔ (یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3983]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے، ابومرثد اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم پر روانہ کیا۔ ہم سب شہسوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب چلتے رہو، جب تم روضہ خاخ پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکین کی عورت ملے گی، اس کے پاس ایک خط ہے جو حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کے نام ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جگہ کا پتا دیا تھا ہم نے وہیں اس عورت کو ایک اونٹ پر جاتے ہوئے پایا۔ ہم نے اسے کہا: خط ہمارے حوالے کر دو۔ اس نے کہا: ہمارے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا کر اس کی تلاشی کی تو واقعی ہمیں کوئی خط نہ ملا لیکن ہم نے اسے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔ خط ہمارے حوالے کر دو بصورت دیگر ہم تجھے ننگا کر دیں گے۔ جب اس نے ہمارا یہ سخت رویہ دیکھا تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے کمر بند کی طرف مائل کر دیا اور اس نے خود کو اپنی چادر میں لپیٹ رکھا تھا۔ بہرحال اس نے خط نکال کر ہمارے حوالے کر دیا۔ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے اللہ، اس کے رسول اور جملہ اہل ایمان سے دغا کیا ہے۔ آپ مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑاتا ہوں۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جو تو نے کردار ادا کیا ہے اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں۔ میرا مقصد صرف اہل مکہ پر احسان کرنا تھا تاکہ اس کے باعث اللہ تعالیٰ میرے اہل و اولاد اور مال و دولت کو محفوظ رکھے۔ آپ کے اصحاب میں سے جتنے حضرات بھی ہیں ان سب کا وہاں قبیلہ موجود ہے اور اللہ ان کے ذریعے سے ان کے اہل و عیال اور مال و متاع کی حفاظت کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ سچ کہہ دیا ہے، اس لیے تم بھی اس کے متعلق کلمہ خیر ہی کہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس شخص نے اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان سے خیانت کی ہے۔ آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اہل بدر سے نہیں ہے؟ پھر فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اہل بدر کے حالات سے مطلع ہوا اور فرمایا: آئندہ تم جو چاہو کرو تمہارے لیے جنت ثابت ہو چکی ہے۔ یا فرمایا: میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آبدیدہ ہو گئے اور کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3983]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4890
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ كَاتِبَ عَلِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ، فَخُذُوهُ مِنْهَا، فَذَهَبْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ، فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ، فَقُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ، أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِمَّنْ بِمَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا يَا حَاطِبُ؟" قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِنْ قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِمَكَّةَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَصْطَنِعَ إِلَيْهِمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ كُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ" فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ:" إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ:" اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ"، قَالَ عَمْرٌو: وَنَزَلَتْ فِيهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ سورة الممتحنة آية 1، قَالَ: لَا أَدْرِي الْآيَةَ فِي الْحَدِيثِ، أَوْ قَوْلُ عَمْرٍو. حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: قِيلَ لِسُفْيَانَ فِي هَذَا، فَنَزَلَتْ لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ سورة الممتحنة آية 1 الْآيَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا فِي حَدِيثِ النَّاسِ حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو مَا تَرَكْتُ مِنْهُ حَرْفًا وَمَا أُرَى أَحَدًا حَفِظَهُ غَيْرِي.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حسن بن محمد بن علی نے بیان کیا، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے کاتب عبیداللہ بن ابی رافع سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا اور فرمایا کہ چلے جاؤ اور جب مقام خاخ کے باغ پر پہنچ جاؤ گے (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا) تو وہاں تمہیں ہودج میں ایک عورت ملے گی، اس کے ساتھ ایک خط ہو گا، وہ خط تم اس سے لے لینا۔ چنانچہ ہم روانہ ہوئے ہمارے گھوڑے ہمیں تیز رفتاری کے ساتھ لے جا رہے تھے۔ آخر جب ہم اس باغ پر پہنچے تو واقعی وہاں ہم نے ہودج میں اس عورت کو پا لیا ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال دے ورنہ ہم تیرا سارا کپڑا اتار کر تلاشی لیں گے۔ آخر اس نے اپنی چوٹی سے خط نکالا ہم لوگ وہ خط لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس خط میں لکھا ہوا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین کے چند آدمیوں کی طرف جو مکہ میں تھے اس خط میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاری کا ذکر لکھا تھا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بڑی فوج لے کر آتے ہیں تم اپنا بچاؤ کر لو)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے معاملہ میں جلدی نہ فرمائیں میں قریش کے ساتھ بطور حلیف (زمانہ قیام مکہ میں) رہا کرتا تھا لیکن ان کے قبیلہ و خاندان سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے برخلاف آپ کے ساتھ جو دوسرے مہاجرین ہیں ان کی قریش میں رشتہ داریاں ہیں اور ان کی رعایت سے قریش مکہ میں رہ جانے والے ان کے اہل و عیال اور مال کی حفاظت کرتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ جبکہ ان سے میرا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے تو اس موقع پر ان پر ایک احسان کر دوں اور اس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی مکہ میں حفاظت کریں۔ یا رسول اللہ! میں نے یہ عمل کفر یا اپنے دین سے پھر جانے کی وجہ سے نہیں کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یقیناً انہوں نے تم سے سچی بات کہہ دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بدر کی جنگ میں ہمارے ساتھ موجود تھے۔ تمہیں کیا معلوم، اللہ تعالیٰ بدر والوں کے تمام حالات سے واقف تھا اور اس کے باوجود ان کے متعلق فرما دیا کہ جو جی چاہے کرو کہ میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ عمرو بن دینار نے کہا کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم‏» کہ الایۃ۔ اے ایمان والو! تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنا لینا۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں کہ اس آیت کا ذکر حدیث میں داخل ہے یا نہیں یہ عمرو بن دینار کا قول ہے۔ ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ سے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا آیت «لا تتخذوا عدوي‏» انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ سفیان نے کہا کہ لوگوں کی روایت میں تو یونہی ہے لیکن میں نے عمرو سے حدیث یاد کی اس میں سے ایک حرف بھی میں نے نہیں چھوڑا اور میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا اور کسی نے اس حدیث کو عمرو سے خوب یاد رکھا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4890]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے، حضرت زبیر اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا اور فرمایا: جاؤ، جب تم روضہ خاخ پر پہنچو تو وہاں تمہیں ہودج میں سوار ایک عورت ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہو گا۔ تم نے وہ خط اس سے حاصل کرنا ہے۔چنانچہ ہم روانہ ہوئے اور ہمارے گھوڑے تیزی کے ساتھ ہمیں منزل مقصود کی طرف لے جا رہے تھے۔ آخر جب ہم روضہ خاخ پہنچے تو واقعی وہاں ہم نے ہودج میں سوار ایک عورت کو پایا۔ ہم نے اس سے کہا: خط نکال دو۔ اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا: خط نکال دو بصورت دیگر ہم تیرے کپڑے اتار (کر تیری تلاشی) لیں گے۔ آخر اس نے اپنی چوٹی سے خط نکال کر ہمارے حوالے کر دیا۔ ہم وہ خط لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس خط میں لکھا تھا: حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین کے چند افراد کے نام جو مکہ میں تھے۔ اس خط میں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ (جنگی) تیاری کا ذکر کیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے معاملے میں جلدی نہ فرمائیں، اصل بات یہ ہے کہ میں مکہ میں قریش کے ساتھ بطور حلیف رہا کرتا تھا۔ اس کے برعکس آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کی قریش میں رشتے داریاں ہیں، اس وجہ سے قریش، مکہ میں رہ جانے والے ان کے اہل و عیال اور ان کے مال و متاع کی حفاظت کرتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ جب میرا ان سے کوئی نسبی تعلق نہیں ہے تو اس موقع پر ان پر ایک احسان کر دوں تاکہ اس کی وجہ سے وہ مکہ میں مقیم میرے رشتے داروں کی حفاظت کریں۔ میں نے یہ کام کفر یا اپنے دین سے برگشتہ ہو جانے کی وجہ سے نہیں کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اس نے تم سے سچی بات کہہ دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑا دوں۔ آپ نے فرمایا: یہ بدر کی جنگ میں ہمارے ساتھ شریک تھے۔ تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ تو اہل بدر کے حالات سے مطلع تھا اس کے باوجود اس نے ان کے متعلق فرما دیا: جو جی چاہے کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔ (راوی حدیث) عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ﴾ [سورة الممتحنة: 1] سفیان بن عیینہ نے کہا: مجھے اس کا علم نہیں کہ اس آیت کا ذکر حدیث کا حصہ ہے یا عمرو بن دینار کا اپنا قول ہے۔ سفیان بن عیینہ سے پوچھا گیا: کیا ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ﴾ [سورة الممتحنة: 1] حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے متعلق نازل ہوئی تھی؟ سفیان نے جواب دیا: لوگوں کی روایت میں تو اسی طرح ہے لیکن میں نے عمرو بن دینار سے جو حدیث یاد کی ہے، اس میں سے ایک حرف بھی میں نے نہیں چھوڑا اور میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا کسی اور نے عمرو کی حدیث کو زیادہ یاد رکھا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4890]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6259
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ بُهْلُولٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، والزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ، فَقَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ"، قَالَ: فَأَدْرَكْنَاهَا تَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهَا، حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ؟ قَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَأَنَخْنَا بِهَا فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا، فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا، قَالَ صَاحِبَايَ: مَا نَرَى كِتَابًا، قَالَ: قُلْتُ: لَقَدْ عَلِمْتُ مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ، أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَتِ الْجِدَّ مِنِّي، أَهْوَتْ بِيَدِهَا إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ، فَأَخْرَجَتِ الْكِتَابَ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ يَا حَاطِبُ عَلَى مَا صَنَعْتَ"، قَالَ: مَا بِي إِلَّا أَنْ أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَا غَيَّرْتُ، وَلَا بَدَّلْتُ، أَرَدْتُ أَنْ تَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي، وَلَيْسَ مِنْ أَصْحَابِكَ هُنَاكَ إِلَّا وَلَهُ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، قَالَ:" صَدَقَ فَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا"، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، فَدَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، قَالَ: فَقَالَ:" يَا عُمَرُ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ"، فَقَالَ:" اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ"، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَا عُمَرَ، وَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
ہم سے یوسف بن بہلول نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر بن عوام اور ابومرثد غنوی کو بھیجا۔ ہم سب گھوڑ سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور جب روضہ خاخ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکین کی ایک عورت ملے گی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکین کے پاس بھیجا گیا ہے (اسے لے آؤ)۔ بیان کیا کہ ہم نے اس عورت کو پا لیا وہ اپنے اونٹ پر جا رہی تھی اور وہیں پر ملی (جہاں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ بیان کیا کہ ہم نے اس سے کہا کہ خط جو تم ساتھ لے جا رہی ہو وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے کجاوہ میں تلاشی لی لیکن ہمیں کوئی چیز نہیں ملی۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں کوئی خط تو نظر آتا نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے کہا، مجھے یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں کہی ہے۔ قسم ہے اس کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے، تم خط نکالو ورنہ میں تمہیں ننگا کر دوں گا۔ بیان کیا کہ جب اس عورت نے دیکھا کہ میں واقعی اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو اس نے ازار باندھنے کی جگہ کی طرف ہاتھ بڑھایا، وہ ایک چادر ازار کے طور پر باندھے ہوئے تھی اور خط نکالا۔ بیان کیا کہ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ حاطب تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ میں اب بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔ میرے اندر کوئی تغیر و تبدیلی نہیں آئی ہے، میرا مقصد (خط بھیجنے سے) صرف یہ تھا کہ (قریش پر آپ کی فوج کشی کی اطلاع دوں اور اس طرح) میرا ان لوگوں پر احسان ہو جائے اور اس کی وجہ سے اللہ میرے اہل اور مال کی طرف سے (ان سے) مدافعت کرائے۔ آپ کے جتنے مہاجر صحابہ ہیں ان کے مکہ مکرمہ میں ایسے افراد ہیں جن کے ذریعہ اللہ ان کے مال اور ان کے گھر والوں کی حفاظت کرائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہ دیا ہے اب تم لوگ ان کے بارے میں سوا بھلائی کے اور کچھ نہ کہو بیان کیا کہ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شخص نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی، مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! تمہیں کیا معلوم، اللہ تعالیٰ بدر کی لڑائی میں شریک صحابہ کی زندگی پر مطلع تھا اور اس کے باوجود فرمایا کہ تم جو چاہو کرو، تمہارے لیے جنت لکھ دی گئی ہے، بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک آلود ہو گئیں اور عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 6259]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو مرثد غنویٰ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، ہم تینوں گھوڑوں پر سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور روضہ خاخ پہنچو، وہاں تمہیں ایک مشرکہ عورت ملے گی، اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو انہوں نے مشرکین کے نام لکھا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے وہاں ایک عورت کو پا لیا جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر جا رہی تھی، وہ ہمیں اسی مقام پر ملی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، ہم نے اس سے کہا: جو خط تم اپنے ساتھ لے جا رہی ہو وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے کجاوے میں اسے تلاش کرنا شروع کر دیا لیکن تلاشِ بسیار کے باوجود وہ دستیاب نہ ہو سکا، میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں تو کوئی خط وغیرہ نظر نہیں آیا۔ میں نے کہا: مجھے یقین ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں کہی، اس ذات کی قسم جس کے نام پر قسم اٹھائی جاتی ہے! تم خط نکالو بصورتِ دیگر ہم تجھے ننگا کر کے خط برآمد کریں گے۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ میں نے ہاتھ بڑھائے جبکہ وہ چادر باندھے ہوئے تھی تو اس نے خط نکال کر دے دیا۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہ خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے عرض کی: میں اب بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں، میرے اندر کوئی تغیر و تبدیلی نہیں آئی، میرا مقصد صرف یہ تھا کہ میرا اہل مکہ پر کچھ احسان ہو جائے تاکہ اس کے سبب اللہ تعالیٰ میرے اہل و عیال اور مال و متاع کی نگرانی فرمائے، آپ کے جتنے اصحاب ہیں ان کے مکہ مکرمہ میں ایسے افراد موجود ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان کے مال اور اہل و عیال کی حفاظت فرماتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے، اب تم لوگ اس کے متعلق بھلائی اور خیر سگالی کے علاوہ کچھ نہ کہو۔ یہ سن کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان سے خیانت کی ہے، آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تمہیں کیا معلوم؟ یقیناً اللہ تعالیٰ اہل بدر کی زندگی پر مطلع تھا، اس کے باوجود اس نے کہا: تم جو چاہو کرو، تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 6259]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6939
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ فُلَانٍ، قَالَ: تَنَازَعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَحِبَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لِحِبَّانَ: لَقَدْ عَلِمْتُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ عَلَى الدِّمَاءِ، يَعْنِي عَلِيًّا، قَالَ: مَا هُوَ لَا أَبَا لَكَ، قَالَ: شَيْءٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ، قَالَ: مَا هُوَ؟، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالزُّبَيْرَ، وَأَبَا مَرْثَدٍ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ، قَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ حَاجٍ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: هَكَذَا قَالَ أَبُو عَوَانَةَ، حَاجٍ: فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَأْتُونِي بِهَا، فَانْطَلَقْنَا عَلَى أَفْرَاسِنَا حَتَّى أَدْرَكْنَاهَا حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسِيرُ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، وَقَدْ كَانَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِمَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَقُلْنَا: أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ؟، قَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَأَنَخْنَا بِهَا بَعِيرَهَا، فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا، فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا، فَقَالَ صَاحِبَايَ: مَا نَرَى مَعَهَا كِتَابًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَقَدْ عَلِمْنَا مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَلَفَ عَلِيٌّ: وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ، أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ، فَأَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ، فَأَخْرَجَتِ الصَّحِيفَةَ، فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا حَاطِبُ مَا حَمَلكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي أَنْ لَا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ يَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يُدْفَعُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي، وَلَيْسَ مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَهُ هُنَالِكَ مِنْ قَوْمِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، قَالَ: صَدَقَ، لَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: فَعَادَ عُمَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، دَعْنِي فَلِأَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ: أَوَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ أَوْجَبْتُ لَكُمُ الْجَنَّةَ، فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ"، فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: خَاخٍ أَصَحُّ، وَلَكِنْ كَذَا، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ: حَاجٍ وَحَاجٍ تَصْحِيفٌ، وَهُوَ مَوْضِعٌ، وَهُشَيْمٌ، يَقُولُ خَاخٍ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح شکری نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن سلمی نے، ان سے فلاں شخص (سعید بن عبیدہ) نے کہ ابوعبدالرحمٰن اور حبان بن عطیہ کا آپس میں اختلاف ہوا۔ ابوعبدالرحمٰن نے حبان سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے ساتھی خون بہانے میں کس قدر جری ہو گئے ہیں۔ ان کا اشارہ علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھا اس پر حبان نے کہا انہوں نے کیا کیا ہے، تیرا باپ نہیں۔ ابوعبدالرحمٰن نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ مجھے، زبیر اور ابومرثد رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا اور ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور جب روضہ خاخ پر پہنچو (جو مدینہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے) ابوسلمہ نے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے خاخ کے بدلے حاج کہا ہے۔ تو وہاں تمہیں ایک عورت (سارہ نامی) ملے گی اور اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکین مکہ کو لکھا گیا ہے تم وہ خط میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ ہم اپنے گھوڑوں پر دوڑے اور ہم نے اسے وہیں پکڑا جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ وہ عورت اپنے اونٹ پر سوار جا رہی تھی حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کو آنے کی خبر دی تھی۔ ہم نے اس عورت سے کہا کہ تمہارے پاس وہ خط کہاں ہے اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ہم نے اس کا اونٹ بٹھا دیا اور اس کے کجاوہ کی تلاشی لی لیکن اس میں کوئی خط نہیں ملا۔ میرے ساتھی نے کہا کہ اس کے پاس کوئی خط نہیں معلوم ہوتا۔ راوی نے بیان کیا کہ ہمیں یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں فرمائی پھر علی رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے خط نکال دے ورنہ میں تجھے ننگی کروں گا اب وہ عورت اپنے نیفے کی طرف جھکی اس نے ایک چادر کمر پر باندھ رکھی تھی اور خط نکالا۔ اس کے بعد یہ لوگ خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی ہے، مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، حاطب! تم نے ایسا کیوں کیا؟ حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! بھلا کیا مجھ سے یہ ممکن ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ رکھوں میرا مطلب اس خط کے لکھنے سے صرف یہ تھا کہ میرا ایک احسان مکہ والوں پر ہو جائے جس کی وجہ سے میں اپنی جائیداد اور بال بچوں کو (ان کے ہاتھ سے) بچا لوں۔ بات یہ ہے کہ آپ کے اصحاب میں کوئی ایسا نہیں جس کے مکہ میں ان کی قوم میں کے ایسے لوگ نہ ہوں جس کی وجہ سے اللہ ان کے بچوں اور جائیداد پر کوئی آفت نہیں آنے دیتا۔ مگر میرا وہاں کوئی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاطب نے سچ کہا ہے۔ بھلائی کے سوا ان کے بارے میں اور کچھ نہ کہو۔ بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی ہے۔ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے نہیں ہیں؟ تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے واقف تھا اور پھر فرمایا کہ جو چاہو کرو میں نے جنت تمہارے لیے لکھ دی ہے اس پر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں (خوشی سے) آنسو بھر آئے اور عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو حقیقت کا زیادہ علم ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ «خاخ» زیادہ صحیح ہے لیکن ابوعوانہ نے «حاج» ہی بیان کیا ہے اور لفظ «حاج» بدلا ہوا ہے یہ ایک جگہ کا نام ہے اور ہشیم نے «خاخ» بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 6939]
سعد بن عبیدہ سلمی سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابو عبدالرحمن اور حبان بن عطیہ کا آپس میں اختلاف ہوا۔ اس دوران میں حضرت ابو عبدالرحمن نے حبان سے کہا: مجھے معلوم ہے کہ آپ کے ساتھی کو کس چیز نے خونریزی پر دلیر کیا ہے۔ اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ حبان نے کہا: تیرا باپ نہ ہو! وہ کیا ہے؟ حضرت ابو عبدالرحمن نے کہا: میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد رضی اللہ عنہم کو ایک مہم کے لیے بھیجا جبکہ ہم گھوڑوں پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور روضہ حاج پہنچو۔ ابو اسلمہ نے کہا: ابو عوانہ نے اسی طرح (روضہ خاخ کے بجائے روضہ) حاج کہا ہے۔ وہاں ایک عورت ہے، اس کے پاس حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا ایک خط ہے جو اس نے مشرکین مکہ کے نام لکھا ہے۔ تم وہ (خط) میرے پاس لاؤ۔ ہم اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر دوڑ پڑے، چنانچہ ہم نے اسے اسی جگہ پایا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ وہ عورت اپنے اونٹ پر سوار ہو کر جا رہی تھی۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع دی تھی۔ ہم نے اس عورت سے کہا: تمہارے پاس وہ خط کہاں ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے اس کی سواری بٹھائی اور اس کے سامان کی تلاشی لی لیکن ہمیں اس میں کوئی خط نہ ملا۔ میرے ساتھی نے کہا: اس کے پاس تو کوئی خط معلوم نہیں ہوتا۔ (حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں نے کہا: ہمیں یقین ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں کہی۔ پھر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی: اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم اٹھائی جاتی ہے! خط نکال دے بصورت دیگر میں تجھے ضرور بالضرور ننگا کر دوں گا۔ پھر وہ عورت اپنی چادر کے بند کی طرف جھکی۔ اس نے اپنی ایک چادر اپنی کمر پر باندھ رکھی تھی۔ اس نے وہاں سے خط نکالا، چنانچہ وہ لوگ خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حالات دیکھ کر عرض کی: اللہ کے رسول! یقیناً اس نے اللہ سے، اس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی ہے۔ آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! جو کچھ تو نے کیا ہے، اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا مجھ سے یہ ممکن ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخلص نہ ہوں؟ میرا ارادہ صرف یہ تھا کہ میرا اہل مکہ پر ایک احسان ہو جائے جس کی وجہ سے میں اپنی جائیداد اور اپنے بال بچوں کو محفوظ کر لوں۔ دراصل بات یہ ہے کہ آپ کے اصحاب میں سے ایسے لوگ نہیں جن کے رشتہ دار مکہ میں نہ ہوں، جن کی وجہ سے اللہ ان کے بچوں اور جائیداد پر کوئی آفت نہیں آنے دیتا، البتہ میرا ایسا عزیز وہاں کوئی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حاطب نے سچ کہا ہے۔ اسے بھلائی کے علاوہ کچھ نہ کہو۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دوبارہ عرض کی: اللہ کے رسول! اس نے اللہ سے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان سے خیانت کا ارتکاب کیا ہے مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس کی گردن ماروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ اہل بدر سے نہیں؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے واقف تھا، اس نے ان کے متعلق فرمایا ہے: «اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ» تم جو چاہو کرو، میں نے تمہارے لیے جنت لکھ دی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی حقیقت حال سے زیادہ واقف ہیں۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: حدیث میں «خَاخ» ہی زیادہ صحیح ہے لیکن ابو عوانہ نے «حَاج» ہی کہا ہے، اور لفظ «حَاج» تصحیف ہے، یہ ایک جگہ کا نام ہے، راویِ حدیث ہشیم نے «خَاخ» ہی بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 6939]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں