صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب قوله: {ما ننسخ من آية أو ننسأها} :
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد «ما ننسخ من آية أو ننسأها» الآیۃ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4481
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حَبِيبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَقْرَؤُنَا أُبَيٌّ، وَأَقْضَانَا عَلِيٌّ وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَيٍّ وَذَاكَ أَنَّ أُبَيًّا، يَقُولُ: لَا أَدَعُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا سورة البقرة آية 106.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے حبیب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم میں سب سے بہتر قاری قرآن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سب سے زیادہ علی رضی اللہ عنہ میں قضاء یعنی فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس کے باوجود ہم ابی رضی اللہ عنہ کی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے جو ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جن آیات کی بھی تلاوت سنی ہے، میں انہیں نہیں چھوڑ سکتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے «ما ننسخ من آية أو ننسأها» الخ کہ ”ہم نے جو آیت بھی منسوخ کی یا اسے بھلایا تو پھر اس سے اچھی آیت لائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4481]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم میں قرآن کے بہترین قاری حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سب سے زیادہ فیصلے کرنے کی صلاحیت حضرت علی رضی اللہ عنہ رکھتے ہیں۔ لیکن (اس کے باوجود) ہم حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں مانتے جو ابی بن کعب کہتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جن آیات کی بھی تلاوت سنی ہے انہیں ترک نہیں کروں گا“، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا﴾ [سورة البقرة: 106] ”جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں، اس سے بہتر یا اس جیسی کوئی اور آیت لے آتے ہیں۔“ (یعنی حضرت ابی رضی اللہ عنہ نسخ کے قائل نہیں جبکہ مذکورہ آیت سے نسخ ثابت ہوتا ہے۔)“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4481]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5005
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ:" أُبَيٌّ أَقْرَؤُنَا، وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ لَحَنِ أُبَيٍّ، وَأُبَيٌّ يَقُولُ: أَخَذْتُهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَتْرُكُهُ لِشَيْءٍ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا سورة البقرة آية 106".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید قطان نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں حبیب بن ابی ثابت نے، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، ابی بن کعب ہم میں سب سے اچھے قاری ہیں لیکن ابی جہاں غلطی کرتے ہیں اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں (وہ بعض منسوخ التلاوۃ آیتوں کو بھی پڑھتے ہیں) اور کہتے ہیں کہ میں نے تو اس آیت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے سنا ہے، میں کسی کے کہنے سے اسے چھوڑنے والا نہیں اور اللہ نے خود فرمایا ہے «ما ننسخ من آية أو ننسأها نأت بخير منها أو مثلها» کہ ”ہم جب کسی آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں پھر یا تو اسے بھلا دیتے ہیں یا اس سے بہتر لاتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 5005]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے بڑے قاری ہیں، لیکن ابی رضی اللہ عنہ جہاں غلطی کرتے ہیں اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے تو قرآن مجید کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سنا ہے، اس لیے میں کسی کے کہنے پر اسے چھوڑنے والا نہیں ہوں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا﴾ [سورة البقرة: 106] ”ہم جو بھی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلاتے ہیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لے آتے ہیں۔“” [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 5005]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة