صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ: {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} :
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو خیال تمہارے دلوں کے اندر چھپا ہوا ہے اگر تم اس کو ظاہر کر دو یا اسے چھپائے رکھو ہر حال میں اللہ اس کا حساب تم سے لے گا، پھر جسے چاہے بخش دے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے“۔
حدیث نمبر: 4545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْوَ ابْنُ عُمَرَ ," أَنَّهَا قَدْ نُسِخَتْ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ سورة البقرة آية 284 الْآيَةَ".
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن محمد نفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے مسکین بن بکیر حران نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے خالد حذاء نے، ان سے مروان اصفر نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ آیت «وإن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه» ”اور جو کچھ تمہارے نفسوں کے اندر ہے اگر تم ان کو ظاہر کر ویا چھپائے رکھو۔“ آخر تک منسوخ ہو گی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4545]
حضرت مروان اصفر سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی، یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ”آیت کریمہ: ﴿خواہ تم اپنے خیال کو ظاہر کر دو یا چھپائے رکھو﴾ [سورة البقرة: 284] منسوخ ہو چکی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4545]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4546
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ , أَخْبَرَنَا رَوْحٌ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: أَحْسِبُهُ ابْنَ عُمَرَ ," وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ سورة البقرة آية 284 , قَالَ: نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا".
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں مروان اصفر نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے، کہا کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ انہوں نے آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه» کے متعلق بتلایا کہ اس آیت کو اس کے بعد کی آیت ( «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها») نے منسوخ کر دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4546]
حضرت مروان اصفر رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک سے بیان کرتے ہیں (میرے خیال کے مطابق وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں) انہوں نے فرمایا: ” ﴿وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ﴾ [سورة البقرة: 284] کو اس کے بعد والی آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4546]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة